حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تحریک بیداری امت مصطفیٰ شعبہ قم کے تحت جاری علمی روابط کے سلسلے میں، شعبۂ تعلقاتِ عامہ مرکز تحقیقات اسلامی بعثت قم کی خصوصی دعوت پر حوزۃ المصطفیٰ العالمیہ کے مدیرِ گروہ فقہِ سیاسی اور مؤسسہ پژوهشی امام خمینی(رہ) کے عضوِ علمی و گروہِ علومِ سیاسی کے رکن حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر قاسم شبان نیا نے 11 اکتوبر 2026ء، بروز اتوار، مرکز تحقیقات اسلامی بعثت قم کا دورہ کیا اور ادارے کے ذمہ داران سے ملاقات کی۔
اس ملاقات میں علمی، فکری، تحقیقی اور ثقافتی شعبوں میں باہمی روابط کے فروغ، مشترکہ علمی سرگرمیوں کے امکانات اور اسلامی فکر و نظریات سے استفادے کے طریقۂ کار پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
گفتگو کا ایک اہم محور استاد آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی (رہ) کے فکری منظومے اور اسلامی علوم و معارف کے جامع نظامِ فکر سے آشنائی حاصل کرنے، ان مباحث پر علمی تسلط پیدا کرنے اور ان سے عالمِ اسلام، بالخصوص پاکستان میں استفادہ کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔

علمی و تحقیقی روابط کے فروغ پر زور
ملاقات میں اس امر کو بنیادی اہمیت دی گئی کہ مرکز تحقیقات اسلامی بعثت قم اور علمی و حوزوی اداروں کے درمیان ایسے روابط قائم کیے جائیں جو محض رسمی ملاقاتوں تک محدود نہ ہوں بلکہ ان کے نتیجے میں علمی تبادلے، فکری مباحث، تحقیقی تعاون اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے عملی راستے ہموار ہوں۔
اس تناظر میں علمی و تحقیقی تعاون کے ایسے امکانات پر گفتگو ہوئی جن کے ذریعے دونوں اداروں کی علمی استعداد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی علوم و معارف کی ترویج اور فکری مباحث کو مزید وسعت دی جا سکے۔
آیت اللہ مصباح یزدی (رہ) کے فکری نظام سے آشنائی
ملاقات کے دوران استاد آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی (رہ) کے فکری منظومے اور جامع اسلامی نظامِ فکر سے منظم انداز میں آشنائی حاصل کرنے کا موضوع خصوصی اہمیت کا حامل رہا۔ اس حوالے سے اس امر پر توجہ مرکوز کی گئی کہ ان کے افکار و نظریات کا مطالعہ کس طرح منظم علمی طریقۂ کار کے تحت کیا جا سکتا ہے، متعلقہ مباحث میں گہری بصیرت اور علمی مہارت کس طرح پیدا کی جا سکتی ہے اور ان معارف کو تدریس، تحقیق اور علمی مکالمے کے ذریعے آگے بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
اس موضوع کی اہمیت اس پہلو سے بھی نمایاں ہے کہ اسلامی فکر و نظریات کے مطالعے کو محض نظری مباحث تک محدود رکھنے کے بجائے اسے علمی تحقیق، فکری تربیت اور معاشرے کی فکری ضروریات سے مربوط کیا جائے، تاکہ ان مباحث سے مؤثر علمی استفادہ ممکن ہو سکے۔

پاکستان میں علمی و فکری استفادے کے امکانات
گفتگو کا ایک اہم پہلو ان علمی مباحث اور فکری سرمایہ کو پاکستان میں متعارف کرانے اور وہاں کے علمی و دینی حلقوں تک پہنچانے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔ اس سلسلے میں پاکستان کی علمی، حوزوی اور ثقافتی فضا میں اسلامی فکر و معارف سے استفادے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس تناظر میں علمی روابط کو وسعت دینے، تحقیقی موضوعات پر باہمی تعاون اور فکری مباحث سے استفادے کے لیے مناسب علمی طریقۂ کار اختیار کرنے کی اہمیت اجاگر ہوئی، تاکہ ایران اور پاکستان کے علمی و دینی حلقوں کے درمیان تعاون کے نئے امکانات پیدا کیے جا سکیں۔
تحریک بیداری امت مصطفیٰ شعبہ قم کی علمی سرگرمیاں
یہ ملاقات تحریک بیداری امت مصطفیٰ شعبہ قم کی جانب سے علمی و فکری روابط کے فروغ اور اسلامی معارف سے استفادے کی کوششوں کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔ ایسے روابط کے ذریعے علمی شخصیات، تحقیقی اداروں اور حوزوی مراکز کے درمیان مکالمے اور تعاون کی راہیں ہموار کی جا سکتی ہیں۔
ملاقات کا بنیادی مقصد علمی، فکری، تحقیقی اور ثقافتی میدانوں میں تعاون کے امکانات کو سمجھنا اور بالخصوص آیت اللہ مصباح یزدی (رہ) کے فکری نظام سے منظم استفادے کے ذریعے پاکستان میں علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مناسب بنیاد فراہم کرنا تھا۔










آپ کا تبصرہ