حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، “تبلیغ” تعلیمی و تحقیقی کمپلیکس کے مسئول حجۃ الاسلام والمسلمین ملانوری نے حوزاتِ علمیہ کے شعبۂ تعلیم کے سرپرست اور تعلیمی اساتذہ و ماہرین کے ساتھ منعقدہ مشاورتی نشست میں حوزاتِ علمیہ سے معاشرے کی توقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: عوام کی ان افراد سے اہم ترین توقعات میں سے ایک، جو حوزاتِ علمیہ میں داخل ہوتے ہیں، یہ ہے کہ وہ دین کے مبلغ کی حیثیت سے مختلف پہلوؤں اور میدانوں میں اسلامی معارف کو معاشرے تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
انہوں نے حوزاتِ علمیہ کی تعلیمی پالیسی سازی میں ملکی تبلیغی ضروریات پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مزید کہا: نظامِ تعلیم کو اس انداز میں ترتیب دیا جائے کہ طلبہ بنیادی علوم حاصل کرنے اور مناسب علمی استعداد پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے درمیان حاضر ہونے اور دینی معارف کو بہتر انداز سے بیان کرنے کی ضروری صلاحیت بھی حاصل کریں۔
“تبلیغ” تعلیمی و تحقیقی کمپلیکس کے مسئول نے ملک میں دینی تبلیغ کے میدان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مبلغین کی سرگرمیوں کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد عمومی تبلیغ کے میدان میں کام کرتی ہے جبکہ تخصصی تبلیغ کا تناسب نسبتاً محدود ہے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ حوزاتِ علمیہ کے نظامِ تعلیم کی تشکیل میں قابلِ غور نمونوں میں سے ایک یہ ہے کہ عمومی مبلغین کی تربیت کے لیے ایک مخصوص تعلیمی دورانیہ مقرر کیا جائے۔ اس دوران طلبہ بنیادی علوم حاصل کرنے اور ضروری علمی استعداد پیدا کرنے کے ساتھ عمومی تبلیغ کے لیے درکار مہارتیں اور صلاحیتیں بھی حاصل کریں۔
حجۃ الاسلام والمسلمین ملانوری نے مزید کہا: حوزاتِ علمیہ کے نظامِ تعلیم کو معاشرے کے حقائق اور ضروریات کے مطابق ازسرِنو ترتیب دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: عمومی مبلغین کی تربیت کو تخصصی شعبوں سے الگ کرنے سے تعلیمی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں منظم کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور مختلف میدانوں میں طلبہ کی علمی استعداد سے زیادہ مؤثر استفادہ کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔










آپ کا تبصرہ