حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کی سپریم کونسل کے سیکرٹری حجۃ الاسلام والمسلمین احمد فرخ فال نے حوزات علمیہ صوبہ ہرمزگان کے کے سربراہان اور حوزہ علمیہ ہرمزگان کی انتظامیہ کمیٹی کے ذمہ داروں سے ملاقات میں کہا کہ حوزہ علمیہ بعثتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شروع ہونے والے مشن کا تسلسل ہے اور اس کا بنیادی فریضہ اسلامی شریعت کی حفاظت اور اس کی تبلیغ کے لیے باصلاحیت افراد کی تربیت کرنا ہے۔
انہوں نے نئے تعلیمی سال کے آغاز کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ انقلاب کی شہادت کا غم ایسا صدمہ ہے جس کا جلدی ختم ہونا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق اس غم کا ایک حقیقی مداوا حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا ظہور ہے، کیونکہ ان کے ظہور سے شیاطین اور مستکبرین ذلیل و خوار ہوں گے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین فرخ فال نے کہا: "ہم شہداء کے خون کا بدلہ جب استکبار سے لیں گے تبھی ہمارے دلوں کو سکون ملے گا۔" انہوں نے مزید کہا کہ امام زمانہ (عج) کی عنایت سے دشمنوں کو خوشی کا دن نصیب نہیں ہوگا اور وہ سمجھ جائیں گے کہ رہبرِ انقلاب کو شہید کرکے انہوں نے اپنے لیے مشکلات میں اضافہ اور اپنے زوال کی رفتار تیز کردی ہے۔
انہوں نے عصرِ غیبت میں حوزات علمیہ کی ذمہ داری کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آج حوزہ علمیہ جو کام انجام دے رہا ہے، وہ انبیائے الٰہی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کا تسلسل ہے۔
شریعت کی حفاظت حوزہ علمیہ کی بنیادی ذمہ داری
انہوں نے کہا کہ حوزہ علمیہ کا بنیادی کام شریعت محمدی کی حفاظت ہے اور یہ ادارہ ایسے باصلاحیت انسانوں کی تربیت گاہ ہے جو اہل بیت علیہم السلام کے معارف حاصل کرکے دین کی حفاظت اور تبلیغ کی ذمہ داری ادا کرسکیں۔
حوزہ علمیہ قم کے استاد نے طلبہ وہ کی تربیت میں معنویت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اساتذہ اور مدارس کے مدیران کا کردار، عمل اور لوگوں کے ساتھ ان کا طرزِ تعلق ایسا ہونا چاہیے کہ طلبہ ان کے عملی رویے سے معنویت اور دینی ذمہ داری کا درس حاصل کریں۔
انہوں نے ہرمزگان میں جنگی حالات کے باوجود دینی مدارس کی سرگرمیوں کو "افضل الاعمال احمزها" کے مصداق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس راہ میں خدمات انجام دینا بڑی فضیلت کا حامل ہے۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے حوزہ ہائے علمیہ کے بجٹ سے متعلق بعض مسائل اور موجودہ چیلنجز پر بھی گفتگو کی۔
اس موقع پر حوزہ علمیہ ہرمزگان کے مدیر حجۃ الاسلام والمسلمین نادر حقیقی نے نئے تعلیمی سال کے آغاز کے حوالے سے کہا کہ صوبے میں جنگی حالات کے باوجود دینی مدارس میں باقاعدہ حضوری کلاسز کا آغاز کردیا گیا ہے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین حقیقی نے صوبے کے جنگی حالات کے پیش نظر طلبہ کے غذائی اخراجات میں اضافہ اور اساتذہ و مدیران کے لیے رہائشی سہولیات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔










آپ کا تبصرہ