حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرآة البحرین نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ بحرین میں شیعوں سے متعلق اسلامی مناسبتوں کے موقع پر حکومت سخت اقدامات کرتی ہے، حالانکہ ان تقریبات کا انعقاد بحرینی عوام کئی دہائیوں سے کرتے آ رہے ہیں۔ اس کے برعکس، دیگر ثقافتوں سے متعلق تقریبات کو کھلے عام ثقافتی تبادلے کے نام پر فروغ دیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں حال ہی میں بحرین کے الدانہ تجارتی مرکز میں مسلسل تیسرے سال منعقد ہونے والے جاپانی اینیمیشن فلموں کے میلے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سرکاری ذرائع ابلاغ نے اس تقریب کو ثقافتوں کے تبادلے اور دوسری ثقافتوں سے آشنائی کے موقع کے طور پر پیش کیا۔
مرآة البحرین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر حکومت مختلف ثقافتوں کے استقبال اور رواداری پر یقین رکھتی ہے تو شیعوں کی مذہبی روایات اور مجالس کے معاملے میں مختلف رویّہ کیوں اختیار کیا جاتا ہے؟ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بحرین کی اسلامی تاریخ سے جڑی مذہبی تقریبات، حسینی پرچم اور مجالس کے انعقاد کو بھی اسی طرح آزادی ملنی چاہیے جس طرح دیگر تقریبات کو حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مسئلہ ثقافتی تقریبات کے انعقاد یا دوسری ثقافتوں سے آشنائی کا نہیں، بلکہ اس طرزِ عمل کا ہے جس میں بعض تقریبات کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، جبکہ شیعہ مذہبی شعائر کو سکیورٹی کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔
مرآة البحرین نے مطالبہ کیا ہے کہ شیعہ مذہبی شعائر، مجالس، مذہبی خطیبوں اور ذاکرین کے ساتھ ایسا رویّہ اختیار کیا جائے جو مذہبی آزادی اور رواداری کے اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔










آپ کا تبصرہ