حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں بحرین کے سفیر عبداللہ بن راشد آل خلیفہ نے 4 اکتوبر 2026 کو روزنامہ «الایام» سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے خلاف حملوں کے دوران امریکہ کے ساتھ اپنے ملک کے قریبی تعاون کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ شراکت داری اور قریبی رابطوں نے ایران کے حملوں کے امتحان کا کامیابی سے سامنا کیا ہے۔
مرآة البحرین کے مطابق، بحرین کے حکام کے ان بیانات نے امریکہ کے ساتھ فوجی تعاون کے نتائج اور اس کے عوام کی سلامتی پر اثرات کے حوالے سے سوالات پیدا کیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی اڈوں اور فوجی دستوں کی موجودگی بحرین کو خطے کے تنازعات کے اثرات سے دوچار کر سکتی ہے۔
فوجی تعاون؛ سلامتی کی ضمانت یا خطرات میں اضافہ؟؟
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بحرین کی حکومت امریکہ کو اپنی سلامتی کا اہم سہارا سمجھتی ہے، لیکن ناقدین کے نزدیک اس پالیسی سے ملک علاقائی فوجی کشیدگی کی زد میں آ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ کے ساتھ فوجی تعاون عوام کے لیے خطرات کم کرتا ہے یا ملک کو ایسے تنازعات میں مزید الجھاتا ہے جن کے فیصلوں میں بحرین کے شہریوں کا کوئی کردار نہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کا اندازہ صرف فوجی معاہدوں، امریکہ کے ساتھ رابطوں یا میزائل روکنے کی صلاحیت سے نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ حکومت اپنے ملک کو ایسے تنازعات سے کس حد تک محفوظ رکھ سکتی ہے جن کی بھاری قیمت عوام کو ادا کرنا پڑے۔
مرآة البحرین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر حالیہ حملوں کے بعد امریکہ کے ساتھ فوجی تعاون پر نظرثانی کرنے کے بجائے اسے مزید وسعت دی جاتی ہے تو کیا اس سے بحرین کے عوام کی سلامتی یقینی ہو سکے گی؟ رپورٹ کے مطابق، حکومت کی ذمہ داری صرف حملوں کا دفاع کرنا نہیں، بلکہ ملک کو خطرات سے بچانا اور عوام کی سلامتی کو ترجیح دینا بھی ہے۔










آپ کا تبصرہ