حوزہ نیوز ایجنسی: امریکی نیوز ویب سائٹ Axios کے مطابق امریکہ، اسرائیل اور سات عرب ممالک کے اعلیٰ فوجی سربراہان نے گزشتہ ہفتے جرمنی میں ایک غیر اعلانیہ اجلاس کیا، جس میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مزید Axios نے دو اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ یہ اجلاس امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے منعقد کیا۔
اجلاس میں اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، اردن اور مصر کے فوجی سربراہان شریک ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق، ایڈمرل بریڈ کوپر نے شرکاء کو یقین دلایا کہ ایران کی جانب سے امریکی اڈوں پر حملوں کے باوجود امریکہ خطے سے اپنی فوجی موجودگی ختم نہیں کرے گا۔
انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت بڑھانے کے امریکی منصوبے پر بھی بریفنگ دی۔
غاصب اسرائیلی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے اجلاس کے شرکاء کو مختلف محاذوں پر اسرائیلی فوج کی کاروائیوں سے آگاہ کیا۔
اہم بات یہ ہے کہ اس اجلاس کی خبر سامنے آنے سے پہلے کسی شریک ملک نے اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا۔
تاہم بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی میں ایک طے شدہ کانفرنس کے دوران آٹھ ممالک کے اعلیٰ فوجی رہنماؤں کی میزبانی کی گئی، جہاں مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی تعاون بڑھانے کے مواقع پر تبادلہ خیال ہوا۔









آپ کا تبصرہ