جمعرات 17 ستمبر 2026 - 10:27
مکہ کو نشانہ بنانے کا سعودی دعویٰ عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش ہے: یمنی عہدیدار

حوزہ/ یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی محمد المشاط نے مکہ مکرمہ کو یمنی حملے کا نشانہ بنائے جانے سے متعلق سعودی عرب کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان قوموں کو گمراہ کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے جو اس حکومت کی حقیقت سے آگاہ ہوچکی ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی محمد المشاط نے مکہ مکرمہ کو یمنی حملے کا نشانہ بنائے جانے سے متعلق سعودی عرب کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان قوموں کو گمراہ کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے جو اس حکومت کی حقیقت سے آگاہ ہوچکی ہیں۔

مہدی محمد المشاط نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ سعودی حکومت کا یہ دعویٰ کہ یمن نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنایا، ایک بے بنیاد کوشش ہے جس کا مقصد ان قوموں کو ورغلانا ہے جو اب اس حکومت کے اقدامات کی حقیقت کو سمجھ چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یمنی عوام اسلامی مقدسات کے حوالے سے ایمان اور وفاداری کے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں اور بیت اللہ الحرام کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں، جس طرح انہوں نے مسجد الاقصیٰ کی حمایت کے لیے میدان جنگ میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

المشاط نے کہا کہ اسلامی مقدسات کی توہین، خواہ قرآن کریم کی ہو، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی، مکہ مکرمہ کی یا مسجد الاقصیٰ کی، یمنی عوام کو ہمیشہ میدان میں آنے پر آمادہ کرتی رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہتر ہوتا کہ سعودی حکومت اس وقت اسلامی ممالک کے عوام کو متحرک کرتی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کعبہ کی توہین کی اور اسے ایسے انداز میں پیش کیا جو اس کے تقدس کے شایانِ شان نہیں تھا۔

المشاط نے الزام عائد کیا کہ جس شخص نے کعبہ شریف کا غلاف جیفری ایپسٹین کو تحفے میں دیا، وہی مکہ مکرمہ اور اسلامی مقدسات کو نشانہ بنانے والا ہے۔

یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ نے کہا کہ عرب اور اسلامی ممالک کے عوام اب ایسے جھوٹے دعووں سے متاثر نہیں ہوں گے، جس طرح اس سے قبل بین الاقوامی بحری آمدورفت کو لاحق خطرات سے متعلق دعوے بھی ان پر اثر انداز نہیں ہوئے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha