جمعرات 17 ستمبر 2026 - 10:39
مکہ مکرمہ کے خلاف سازشوں کے پیچھے اسرائیل نواز قوتیں ہیں: یمنی نائب وزیر خارجہ

حوزہ/ یمن کے نائب وزیر خارجہ عبدالواحد ابوراس نے کہا ہے کہ جو قوتیں اسرائیلی حکومت سے تعلقات قائم کرتی ہیں، وہی اسلامی مقدسات کو نشانہ بنانے کے درپے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عبدالواحد ابوراس نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اسرائیلی حکومت سے روابط رکھتے ہیں، وہی اسلامی مقدسات کو نشانہ بناتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس شخص نے مجرم جیفری ایپسٹین کو خانۂ کعبہ کا غلاف تحفے میں دیا، وہی براہِ راست اس ہدف بندی میں ملوث ہے۔

یمنی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ حرمین شریفین کی سرزمین میں تفریح اور عیاشی کے مراکز کو فروغ دینا، وہاں صہیونی یہودیوں کی موجودگی اور اسرائیلی حکومت کے ساتھ خفیہ و علانیہ تعلقات قائم کرنا، مکہ مکرمہ، مسجد الاقصیٰ اور تمام اسلامی مقدسات کے لیے براہِ راست اور واضح خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمنی عوام کا موقف اسلامی مقدسات کے دفاع کے حوالے سے واضح اور مستقل ہے اور لاکھوں افراد مختلف مواقع پر مقدسات اسلامی کے دفاع کے لیے میدان میں آتے رہے ہیں۔

عبدالواحد ابوراس نے قرآن کریم، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، مکہ مکرمہ اور مسجد الاقصیٰ کی توہین کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت کے ساتھ یمن کے اختلافات میں ایک مسئلہ اسلامی مقدسات کی بے حرمتی اور امت مسلمہ کے دشمنوں کی حمایت بھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں کوئی قوم اسلامی مقدسات کی توہین اور ان کو نقصان پہنچانے کے معاملے میں یمنی عوام جتنی غیرت اور حساسیت کا مظاہرہ نہیں کرتی۔

یمنی نائب وزیر خارجہ نے آخر میں کہا کہ صہیونی ذرائع کو انصار اللہ کے فرزندوں کو نشانہ بنانے کے لیے کوئی اور بہانہ تلاش کرنا چاہیے، کیونکہ موجودہ مؤقف اور تاریخی شواہد کے برخلاف ایسے دعوے قابلِ قبول نہیں ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha