حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایک باخبر شامی ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ ہزاروں شامی مسلح افراد کو یمن کی جنگ میں شامل کرنے کے لیے ایک خفیہ سکیورٹی اجلاس میں معاہدہ کیا گیا ہے۔
المعلومہ کے حوالے سے موصولہ رپورٹ کے مطابق، اس اجلاس میں امریکی سکیورٹی حکام، امریکی صدر کے نمائندے ٹام بارک، سعودی عرب اور ترکی کے سکیورٹی حکام کے علاوہ شام کی جانب سے فوج کے سربراہ علی النعسان، وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور ابوبکر حمصی نامی ایک شخص نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق، اجلاس میں 3500 شامی مسلح افراد کو مرحلہ وار یمن منتقل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں 1200 مسلح افراد بھیجے جائیں گے، جبکہ باقی افراد کو دو مزید مرحلوں میں منتقل کیا جائے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان افراد کو شام کے ہوائی اڈوں سے پہلے انقرہ منتقل کیا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں سیاحوں کے طور پر ترکی سے سعودی عرب بھیجا جائے گا، جہاں سعودی فریق انہیں مکمل طور پر مسلح اور جنگی سازوسامان سے لیس کرے گا۔
ذرائع نے مزید کہا کہ ان شامی مسلح افراد کو یمن کے محاذوں پر بھیجنے سے پہلے سعودی عرب میں ترکی اور آذربائیجان کے افسران فوجی تربیت دیں گے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تربیت مکمل ہونے کے بعد مذکورہ افراد کو یمن کی جنگ میں شامل کیا جائے گا۔









آپ کا تبصرہ