حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین کے وزیرِ داخلہ راشد بن عبداللہ نے ملک میں شیعہ علماء اور مذہبی شخصیات کے خلاف اقدامات مزید سخت کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ ان کے حالیہ بیانات کے بعد بحرین میں قید علماء کے مقدمات مزید پیچیدہ ہونے اور سخت سزاؤں کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بحرینی وزیرِ داخلہ راشد بن عبداللہ نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’’ولی فقیہ کے نمائندوں نے بحرین کی شیعہ برادری پر غلبہ حاصل کرنے اور حکومتی اداروں اور پارلیمنٹ میں اثر و رسوخ پیدا کرنے کی کوشش کی۔‘‘
بحرینی ذرائع ابلاغ کے مطابق، وزیرِ داخلہ کے اس بیان کو ملک میں قید شیعہ علماء کے خلاف حکومتی اقدامات میں ممکنہ شدت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ علماء اور مذہبی شخصیات کی گرفتاریوں اور ان کے خلاف مقدمات کے باوجود حکومت کی جانب سے ان پالیسیوں میں نرمی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بحرین میں شیعہ مذہبی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوششیں صرف سیاسی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ مذہبی اور دینی امور تک بھی پھیل رہی ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ مذہبی شعائر، دینی تعلیم اور مجالس سے متعلق سرگرمیوں پر دباؤ کا مقصد معاشرے میں شیعہ مذہبی شناخت کے اظہار کو محدود کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بحرینی حکومت کی جانب سے ’’ولایتِ فقیہ‘‘ کے عنوان کو بھی حساسیت کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے اور بعض مذہبی حلقوں میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ مستقبل میں مساجد، دینی درس گاہوں، مجالس اور عزاداری کے اجتماعات میں اس موضوع پر اظہارِ خیال کے لیے مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب، حکومت کی ان پالیسیوں کے ناقدین کا کہنا ہے کہ علماء کے خلاف مسلسل کارروائیاں شیعہ برادری کے اندر مذہبی وابستگی کو کم کرنے کے بجائے اس مسئلے پر مزید مزاحمت پیدا کر سکتی ہیں۔ ان کے بقول، شیعہ مذہبی شخصیات اور ان کی دینی سرگرمیوں کو معاشرے کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے اور اس معاملے میں دباؤ یا گرفتاریوں سے بنیادی مذہبی تصورات تبدیل نہیں ہوں گے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بحرین میں علما اور مذہبی شخصیات کے خلاف مقدمات کا مستقبل اب مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے اور وزیرِ داخلہ کے حالیہ بیانات کے بعد ان مقدمات میں سخت فیصلوں کے امکانات کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔










آپ کا تبصرہ