حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اعظم گڑھ/ جامعہ حضرت زینبؑ اعظم گڑھ میں ایامِ شہادتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مناسبت سے مجلسِ عزاء منعقد ہوئی، جس میں طالبات نے زیارتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی تلاوت کے بعد سلام اور پُرسوز مرثیہ خوانی کے ذریعے فضا کو سوگوار بنا دیا۔
مجلس سے خطاب کرتے ہوئے ذاکرہ زینب رضوی نے کتاب بحار الانوار کے حوالے سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے اسمِ مبارک «زہرا» کی وجہِ تسمیہ بیان کی۔ انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول روایت کی روشنی میں کہا کہ جناب جابر نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو زہرا کیوں کہا جاتا ہے؟
روایت کے مطابق، امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے نور کو ظاہر فرمایا تو زمین و آسمان اس نور سے منوّر ہوگئے۔ فرشتوں نے جب اس نور کی تجلی دیکھی تو بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا کہ پروردگار! یہ کون سا نور ہے جس نے پوری کائنات کو روشن کردیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ میرے نور کا ایک حصہ ہے، جسے میں نے اپنے ایک برگزیدہ نبی کے صلب سے ظاہر کیا ہے؛ وہ نبی تمام انبیاء سے افضل ہیں، اور اس نور کی نسل سے ان کے جانشین پیدا ہوں گے۔ اسی نورانیت کی مناسبت سے انہیں «زہرا» کہا گیا۔
ذاکرہ زینب رضوی نے مزید کہا کہ نورِ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا ہدایت، پاکیزگی اور حق کی روشنی کی علامت ہے، جو انسانیت کو تاریکیوں سے نکال کر صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ تاہم، تاریخ کا ایک نہایت دردناک باب یہ ہے کہ اسی ہستی پر ایسے مصائب ڈھائے گئے جن کا تصور بھی دل کو غم زدہ کردیتا ہے۔

انہوں نے درِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستہ دردناک واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام و منزلت کو واضح فرمایا تھا۔ اس کے باوجود آپ سلام اللہ علیہا کو ایسے حالات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے اہلِ بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کے دلوں پر گہرے نقوش چھوڑے۔
انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی مختصر زندگی رنج و الم اور مصائب سے عبارت تھی۔ آپ کے دکھوں اور غموں کو مرثیے کے پیرائے میں بیان کرتے ہوئے انہوں نے بارگاہِ رسالت میں فریاد کی کیفیت کو اجاگر کیا اور بتایا کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد پیش آنے والے مصائب اس قدر شدید تھے کہ اگر وہ دنوں پر نازل ہوتے تو دن بھی تاریک راتوں میں بدل جاتے۔
ذاکرہ زینب رضوی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے غم و اندوہ کو بیان کرتے ہوئے ان کی درد بھری دعا کا حوالہ بھی دیا کہ پروردگار! میری وفات جلد مقدر فرما اور مجھے اس دنیا سے اٹھا لے۔
مجلس کے دوران حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت، عظمت، مظلومیت اور مصائب کے تذکرے نے حاضرین کو سوگوار کردیا۔










آپ کا تبصرہ