حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غزہ کی اسلامی یونیورسٹی پر صہیونی فضائی حملوں میں تین فلسطینی شہید اور سات سے زائد زخمی ہوگئے۔ حملے کے وقت یونیورسٹی میں طلبہ تعلیم حاصل کر رہے تھے، جبکہ جنگ کے دوران بے گھر ہونے والے متعدد فلسطینیوں نے بھی وہاں پناہ لے رکھی تھی۔
الجزیرہ کے نامہ نگار ہانی محمود نے بتایا کہ غزہ شہر کی اسلامی یونیورسٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں تین افراد شہید اور سات سے زائد زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق، یونیورسٹی میں طلبہ اور سکیورٹی اہلکاروں کو دو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ یونیورسٹی محدود عملے کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھی۔
حملے کے بعد اسلامی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے غزہ شہر میں واقع کیمپس کی تعلیمی اور انتظامی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا۔ الجزیرہ کے نامہ نگار کے مطابق، ایک اسرائیلی ڈرون نے یونیورسٹی کے احاطے میں جمع طلبہ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور طلبہ و دیگر موجود افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یونیورسٹی کے احاطے میں ایسے فلسطینی بھی پناہ لیے ہوئے تھے جن کے گھر جنگ کے دوران تباہ ہوچکے تھے۔ حملے کے وقت طلبہ کلاس رومز میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ غزہ کی وزارت تعلیم و اعلیٰ تعلیم نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے کے بعد یونیورسٹی کی تعلیمی سرگرمیاں روک دی گئیں۔
حماس نے اسلامی یونیورسٹی پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک غیر انسانی جنگی جرم قرار دیا اور ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کرکے شہریوں کے خلاف اسرائیلی حملوں کو رکوانے کے لیے اقدامات کریں۔
دوسری جانب، بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج نے ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا کہ اس نے ان عناصر کو نشانہ بنایا جنہیں وہ ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیتی ہے۔ تاہم، یونیورسٹی کے ذرائع نے بتایا کہ شہید ہونے والے تینوں افراد یونیورسٹی کے ملازمین اور عام شہری تھے۔










آپ کا تبصرہ