تحریر:عادل فراز
حوزہ نیوز ایجنسی| ہندوستان میں مسجدوں کے انہدام یاانہیں تجاوزات قراردے کر ہٹانے کی تحریک شباب پر ہے ۔ملک کے مختلف حصوں سے مسجدوں کو گرانے اور انہیں تجاوزات قراردینے کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں۔اقلیتوں پر ظلم اور آئینی اقدار کی پامالی بھی نئی بات نہیں رہ گئی ۔اگر عدالتیں ہی آئین کے تحفظ میں لاچاری کا مظاہرہ کریں تو حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایاجاسکتاہے۔ حال ہی میں عدالت عظمیٰ کے سابق جسٹس سنجے کشن کول کے انکشافات اس دعوے پر دلیل ہیں ۔انہوں نے واضح الفاظ میں کہاکہ ’سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ عدالتی تقرریوں کے لئے تجویز کردہ ناموں پر عدالت عظمیٰ کولجیم میں باضابطہ غوروخوض سے پہلے سرکار کے ساتھ ان ناموں پر تبادلۂ خیال کرتے تھے ‘۔یہی وجہ ہے کہ عدالتوں سے یک طرفہ اور جانب دار فیصلے صادر ہورہے ہیں ۔اگر عدالتوں میں ججوں کی تقرری سرکار کی منشاکے مطابق ہوگی تو آئینی اقدار کی پامالی کو روکانہیں جاسکے گا۔اس کا تجربہ ہم ہندوستان میں مسلسل کررہے ہیں ۔بابری مسجد فیصلے سے لے کر’ ’عبات گاہوں کے قانون 1991 ‘ تک اور بے گناہ مسلمانوں کی گرفتاری سے بلڈوزر کلچر کی روایت تک عدالتیں آئین کے محافظ کی حیثیت سے زیادہ سرکار کی پشت پناہ نظر آئی ہیں ۔بابری مسجد فیصلے کے بعد جس طرح مسجدوں کی منظم مسماری کی تحریک شروع ہوئی اس پر عدالت عظمیٰ نے ’’عبادت گاہوں کے قانون 1991 ‘ کے اطلاق کے لئے کوئی مناسب اقدام نہیں کیا۔سہارن پور مسجد تو انتظامیہ نے اپنی نگرانی میں ہی منہدم کروادی جس میں ضلع مجسٹریٹ کا کردار بھی مشتبہ ہے ۔ایسے واقعات ہندوستان کے آئینی تشخص ،مذہبی آزادی اور قانون کی بالادستی پر سنجیدہ سوال کھڑے کرتے ہیں ۔آخر ہندوستان میں صرف ایک مذہب کے پیروکاروں کی عبادت گاہوں کو نشانہ کیوں بنایارجارہاہے؟ یا مسلمانوں کو یہ باورکرانا مقصد ہے کہ ہندوستان میں ان کا سیاسی اور سماجی وقار ختم ہوچکاہے۔ اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرناہر جمہوری معاشرے کی اولین ترجیح ہوتی ہے مگر جب مقتدر جماعت آئین اور جمہوریت میں یقین نہ رکھتی ہو تو جمہوری اور آئینی اقدار کے احترام کاسوال ہی پیدانہیں ہوتا ۔سوال یہ نہیں ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے یانہیں ؛اصل سوال یہ ہے کہ قانون کا نفاذ کس انداز،کن شواہد اور کن بنیادوں پر اور کس حد تک یکساں طورپر کیاجاتاہے ۔ اگر کسی عمارت کے بارے میں قانونی تنازع موجود ہے تو اس کا فیصلہ متعلقہ قوانین، مستند دستاویزات، عدالتی نگرانی اور منصفانہ سماعت کے ذریعے ہونا چاہیے۔ محض الزام، سیاسی بیان یا انتظامی دعوے کو کسی عبادت گاہ کے انہدام کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔سہارن پورکلکٹریٹ کے احاطے میں واقع مسجد کو کس طرح اور کن بنیادوں پر منہدم کیاگیا؟ایسی لاتعداد مذہبی عمارتیں ہیں جنہیں شواہد کو نظر انداز کرکے مسمار کردیاگیا۔ریاست کا یہ رویہ روز افزوں آمریت کاپتہ دیتا ہے ۔اسی آمرانہ ذہنیت کے خلاف جین زی اور اپوزیشن سڑکوں پر ہے۔دیکھتے ہیں اس مزاحمت کا نتیجہ کیا ہوگا ۔
انہدامی کارروائیوںمیں کبھی آئینی اقدار کا خیال نہیں رکھاگیا۔خاص طورپر اترپردیش میں تو یوگی حکومت نے ’بلڈوزرکلچر‘ کے فروغ کے لئے آئین کو بالائے طاق رکھ دیا۔ بعض معاملات میں انتظامیہ نے تجاوزات یا غیر قانونی تعمیرات کو کارروائی کی بنیاد قرار دیا، جب کہ ناقدین نے بعض انہدامی اقدامات کے انتخاب، طریقۂ کار اور وقت پر سوال اٹھائے۔ قانون کی حکمرانی کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی شخص یا ادارے کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق ہو، نہ کہ کسی کی مذہبی شناخت، سیاسی وابستگی یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر۔اب تو یہ کہنابھی صحیح نہیں ہوگاکہ عبادت گاہوں کے بارے میں قانونی تنازع ہوتو متعلقہ فریقوں کو اپنامؤقف پیش کرنے کا موقع دیناچاہیے ۔کیونکہ جب عدالتیں آستھاکی بنیاد پر فیصلے دینے لگیں تو شواہد کی اہمیت کہاںرہ جاتی ہے ؟ قانون کی بالادستی اسی وقت معتبر ہوتی ہے جب وہ طاقت ور اور کمزور، اکثریت اور اقلیت، سب کے لیے یکساں معیار فراہم کرے۔مگر بابری مسجد سے لے کر سہارن پور کلکٹریٹ کی مسجد تک قانون کی بالادستی کہیں نظر نہیں آتی ۔عدالت عظمیٰ اگر ’عبادت گاہوں کے قانون 1991‘کے نفاذ کے لئے سنجیدگی سے اقدام کرتی تو نوبت یہاں تک نہیں پہنچتی ۔مگر وہاں تو مقدمات کے تصفیے کی بنیادآستھا اور ریاستی خوشنودی ہے ۔ریاست تو پوری طرح یرقانی تنظیموں کے زیر اثر ہے لیکن اگر عدالتیں اپنے فرائض پر عمل کرتیں تو حالات اس قدر دگرگوں نہیں ہوتے ۔
ہندوستان کا آئین شہریوں کو مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے۔ آئین کی دفعہ 25 مذہبی عقیدے اور اس پر عمل کرنے کی آزادی سے متعلق ہے، جب کہ دفعہ 26 مذہبی فرقوں کو بعض شرائط کے ساتھ اپنے مذہبی امور کے انتظام کا حق فراہم کرتی ہے۔ یہ حقوق مطلق نہیں بلکہ ان پر آئین میں بیان کردہ پابندیاں عائد ہوتی ہیں، لیکن ریاست کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کا احترام کرے اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرے۔اگر ریاست آئین پر عمل کرنے میں جانب داری یا غفلت کا مظاہرہ کرےتو عدالتوں کا فریضہ ہے کہ ریاست کا احتساب کرے ۔عدالتوں نے عوام کے اعتماد کی بحالی کے لئے رہنما ہدایات تو جاری کیں مگر ریاست نے کبھی ان پر عمل نہیں کیا۔خاص طورپر انہدامی کارروائیوں کے خلاف عدالت نے رہنما اصول وضع کئے مگر اترپردیش سرکار نے ان اصولوں کی یکسر پرواہ نہیں کی ۔ایسی صور ت حال میں توہین عدالت کی کارروائی ہونی چاہیے مگر ریاستیں آئینی جواز تلاش کرکے دامن بچالیتی ہیں ۔الیکشن کشنر گیانیش کمار کے خلاف جنترمنتر پر ہونے والے احتجاج سے پہلے سرکار نے دہلی میں عوامی ٹرانسپورٹ اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کردی تھی جب کہ عدالت نے ایساکرنے سے روکاتھا،اس کے باوجود سرکار نے عدالت کے اصولوں کی پرواہ نہیں کی ۔سرکار کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری ہوامگر سرکار نے ’نقض امن ‘ کاحوالہ دے کر عدالت کو مطمئن کردیا۔مسلمانوں کو اس مکمل صور تحال کا جائزہ لیناچاہیے ۔انہیں ریاست اورعدالت پر زیادہ اعتبار کرنے کے بجائے اب جارح رویہ اختیارکرناہوگا۔جارح انداز کا قطعی مطلب فتنہ انگیزی ،شر ،اور تصادم نہیں ہے ۔آخر مسلمان کب تک دفاعی انداز اختیارکرکے اپنی مظلومیت کا نوحہ پڑھتارہے گا ؟
ہندوستان میں سبھی مذہب کی عبادت گاہیں اور تاریخی عمارتیں مشترکہ ورثے کا حصہ ہیں۔ ان میں سے بہت سی عمارتیں اپنے مذہبی کردار کے ساتھ فن تعمیر، مقامی تاریخ اور اجتماعی یادداشت کی بھی نمائندگی کرتی ہیں۔ہر قدیم مسجد لازماً محفوظ تاریخی یادگار کے قانونی درجے میں نہیں آتی، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ایسی عمارت کی تاریخی اہمیت سرے سے غیر متعلق ہو جاتی ہے۔ اگر کسی عمارت کی ملکیت، زمین یا تعمیر کے بارے میں تنازع ہو تو اس کے تاریخی ریکارڈ، سرکاری دستاویزات، قدیم نقشوں اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔تاریخی عمارتوں کے بارے میں فیصلے کرتے وقت جلد بازی کے بجائے قانونی وضاحت، ماہرین کی رائے اور شفاف طریقۂ کار کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ انہدام کے بعد عمارت کو دوبارہ تعمیر کرنا ممکن ہو بھی تو اس کی اصل تاریخی حیثیت اور مادی آثار کی مکمل واپسی ممکن نہیں ہوتی۔لیکن اگرعبات گاہوں کاقانو 1991 ‘ کا صحیح اطلاق ہوتا تو نوبت یہاں تک نہیں پہنچتی ۔ہندوستان کو اگر امن کا گہوارہ بنائے رکھناہے اور اس کی گنگاجمنی شناخت کو باقی رکھناہے تو عدالتوں کو ریاستی خوشنودی اور دبائو سے باہر نکلناہوگا۔ آئین کی بالادستی اسی وقت قابلِ اعتبار ہوتی ہے جب اس کے تقاضے انتظامی فیصلوں میں بھی نظر آئیں اور کسی بھی فریق کو یہ محسوس نہ ہو کہ اس کے مذہبی تشخص کی وجہ سے اس کے ساتھ مختلف سلوک کیا جا رہا ہے۔مساجد کے تحفظ کا سوال دراصل قانون کی حکمرانی، تاریخی ورثے کی حفاظت اور مساوی شہریت کے اصولوں کا سوال ہے۔ کسی مسجد کے بارے میں قانونی تنازع کا فیصلہ عدالت اور قانون کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ جذباتی نعروں یا یک طرفہ دعوؤں کی بنیاد پر۔ ہندوستان کے جمہوری مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ عبادت گاہوں سے متعلق ہر فیصلہ شفافیت، انصاف اور آئینی ذمہ داری کے معیار پر پورا اترے۔اگر عدالتوں کا یہی رویہ جاری رہاتو وہ دن دور نہیں جب الیکشن کمیشن کی طرح عدالتوں کے خلاف بھی صدائے احتجاج بلند ہوگی۔










آپ کا تبصرہ