جمعرات 29 اکتوبر 2026 - 13:02
ایران عراق تعاون، شلمچہ بارڈر پر موجود خامیوں کو دور کرنے کی کلید ہے

حوزہ / نمائندہ ولی فقیہ خوزستان نے کہا: ایران اور عراق کے حکام کے درمیان براہِ راست اور برادرانہ روابط بہت سی مشکلات کو حل کرنے اور موجودہ خامیوں کو دور کرنے کے عمل کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ خوزستان کے مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے مقصد سے بین الاقوامی سرحد شلمچہ کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں نمائندہ ولی فقیہ خوزستان حجت الاسلام والمسلمین موسوی فرد نے شرکت کی۔

اجلاس میں خوزستان کے گورنر موالی زادہ، سپاہ حضرت ولی عصر علیہ السلام کے کمانڈر سردار شاہوارپور، صوبے کے پولیس کمانڈر سردار میرفیضی، آزاد تجارتی و صنعتی زون اروند کے سربراہ خانزادی اور عراق کے شہر بصرہ میں جمہوریہ اسلامی ایران کے قونصل جنرل آقای طرفی بھی موجود تھے۔

اس خصوصی اجلاس کے شرکاء نے بین الاقوامی سرحد شلمچہ کی خصوصی اہمیت اور اس کی صلاحیتوں سے قومی اور صوبائی سطح پر استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے اپنے زیرِ انتظام اداروں کی سرگرمیوں اور اقدامات کے حوالے سے رپورٹس بھی پیش کیں۔

ایران عراق تعاون، شلمچہ سرحد پر موجود خامیوں کو دور کرنے کی کلید ہے

اجلاس میں اس سرحد سے متعلق مسائل کے حل کے لیے تمام متعلقہ اداروں کی فعال شرکت اور حکام کے درمیان باہمی تعاون، ہم دلی اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

حجت الاسلام والمسلمین موسوی فرد نے اجلاس کے اختتام پر شلمچہ سرحد کے معاملات پر انتظامی حکام اور متعلقہ اداروں کی توجہ کو سراہا اور اجلاس میں منظور ہونے والی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ایرانِ اسلامی اور عراق کے درمیان گہرا رشتہ موجود ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے ناقابلِ جدائی بھائی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: ایران اور عراق کے حکام کے درمیان براہِ راست اور برادرانہ روابط بہت سی مشکلات کو حل کرنے اور موجودہ خامیوں کو دور کرنے کے عمل کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

امام جمعہ اہواز نے ایران اور عراق کے شہریوں کی خوزستان اور بصرہ کے درمیان دوطرفہ آمد و رفت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: مشترکہ سرحدوں پر مسافروں کی آمد و رفت اور تجارتی تبادلے کے لیے مناسب سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ دونوں قوموں کے وقار اور مقام کا تحفظ کیا جا سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha