حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین سید صدرالدین قبانچی نے نجف اشرف کے حسینیہ اعظم فاطمیہ میں نماز جمعہ کے خطبوں کے دوران عراق، خطے اور عالمی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے مختلف امور پر اظہار خیال کیا۔
مذہب جعفری اور قانون احوال شخصیہ کا دفاع
انہوں نے عراق کی پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے قانون احوال شخصیہ جعفری کے بارے میں میڈیا میں اٹھائے جانے والے اعتراضات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر شور مچایا جا رہا ہے، حالانکہ شیخ الازہر پہلے ہی مذہب جعفری کو اسلام کا پانچواں فقہی مذہب قرار دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دارالافتاء میں بھی بعض خاندانی مسائل کے حل اور خاندانوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے مذہب جعفری کے فتاویٰ سے رجوع کیا جاتا ہے۔ یہ بات اہل بیتؑ کے فقہی احکام کی حقیقت پسندی اور درستگی کو ظاہر کرتی ہے۔
عراق کی فضائی خودمختاری کی خلاف ورزی
امام جمعہ نجف اشرف نے عراق کی فضائی حدود میں صیہونی حکومت کے جنگی اور ایندھن فراہم کرنے والے طیاروں کی مسلسل پروازوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عراق کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس کے خلاف حکومت کو واضح اور مضبوط موقف اختیار کرنا چاہیے۔
ایران سے تعلقات ختم کرنا عراق کے مفاد میں نہیں
انہوں نے ایران کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کے لیے بیرونی دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران باقی رہنے والا ملک ہے، اس لیے اس سے تعلقات منقطع کرکے یا اس کا محاصرہ کرکے اپنے مفادات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔ البتہ عالمی برادری سے تعلقات ختم کرنے کی بھی خواہش نہیں ہے۔ انہوں نے تہران میں ہونے والے چار ملکی اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے مسائل کا حل خود علاقائی ممالک کے درمیان تعاون سے ممکن ہے، نہ کہ بیرونی مداخلت سے۔
انہوں نے کویت کے ساتھ تعلقات کو مشترکہ شناخت، ہمسائیگی اور باہمی مفادات پر مبنی قرار دیا اور مذہب جعفری کے خلاف فیصلوں پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
یمن کی مزاحمت کو خراج تحسین
سید صدرالدین قبانچی نے یمن کے عوام اور انصار اللہ کی استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ 24 گھنٹوں میں 119 حملوں اور مختلف ممالک کی شرکت کے باوجود انصار اللہ کی پیش قدمی قابل ذکر ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس جنگ سے کس کو فائدہ پہنچ رہا ہے؟ ان کے مطابق اس سے صرف اسلام کے دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب سے مذاکرات کی راہ اختیار کرنے کی اپیل بھی کی
شکرگزاری نعمتوں میں اضافے کا ذریعہ
خطیبب نماز جمعہ نجف اشرف نے اپنے دینی خطاب میں قرآن کریم اور ائمہ معصومینؑ کی روایات کی روشنی میں شکرگزاری کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ان میں اضافے اور عظیم اجر کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے مؤمنین کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر کرنے اور شکرگزاری کی زندگی اختیار کرنے کی دعوت دی۔










آپ کا تبصرہ