حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بہار کے شہر پٹنہ میں واقع مدرسہ سلیمانیہ کے پہلے پرنسپل حافظ مولانا فرمان علی اعلیٰ اللہ مقامہ کے ۱۵۰ویں یومِ پیدائش کے موقع پر علماء و خطباء امامیہ بہار کی جانب سے ایک سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا، جس میں معروف محقق و مؤلف مولانا ابن حسن املوی واعظ نے مدارسِ دینیہ کی عظمت، اہمیت اور اسلامی معاشرے میں ان کے تاریخی و تعلیمی کردار پر خطاب کیا۔ اس موقع پر ان کی تالیف کردہ کتاب ’’تاریخ مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ‘‘ کی رونمائی بھی عمل میں آئی۔
اس تقریب میں حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی، نمائندہ ولی فقیہ ہند سمیت متعدد علماء، دانشوران اور اہلِ علم کے علاوہ بڑی تعداد میں مؤمنین نے شرکت کی۔

مولانا ابن حسن املوی واعظ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مدارس دینیہ مختلف مذہبی، سماجی، سیاسی اور تحریکاتِ آزادی کے سرچشمے رہے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند اور دیگر مسلم معاشروں کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مدارس نے مختلف تحریکوں کی بنیاد رکھنے، انہیں فکری غذا فراہم کرنے اور قیادت کی تربیت میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مدارس کسی بھی مذہبی مکتبِ فکر کے نظریات کی تشریح اور ترویج کے اہم مراکز ہوتے ہیں۔ معاشرتی اصلاح، تبلیغ اور سماجی سطح پر مختلف مہمات کے لیے جس افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے، اسے بھی مدارس کے فارغ التحصیل علماء ہی فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے مدارس کی عظمت و منزلت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علم، طالب علم اور علماء کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث اور اہلِ فکر و دانش کے اقوال موجود ہیں، لیکن مدارس کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت کافی ہے کہ یہی وہ مراکز ہیں جہاں سے علمِ دین کی تعلیم حاصل کرکے افراد، علماء اور دین کے خادم بنتے ہیں۔ احادیث میں طالب علم کے لیے فرشتوں کے اپنے پر بچھانے اور علماء کو انبیاء کا وارث قرار دیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔ اس تناظر میں مدارس کی اہمیت اور مقام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
مولانا املوی نے مدارس کو اسلامی اقدار، ثقافت اور روحانیت کے تحفظ کا مضبوط مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ مدارس قال اللہ اور قال الرسول، یعنی قرآن و حدیث کی تعلیمات کو نسل در نسل منتقل کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ انہوں نے مدارس کو ’’مادرِ علمی‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ماں اپنی اولاد کی تربیت اور پرورش کرتی ہے، اسی طرح مدارس بھی علمی و دینی اعتبار سے اپنے شاگردوں کی تربیت کرتے ہیں۔ انہوں نے اس ضمن میں ایک معروف قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسجد اللہ کا گھر ہے اور مدرسہ رسول اللہ کا گھر ہے؛ کیونکہ مسجد میں اللہ کی عبادت کی جاتی ہے اور مدرسے میں اللہ کی معرفت حاصل کی جاتی ہے۔
انہوں نے مدرسہ سلیمانیہ کی علمی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج اس ادارے کے فرزندانِ علم و فضل کی بڑی تعداد کا ایک جگہ جمع ہونا اس ادارے کے لیے باعثِ مسرت ہے۔ انہوں نے مدرسہ سلیمانیہ کے بانی نواب سید الطاف حسین رضوی اور اس کے پہلے پرنسپل حافظ مولانا فرمان علی کو اس علمی ادارے کے دو اہم معمار قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے لیے بلندیِ درجات کی دعا کی۔
حافظ مولانا فرمان علی کی علمی و قرآنی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے مقرر نے کہا کہ ان کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات میں حفظِ قرآن اور قرآن مجید کا اردو ترجمہ شامل ہیں۔ ان کا اردو ترجمہ قرآن برصغیر کے شیعہ گھرانوں میں خصوصی طور پر معروف ہے۔ انہوں نے ان کے حفظِ قرآن کا ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ مظفرپور کے مدرسہ جامع العلوم چندوارہ کے ایک سنی عالم مولانا رحمۃ اللہ سے ان کی بے تکلفی تھی۔ ایک روز مولانا رحمۃ اللہ نے ازراہِ مذاق کہا کہ شیعوں میں حافظِ قرآن نہیں ہوتے۔ اس بات کے بعد حافظ مولانا فرمان علی نے قرآن مجید حفظ کرنے کا عزم کیا اور محض پانچ ماہ کے مختصر عرصے میں پورا قرآن حفظ کر لیا۔ ان کے اس غیر معمولی حافظے کو دیکھنے کے لیے دور دراز سے قراء اور حفاظ جمع ہوئے۔ ان کے حفظ کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ وہ قرآن مجید سورۂ حمد سے سورۂ ناس تک اور سورۂ ناس سے سورۂ حمد تک بھی سنا سکتے تھے۔
مولانا ابن حسن املوی واعظ نے اپنی تصنیفی و تحقیقی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر مہدی خواجہ پیری، ڈائریکٹر انٹرنیشنل نور مائیکروفلم سینٹر، ایران کلچر ہاؤس نئی دہلی کی ہدایت پر انہیں مدرسہ مظاہرالعلوم، معروف بہ مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ کی تاریخ مرتب کرنے کا موقع ملا۔ تقریباً دو سال کی مسلسل محنت اور تحقیق کے بعد یہ کتاب مکمل ہوئی، جس کی رونمائی آج کی تقریب میں عمل میں آئی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ انٹرنیشنل نور مائیکروفلم سینٹر سے وابستہ ہیں اور عارضۂ قلب کے باعث گھر سے ہی تحقیق و تالیف کا کام انجام دیتے ہیں۔ اس سے قبل ان کی تصنیف کردہ کتابوں ’’تاریخ جامعہ جوادیہ بنارس‘‘ اور ’’تاریخ وثیقہ عربی کالج فیض آباد‘‘ کی بھی متعلقہ مقامات پر رونمائی ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے قدیم شیعہ مدارس کی تاریخ پر ’’تاریخ مدرسۃ الواعظین لکھنؤ‘‘ (تین جلدیں)، ’’تاریخ مدرسہ سلطان المدارس و جامعہ سلطانیہ لکھنؤ‘‘ (تین جلدیں)، ’’تاریخ جامعہ باب العلم بڈگام کشمیر‘‘، ’’تاریخ مدرسہ باب العلم مبارکپور‘‘ اور ’’تاریخ منصبیہ عربی کالج میرٹھ‘‘ (دو جلدیں) جیسی تحقیقی کتابیں بھی مرتب کی ہیں، جو انٹرنیشنل نور مائیکروفلم سینٹر، ایران کلچر ہاؤس کے زیر اہتمام شائع ہو چکی ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ تاریخی و تحقیقی تصانیف بالخصوص ریسرچ اسکالرز اور مدارس کی تاریخ و علمی ورثے سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ و محققین کے لیے مفید ثابت ہوں گی۔
آخر میں مولانا ابن حسن املوی واعظ نے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے صدقے مدرسہ سلیمانیہ کے بانیان، اساتذہ، طلبہ، معاونین اور بہی خواہوں کے لیے جزائے خیر کی دعا کرتے ہوئے ادارے کی ترقی، استحکام اور علمی و دینی خدمات کے تسلسل کی تمنا ظاہر کی۔











آپ کا تبصرہ