حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فرانس میں حکومت کی کوششوں کے باوجود طلبہ کی احتجاجی تحریک ختم نہیں ہوئی اور نئے تعلیمی ہفتے کے آغاز پر بھی متعدد اسکولوں میں احتجاج اور تعلیمی اداروں کے داخلی راستوں کی بندش جاری رہی۔
طلبہ کی ایک تنظیم کے مطابق، 3 نومبر کو تقریباً 500 ہائی اسکولوں کے داخلی راستے بند تھے، جبکہ حکومت نے یہ تعداد صرف 48 بتائی۔ مظاہروں کے دوران پیرس، ٹولوز، رین اور لوہاور سمیت مختلف شہروں میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں کئی طلبہ بھی شامل ہیں۔ لوہاور میں گرفتار شدگان کی رہائی کے مطالبے پر متعدد احتجاجی اجتماعات بھی منعقد ہوئے۔
پیرس میں مختلف یونیورسٹیوں کے سیکڑوں طلبہ نے پولیس کی بھاری تعینات اور مظاہروں پر پابندی کے باوجود احتجاج میں شرکت کی۔
پولیس کارروائیوں کا دائرہ تعلیمی عملے تک بھی پھیل گیا ہے۔ مون پلیے کے ژان مونے ہائی اسکول کی ایک نرس کو سختی کے ساتھ گرفتار کیا گیا، جبکہ لی لا شہر میں ایک تعلیمی معاون کو احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت کے دوران حراست میں لیا گیا۔ دوسری جانب اسکولوں کے منتظمین بھی احتجاج ختم کرانے کے لیے پولیس سے مدد لے رہے ہیں۔ طلبہ کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور پل الوار ہائی اسکول کے تعلیمی عملے کو بھی انتظامی تحقیقات کے سلسلے میں طلب کیا گیا ہے۔
فرانسیسی وزیر داخلہ کا سخت پولیس کارروائیوں کا دفاع
فرانس کے وزیر داخلہ لوران نونیز نے 2 نومبر 2026 کو پارلیمنٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران پولیس کے زیر استعمال تمام وسائل، بشمول آنسو گیس اور دستی بموں کے استعمال کا دفاع کیا۔ انہوں نے پولیس تشدد اور ان ہتھیاروں سے پیدا ہونے والے صحت کے خطرات کے باوجود ان کے استعمال پر پابندی یا نظرثانی کے مطالبے کو قبول نہیں کیا۔
دوسری جانب حکومت نے احتجاجی تحریک کو بدنام کرنے کے لیے پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی کا بھی سہارا لیا ہے۔ یہ کمیٹی 17 اکتوبر کے واقعات کے ایک روز بعد قائم کی گئی تھی، تاہم اس پر الزام ہے کہ وہ مظاہرین کو انتہا پسند بائیں بازو سے وابستہ قرار دے کر احتجاج کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، حکومت کا مقصد احتجاجی تحریک کو ختم کرکے طلبہ کو دوبارہ کلاسوں میں واپس لانا ہے، جبکہ مظاہرین پولیس تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔










آپ کا تبصرہ