حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا حسن ظفر نقوی مرکزی جنرل سیکرٹری مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے کہا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی شکست استعمار کی شکست کے صرف اشارے ہیں، اسے آخری فتح نہ سمجھا جائے۔ امریکہ اور اسرائیل میں معمولی تبدیلیاں ممکن ہیں، لیکن نظام وہی چلتا رہے گا، نہ اسرائیل کے فلسطینیوں پر حملے رکیں گے اور نہ ہی رہبر اعلیٰ کے مطابق امریکہ کی ایران سے دشمنی ختم ہونے والی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا نے یہ ضرور دیکھ لیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے نکلنے والوں کو خود تاریخی ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت جلد امریکہ اور اسرائیل کے انتخابات کے نتائج کے اثرات پوری مغربی دنیا پر ظاہر ہوں گے، جہاں پہلے ہی عوام اپنے حکمرانوں سے بیزار ہو کر سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔
مولانا حسن ظفر نقوی نے کہا کہ یہ صورتحال ان مسلمان حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے بھی کافی ہے جو عالم اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کے بجائے استعمار کی کاسہ لیسی کرتے ہیں۔ جب فرعون غرق ہونے لگتا ہے تو اس کے ساتھ کھڑے ہونے والے بھی ڈوب جاتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ امریکہ کے اشاروں پر اتحاد بنانے کے بجائے مسلم دنیا کو اپنا اتحاد اور دفاعی نظام تشکیل دینا ہوگا۔ خصوصاً عرب ممالک کو اپنی سرزمین سے امریکی فوجی اڈے ختم کرنا ہوں گے، کیونکہ یہ اڈے ان کے دفاع کے لیے نہیں بلکہ اسرائیل کے دفاع اور گریٹر اسرائیل کے قیام میں معاونت کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بہادر اور شہید پرور عوام نے دنیا کے سامنے عزم و استقامت کی ایسی مثال قائم کی ہے جس کی گزشتہ چند صدیوں میں نظیر نہیں ملتی۔ رہبر معظم کی شہادت نے عالم انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان شاء اللہ عنقریب حق مکمل فتح یابی سے ہمکنار ہوگا۔










آپ کا تبصرہ