بدھ 4 نومبر 2026 - 23:44
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا با برکت خاتون 

حوزہ/ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی حیاتِ طیبہ ایمان، پاکیزگی، نورانیت اور بے مثال کرامات کا روشن نمونہ ہے۔ آپؑ کی مختصر مگر بابرکت زندگی انسانیت کے لیے سرچشمۂ ہدایت اور معرفت ہے۔ آپؑ سے منسوب واقعات آپؑ کی عظمت و منزلت اور اسلام کی حقیقی روح کو نمایاں کرتے ہیں۔ ذیل میں آپؑ کی زندگی کے چند ایمان افروز اور بابرکت واقعات پیش کیے جا رہے ہیں۔

تحریر: حجۃالاسلام مولانا ڈاکٹر ذوالفقار حسین کامٹی

حوزہ نیوز ایجنسی | ہر انسان کی زندگی میں کچھ ایسے لمحے ہوتے ہیں جن کی قیمت، ہیرے جواہرات سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور کچھ ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو صدیوں تک باقی رہتی ہے اور اس کا تذکرہ ہمیشہ ذہن انسانی میں نقش کر جاتا ہے اور کچھ شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی کا ہر لمحہ تا ابد باقی اور بابرکت ہو جاتا ہے ان کی کم عمر بھی بڑے بڑے سورماؤں کی زندگی پر بھاری ہوتی ہے ان کی پاکیزہ زندگی کا آغاز بھی مبارک ہوتا ہے اور انجام بھی مبارک ہوتا ہے وہ کوثر بن کر دنیا کی سب سے پاکیزہ نسل کی نمائندگی کرتی ہیں ان سے باقر،جعفر، کاظم ، رضا علیہم السلام جیسے جیالے دنیا کی تاریخ بدلنے والے نامور ذوات ہوتے ہیں یہ وہ شجرۂ طیبہ ہے جس کی شاخیں پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں یہ مشکوٰۃ، مصباح،کوکب دری ، نور علی نور ہیں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی بابرکت زندگی ان کے نام سے عیاں ہے کیونکہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک روایت میں فرمایا: حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے نو نام ہیں: فاطمہ، صدیقہ، مبارکہ ، طاہرہ، ذکیہ، راضیہ ، مرضیہ ، محدثہ، زہرا(خصال صدوق، ج 2، ص 414.)

حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی زندگی کے کچھ بابرکت واقعات جن میں اسلام کی حقیقی تصویر نظر آتی ہے ۔

(1) حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی بابرکت چادر : ایک مرتبہ حضرت علی علیہ السلام نے ایک یہودی سے کچھ جو بطور قرض لئے یہودی نے رہن کے طور پر کسی چیز کا مطالبہ کیا حضرت علی علیہ السلام نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اونی چادر اس یہودی کے پاس رہن رکھ دی ۔ یہودی نے وہ چادر ایک کمرے میں رکھ دی ۔ جب رات ہوئی اور اس کی زوجہ کسی کام سے اس کمرے میں گئی وہاں ایک نور دیکھا، جو سارے کمرے کو منور کئے ہوئے ہے اپنے شوہر کے پاس واپس آئی اور کہنے لگی کہ اس کمرے میں اس نے ایک عظیم الشان نور دیکھا ہے یہودی کو سن کر بہت زیادہ تعجب ہوا وہ بھول گیا تھا کہ اس نے اس کمرے میں چادر رکھی ہے دوڑا دوڑا اس کمرے میں آیا اور دیکھا کہ لباس سے ہر طرف نور درخشاں ہے گویا چودہویں کا چاند اس کمرے میں چمک رہا ہے اس کو اور تعجب ہوا اس نے اس لباس کو زیادہ غور سے دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ یہ تو جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی چادر ہے گھر سے باہر نکلا اور اپنے تمام رشتہ داروں کے پاس گیا ان کو بلا لایا اس کی زوجہ بھی اپنے رشتہ داروں کے پاس گئی اور انہیں بلا لائی۔ تقریباً اسی 80 یہودی وہاں جمع ہوگئے اور اس منظر کو دیکھنے لگے اور سب کے سب اسلام لے آئے ۔ ( بحار الانوار، ج 43, ص 40)

کتنی بابرکت چادر تھی جس کی نورانی شعاعوں نے نور ایمان سے اسلام کا راستہ دکھا دیا جس کی چادر اتنی بابرکت ہے وہ ذات خود کتنی بابرکت ہوگی۔

(2) بابرکت کھانا

امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

ایک روز رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دخترِ گرامی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر تشریف لائے۔ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد آپؐ نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے فرمایا:

بیٹی فاطمہ! اٹھو اور وہ کھانے کا برتن لے آؤ۔

جب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا وہ برتن لے کر آئیں تو دیکھا کہ اس میں گرم گرم شوربہ (گوشت کا سالن) موجود ہے، جو کھانے کے لیے بالکل تیار تھا۔

اس کے بعد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت امام علی علیہ السلام، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور ان کے دونوں فرزند حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس کھانے میں سے تناول فرمایا۔

اس کھانے میں سے جو باقی بچا، اسے مسلسل تیرہ دن تک استعمال کیا جاتا رہا، لیکن اس کھانے میں کوئی کمی نہیں آتی تھی۔

یہاں تک کہ ایک دن حضرت اُمّ ایمن! نے امام حسین علیہ السلام کو وہ پکا ہوا کھانا کھاتے ہوئے دیکھا تو پوچھا:

اے فرزندِ رسول! یہ کھانا آپ کہاں سے لائے ہیں؟

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:

کئی دنوں سے ہمارے گھر میں یہی کھانا تیار ہے اور ہم اسی میں سے تناول کر رہے ہیں۔

یہ سن کر حضرت اُمّ ایمن، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر تشریف لے گئیں اور عرض کیا:

اے فاطمہ! اگر اُمّ ایمن کے پاس کوئی چیز ہو تو آپ بھی اس میں شریک ہیں، لیکن اگر کبھی آپ کے پاس کوئی چیز موجود ہو تو کیا اُمّ ایمن اس سے محروم رہے گی؟

یہ سن کر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اس کھانے میں سے، جو ابھی تک تازہ تھا، کچھ مقدار حضرت اُمّ ایمن !کو دے دی۔ انہوں نے بھی اس کھانے میں سے تناول فرمایا۔

لیکن اسی دن وہ کھانے کا برتن بالکل خالی ہوگیا۔

جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور دیکھا کہ کھانا ختم ہوچکا ہے تو آپؐ نے فرمایا:

اگر تم اس کھانے میں سے کسی دوسرے کو نہ دیتیں تو یہ کھانا کبھی ختم نہ ہوتا۔ ہم اہلِ بیت آخر تک اس میں سے کھاتے رہتے اور پھر بھی وہ باقی رہتا۔

اس کے بعد امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:

آج بھی اس کھانے کا وہ برتن ہمارے پاس موجود ہے، یہاں تک کہ وہ امامِ زمانہ، قائم آلِ محمد صلوات اللہ علیہم اجمعین کے دستِ مبارک تک پہنچے گا۔

(بحار الانوار، جلد 43، صفحہ 47۔)

(3) جنتی لباس کی برکت

روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں یہودیوں کے یہاں شادی کی تقریب تھی۔ اس موقع پر کچھ یہودی رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم آپ کے پڑوسی ہیں اور پڑوسی ہونے کے ناطے آپ پر ہمارے کچھ حقوق ہیں۔ ہماری آپ سے درخواست ہے کہ اپنی دخترِ گرامی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو ہمارے گھر شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے بھیج دیجیے، تاکہ آپ کی تشریف آوری سے ہماری خوشی اور شادی کی تقریب کی رونق میں اضافہ ہو۔

یہودیوں نے اس درخواست پر بہت اصرار کیا۔

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

فاطمہ، علی بن ابی طالب علیہ السلام کی زوجہ ہیں اور وہ اپنے شوہر کے حکم کے تابع ہیں۔

یہودیوں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ حضرت علی علیہ السلام سے سفارش فرمائیں تاکہ وہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو شادی میں شرکت کی اجازت دے دیں۔

روایت کے مطابق یہودیوں نے اس شادی کی تقریب کے لیے دنیا بھر کے قیمتی زیورات، خوبصورت لباس اور بیش قیمت آرائش و زیبائش کا سامان جمع کر رکھا تھا۔

ان کے دلوں میں یہ خیال تھا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے سادہ اور معمولی لباس میں تشریف لائیں گی، جس کے ذریعے وہ آپ کی شان میں گستاخی اور آپ کو حقیر دکھانے کی کوشش کریں گے۔

لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کچھ اور تھی۔

جب شادی کا وقت قریب آیا تو اچانک حضرت جبرائیل علیہ السلام جنت سے ایسے لباس، زیورات اور قیمتی خلعت لے کر نازل ہوئے جن کی مثال کسی نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے وہ جنتی لباس زیبِ تن فرمایا اور جنت کے ان بے مثال زیورات سے خود کو آراستہ کیا۔

آپ سلام اللہ علیہا کے لباس کی خوبصورتی، اس کے رنگوں اور اس کی خوشبو کو دیکھ کر تمام لوگ حیرت زدہ رہ گئے۔

جب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا یہودیوں کے گھر تشریف لے گئیں تو وہاں موجود یہودی عورتیں آپ کی نورانیت اور جنتی لباس کی عظمت دیکھ کر بے اختیار سجدے میں گر پڑیں اور آپ کے قدموں کے سامنے زمین کو بوسہ دینے لگیں۔

روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے اس معجزے اور جلالت کو دیکھ کر بہت بڑی تعداد میں یہودی اسلام لے آئے۔

یوں جن لوگوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو حقیر دکھانے کا ارادہ کیا تھا، وہ خود آپ کی عظمت و کرامت کے سامنے حیران و ششدر رہ گئے۔

سلام ہو اُس عظیم المرتبت خاتون پر جن کی عظمت و نورانیت کے سامنے دنیا کی تمام زیب و زینت ماند پڑ گئی۔

صلوات اللہ علیہا۔

( شیخ قطب الدین راوندی، الخرائج والجرائح، جلد 2، صفحہ 538، حدیث 14۔

علامہ محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، جلد 43، صفحہ 30، حدیث 37۔عوالم العلوم، جلد 11، صفحہ 229۔)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha