جمعہ 6 نومبر 2026 - 05:25
امریکی عوام نے ٹرمپ کو مسترد کر کے جنگ پسندی اور بلیک میلنگ کی پالیسیوں کو رد کر دیا

مجلس علمائے مسلمین لبنان:

امریکی عوام نے ٹرمپ کو مسترد کر کے جنگ پسندی اور بلیک میلنگ کی پالیسیوں کو رد کر دیا

امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج ٹرمپ اور اس کی جماعت کی واضح سیاسی شکست ہیں

حوزہ / مجلس علمائے مسلمین لبنان نے امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی جماعت کی واضح سیاسی شکست قرار دیا ہے۔ مجلس نے زور دیا کہ ان نتائج سے ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف عوامی احتجاج کی وسعت نمایاں ہوتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس علمائے مسلمین لبنان نے اپنے بیانیہ میں کہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی درحقیقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی جماعت کی واضح سیاسی شکست ہے۔ یہ نتائج ملکی انتظامی امور اور دنیا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ٹرمپ کے طرزِ حکمرانی کے خلاف عوامی ناراضی کی عکاسی کرتے ہیں۔

امریکی ووٹروں نے ٹرمپ کو مسترد کرکے جنگ پسندی اور بلیک میلنگ کی پالیسیوں کو رد کر دیا

مجلس علمائے مسلمین لبنان نے ان انتخابی نتائج کو ایسی حکومت کے لیے ایک بامعنی پیغام قرار دیا جو دھمکیوں اور بلیک میلنگ کے استعمال میں حد سے تجاوز کر چکی ہے اور جنگوں کو قوموں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کا ذریعہ سمجھتی ہے جبکہ ان جنگوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی المیوں اور عوام پر پڑنے والے معاشی بوجھ کی کوئی پروا نہیں کرتی۔

اس بیانیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ عسکری طاقت کا مظاہرہ ناکام پالیسیوں کے نتائج کو ہمیشہ چھپا نہیں سکتا۔ قومیں اپنے حکمرانوں سے امن، استحکام اور بہتر معیارِ زندگی کا مطالبہ کرتی ہیں اور جب حکمران ملکی وسائل کو بیرونی مہم جوئیوں پر ضائع کرتے ہیں تو انہیں جوابدہ ٹھہراتی ہیں۔ لہٰذا ان نتائج کا تقاضا ہے کہ امریکی پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کی جائے کیونکہ امریکہ خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے اور لبنان و فلسطین پر صہیونی حکومت کی جارحیت جاری رکھنے کے لیے ضروری سیاسی اور عسکری پشت پناہی فراہم کرنے میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔

مجلس علمائے مسلمین نے امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ریپبلکنز کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کو ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل اور اس دعوے کے خاتمے سے تعبیر کیا کہ انہیں امریکہ اور دنیا کو مزید جنگوں اور بحرانوں میں دھکیلنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

مجلس علمائے مسلمین لبنان نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ووٹروں کے پیغام کا احترام کرے اور کشیدگی میں اضافے اور دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کی پالیسیوں پر حقیقی نظرثانی کرے۔

امریکی عوام کے جنگ مخالف پیغام سے متعلق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مؤقف کی حمایت

مجلس علمائے مسلمین نے اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے اس مؤقف کی حمایت کی کہ ’’امریکی عوام نے جنگ کو مسترد کر دیا ہے۔‘‘

ان کے مطابق یہ مؤقف اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ قوموں کے مشترکہ مفادات جنگوں سے دور رہنے، انسانی جانوں کے تحفظ اور قومی وسائل کو ترقی اور باعزت زندگی کی فراہمی کے لیے استعمال کرنے میں مضمر ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha