حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں وسط مدتی انتخابات (مڈٹرم الیکشنز) کے نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر تنقید کا سامنا ہے۔ خاص طور پر ایران کے خلاف اختیار کیے گئے سخت رویے اور بین الاقوامی سطح پر کشیدگی بڑھانے کی پالیسی پر امریکی ذرائع ابلاغ میں بحث جاری ہے۔
انتخابی نتائج کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی اور ریپبلکن پارٹی کی پوزیشن کمزور ہونے پر امریکی صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے مختلف تبصرے کیے ہیں۔ بعض نے ان نتائج کو ٹرمپ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل قرار دیا ہے۔

ایک امریکی صحافی نے ٹرمپ کی ایران پالیسی پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ:

حقیقت یہ ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کامیاب نہیں ہوئے بلکہ ایران کامیاب ہوا ہے۔
ایک صحافی نے ایک پیغام میں سوال اٹھایا کہ:

آخر ایسا کیوں محسوس ہو رہا ہے کہ ایران نے خود امریکہ کے نظام میں تبدیلی کر دی ہے؟
اس تبصرے میں اس صورت حال کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ امریکہ ایران میں نظام کی تبدیلی کا خواہاں تھا، لیکن اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہو سکا، جبکہ اب خود ٹرمپ کو اپنے ملک میں سیاسی مخالفت کا سامنا ہے۔

ایک دوسرے صارف نے انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ایوانِ نمائندگان میں ٹرمپ کی جماعت کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ابتدائی انتخابی نتائج کے مطابق، ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوانِ نمائندگان میں 219 نشستیں حاصل کرکے اکثریت حاصل کر لی۔ اس کے علاوہ سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کرکے ریپبلکن پارٹی سے اس کا کنٹرول چھین لیا۔
ان نتائج کے بعد ٹرمپ حکومت کے لیے اپنے منصوبوں پر عمل درآمد اور قانون سازی کے مراحل میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، کیونکہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی اکثریت حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ریپبلکن ریاست میں بھی ڈیموکریٹ امیدوار آگے
ریاست مسیسیپی (Mississippi) میں سینیٹ کی نشست کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار اسکاٹ کولم اور ان کے ریپبلکن حریف کے درمیان بھی سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔
ابتدائی نتائج کے مطابق، 95 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر اسکاٹ کولم اپنے حریف سے 28 ووٹ آگے تھے۔ یہ صورت حال اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنی کہ مسیسیپی روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کی حمایت کرنے والی ریاستوں میں شمار ہوتی ہے۔
ایپسٹین کی فائلیں جاری کرنے کا طنزیہ مشورہ

ایک امریکی سیاسی طنز نگار نے بھی ٹرمپ پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں ایپسٹین سے متعلق فائلیں جاری کر دینی چاہئیں تاکہ عوام کی توجہ انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو ہونے والے نقصان سے ہٹائی جا سکے۔
یہ تبصرہ انتخابی نتائج کے بعد عوام کی توجہ دوسرے معاملات کی طرف منتقل کرنے کی کوششوں پر طنز کے طور پر سامنے آیا۔

مشی گن میں مسلمان امیدوار کی کامیابی
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے تبصروں میں ریاست مشی گن کے انتخابی نتائج کا بھی ذکر کیا گیا، جہاں عبدالسعید نے سینیٹ کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ بعض صارفین نے ان کی کامیابی کو امریکی سیاست میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی شرکت کے تناظر میں اہم قرار دیا اور انہیں امریکہ کی تاریخ کا پہلا مسلمان سینیٹر بتایا۔
ٹرمپ کی پالیسیوں کے اثرات پر بحث
امریکی انتخابات کے ان نتائج کے بعد ٹرمپ حکومت کی پالیسیوں پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ مہنگائی، روزمرہ اخراجات میں اضافہ، تارکین وطن کے خلاف سخت اقدامات اور دوسرے ملکوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ریپبلکن پارٹی کی انتخابی مشکلات کی اہم وجوہات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
اس دوران بعض امریکی صحافیوں اور سیاسی مبصرین نے ایران کے خلاف امریکی پالیسیوں کی ناکامی کو بھی ٹرمپ کی سیاسی مشکلات سے جوڑا ہے۔ ان کے مطابق، واشنگٹن نے ایران پر دباؤ ڈالنے اور وہاں نظام کی تبدیلی کے لیے مختلف اقدامات کیے، لیکن ان کوششوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔
اگرچہ امریکی انتخابات کے نتائج کو صرف ایران سے متعلق پالیسیوں کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم یہ صورت حال اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ بیرونی محاذوں پر اختیار کی گئی سخت پالیسیوں کے ساتھ جب ملک کے اندر معاشی اور سماجی مسائل بھی بڑھتے ہیں تو ان کے اثرات حکمران جماعت کی سیاسی پوزیشن پر بھی پڑ سکتے ہیں۔










آپ کا تبصرہ