تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
ایران کی استقامت، فلسطین کا لہو اور دنیا بھر میں بیدار ہوتا ہوا عوامی ضمیر
دنیا کی سیاست میں بعض واقعات محض انتخابی نتائج نہیں ہوتے، بلکہ طاقت کے نشے میں چور حکمرانوں کے غرور پر پڑنے والے ایسے کاری وار ہوتے ہیں جو ان کے سیاسی زعم، بالادستی کے دعووں اور ناقابلِ شکست ہونے کے تصور کو پاش پاش کر دیتے ہیں۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کی حالیہ بدترین انتخابی شکست بھی ایسا ہی ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے، جس نے وائٹ ہاؤس کی طاقت، دھونس اور سیاسی رعب کے سامنے امریکی عوام کے فیصلے کی قوت کا احساس دلا دیا ہے۔
3 نومبر 2026ء کے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں شاندار اکثریت حاصل کر لی۔ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو اس شکست نے واضح کر دیا کہ امریکی عوام کا ایک بڑا طبقہ ان کی حکومت کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں ایران کے ساتھ جنگ اور اُس کی وجہ امریکہ کا مالی نقصنان اور مہنگائی، حکومتی طرزِ عمل اس انتخاب کے اہم موضوعات رہے۔
یہ ٹرمپ کی ذاتی صدارتی شکست نہیں، لیکن ان کی سیاسی طاقت اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف ایک بڑا انتخابی دھچکا ضرور ہے۔
دوسری طرف اسرائیل میں بھی بنیامین نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے۔ ان کا انتخابی اتحاد مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ غزہ میں تباہی، فلسطینی عوام کا قتلِ عام اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی تنقید نے اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید سیاسی اور اخلاقی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے اور اسرائیل تنہا ہوگیا ہے ۔
یہ واقعات ایک ایسے عالمی ماحول میں سامنے آئے ہیں جہاں فلسطین کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آوازیں پہلے سے زیادہ بلند ہو رہی ہیں۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو: طاقت کے نشے میں انسانیت فراموش حکمران
ٹرمپ اور نیتن یاہو کی سیاست کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ انسانی جانوں کو سیاسی اور فوجی مفادات کے تابع کر دیا گیا۔ غزہ کے معصوم بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کی ہلاکتیں، اسپتالوں اور گھروں کی تباہی اور انسانی امداد کی شدید مشکلات ان پالیسیوں کا ایسا ریکارڈ ہیں جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
نیتن یاہو کی حکومت نے غزہ کو جس تباہی سے دوچار کیا، وہ انسانی ضمیر کے لیے ایک ناقابلِ برداشت سوال ہے۔ ٹرمپ کی حکومت کی طرف سے اسرائیل کی فوجی اور سیاسی سرپرستی نے بھی اس صورت حال پر سنگین سوالات پیدا کیے ہیں۔
یہ کیسی مہذب دنیا ہے جہاں ایک طرف انسانی حقوق کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف معصوم بچوں کی لاشوں پر سیاسی مفادات کی عمارتیں تعمیر کی جاتی ہیں؟
جو حکمران انسانی جانوں کی حرمت کو پامال کرنے والی پالیسیوں کی سرپرستی کرتے ہیں، انہیں کسی اخلاقی تقدس یا سیاسی تحفظ کا حق حاصل نہیں۔ طاقت کے بل پر ظلم کرنے والے حکمران بھی جواب دہ ہیں۔ اقتدار کسی کو انسانیت کے خلاف جرائم سے استثنا نہیں دے سکتا۔
عالمی عدالت میں مقدمہ اور مجرموں کا احتساب
اب وقت آ گیا ہے کہ نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کی بین الاقوامی سطح پر سنجیدہ، آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔ غزہ میں انسانی قتلِ عام، شہری آبادی کی تباہی اور نسل کشی کے الزامات کے تناظر میں ان دونوں رہنماؤں کے اقدامات اور انفرادی ذمہ داری کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
جب دنیا کے سامنے ان کے بھیانک جرائم کے مضبوط شواہد ہیں، نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں ان کی انفرادی ذمہ داری ثابت ہے تو ضروری ہے کہ انہیں عالمی قانون کے مطابق عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے۔
آخر یہ کیسا عالمی نظام ہے جس میں کمزور ملکوں کے حکمرانوں کے لیے قانون فوراً حرکت میں آ جاتا ہے، لیکن طاقتور ملکوں کے سربراہوں کے لیے الگ معیار اختیار کر لیا جاتا ہے؟ کیا فلسطینی بچوں کا خون اس لیے کم قیمتی ہے کہ ان کے قاتلوں کے پاس جدید ترین ہتھیار اور عالمی سرپرست موجود ہیں؟
عالمی عدالتوں اور اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ طاقتور ملکوں کے دباؤ سے بالاتر ہو کر انصاف کے تقاضے پورے کریں۔ ٹرمپ ہوں، نیتن یاہو ہوں یا کوئی اور حکمران، کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔
فلسطین کے مظلوموں کو محض ہمدردی اور مذمتی قراردادوں کی نہیں، عملی انصاف کی ضرورت ہے۔ انہیں اپنے حقوق، آزادی اور عزت کے ساتھ جینے کا حق ملنا چاہیے۔
ایران: استقامت، حوصلے اور قومی وقار کی مثال
اس پورے منظرنامے میں ایران کا کردار خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ایران نے کئی دہائیوں سے امریکی پابندیوں، سیاسی تنہائی، فوجی دھمکیوں اور علاقائی چیلنجوں کا سامنا کیا ہے۔ اس کے باوجود اس نے اپنی خودمختاری، دفاعی صلاحیت اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھی ہے۔
ایران کی سب سے بڑی طاقت اس کا حوصلہ، سیاسی تدبیر، قومی استقامت اور مشکل حالات میں اپنے موقف پر قائم رہنے کا عزم ہے۔ اس نے ثابت کیا ہے کہ کسی قوم کو صرف پابندیوں، دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے زیر نہیں کیا جا سکتا۔
ایران نے سائنس، ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور مقامی صلاحیتوں کے میدان میں جو پیش رفت کی ہے، وہ اس کی مسلسل محنت اور خود انحصاری کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت، دفاعی تیاری اور سیاسی حکمتِ عملی نے اسے مشرق وسطیٰ کی ایک اہم قوت بنا دیا ہے۔
یہ بات قابلِ تحسین ہے کہ ایران نے بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری کے حق سے دست برداری قبول نہیں کی۔ اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ قومی آزادی اور وقار کی حفاظت کے لیے حوصلہ، دانش مندی اور مستقل مزاجی ضروری ہیں۔
ایران کی ہر پالیسی سے اتفاق کیے بغیر بھی اس کی خودمختاری کے دفاع اور بیرونی جارحیت کے مقابلے میں استقامت کی حمایت کی جا سکتی ہے۔
ایران کی اصل اہمیت صرف اس کی فوجی قوت میں نہیں بلکہ اس کے اس سیاسی عزم میں بھی ہے کہ وہ اپنی قومی ترجیحات کا فیصلہ کسی بیرونی طاقت کے حکم پر نہیں کرے گا۔
عوامی بیداری اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ
آج دنیا کے مختلف ممالک میں عوام اپنے حکمرانوں سے سوال کر رہے ہیں۔ فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہرے، اسرائیلی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی تنقید اور جنگی اخراجات کے خلاف آوازیں اس عوامی بیداری کا اظہار ہیں۔
اب حکمرانوں کے لیے یہ آسان نہیں رہا کہ وہ اپنی جنگوں کو قومی سلامتی کا نام دے کر ہر ظلم کا جواز پیش کر دیں۔ سوشل میڈیا، آزاد صحافت اور عالمی شہری شعور نے مظلوموں کی آواز کو سرحدوں سے باہر پہنچا دیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ فلسطین اب صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ انسانیت، انصاف اور عالمی ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔
امریکی انتخابی نتائج کو ایران کی براہِ راست فتح قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ امریکی ووٹر اپنے داخلی مسائل اور مختلف سیاسی ترجیحات کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جنگی پالیسیوں اور حکومتی کارکردگی پر عوامی احتساب جمہوریت کی ایک اہم حقیقت ہے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو سمیت دنیا کے تمام حکمرانوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ اقتدار مستقل نہیں، فوجی طاقت لامحدود نہیں اور عوامی ضمیر کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
جو لوگ انسانی جانوں کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھاتے ہیں، جو جنگ کو اپنی طاقت کا مظاہرہ سمجھتے ہیں اور جو معصوم انسانوں کی تباہی پر خاموش رہتے ہیں، انہیں تاریخ کے ساتھ ساتھ قانون کے سامنے بھی جواب دہ ہونا ہوگا۔
ہمیں ایسا عالمی نظام چاہیے جہاں انصاف کا معیار ملک، مذہب، قومیت اور فوجی طاقت نہ ہو بلکہ انسانیت اور قانون ہو۔ جہاں فلسطینی بچے کی جان بھی اتنی ہی قیمتی سمجھی جائے جتنی کسی امریکی یا اسرائیلی بچے کی۔
امریکہ کی انتخابی سیاست میں ٹرمپ کی جماعت کی شکست، اسرائیل کی سیاسی مشکلات اور ایران کی استقامت ہمیں ایک بنیادی حقیقت یاد دلاتی ہیں: طاقت کے بل پر دنیا کو ہمیشہ اپنی مرضی کے مطابق نہیں چلایا جا سکتا۔
ظلم کے ایوان کتنے ہی بلند کیوں نہ ہوں، انصاف کی آواز ان سے زیادہ بلند ہو سکتی ہے۔ حکومتیں بدل جاتی ہیں، حکمران تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں، لیکن آزادی، خودمختاری اور انصاف کی آرزو کبھی ختم نہیں ہوتی۔
فلسطین کو انصاف چاہیے، مظلوموں کو آزادی چاہیے، مجرموں کو سزا چاہیے اور دنیا کو ایسا نظام چاہیے جہاں کوئی ٹرمپ، کوئی نیتن یاہو اور کوئی دوسرا طاقتور حکمران انسانیت اور قانون سے بالاتر نہ ہو۔










آپ کا تبصرہ