تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| اسلامی تاریخ میں وحدتِ امت کا تصور محض ایک اخلاقی نصیحت یا وقتی ضرورت نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات میں شامل ایک اہم دینی اصول ہے۔ مسلمانوں کی اجتماعی قوت، دینی شناخت اور تہذیبی بقا کا انحصار بڑی حد تک اسی بات پر ہے کہ وہ اپنے فکری اور مسلکی اختلافات کے باوجود مشترکہ اسلامی بنیادوں پر ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ رہیں۔ اختلافِ رائے فطری ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی، نفرت اور باہمی تصادم میں تبدیل کر دینا کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے زیرِ نظر کتاب ’’رہبرِ شہید اور وحدتِ اسلامی‘‘ وحدت کے قرآنی تصور، اہلِ بیتؑ کی سیرت، اسلامی تاریخ کے تجربات اور عصرِ حاضر کی عملی ضرورتوں کا مطالعہ پیش کرتی ہے۔
کتاب کا علمی پس منظر اور اشاعتی خدمات
اس کتاب کی ایک قابلِ ذکر خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے ابتدائی صفحات میں مختلف مکاتبِ فکر کے اہلِ علم کی تحریریں شامل ہیں۔ مولانا سید ظہیر عباس صاحب کی تحریر اور اہلِ سنت کے جید عالمِ دین مولانا عبیداللہ اعظمی صاحب کے افکار و تاثرات کتاب کے موضوع کو ایک وسیع علمی اور بین المسالک تناظر عطا کرتے ہیں۔ ان اہلِ علم کی تحریروں کی شمولیت اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ وحدتِ اسلامی کسی ایک مسلک یا مکتبِ فکر کا انفرادی مطالبہ نہیں، بلکہ پوری امت کی مشترکہ ضرورت اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔
اس علمی کاوش کی اشاعت کے سلسلے میں حوزۂ علمیہ امام خمینی اور اس کے مدیر حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید محمد رضا غروی صاحب کی خدمات بھی قابلِ تحسین ہیں، جنہوں نے اس کتاب کی طباعت کا اہتمام کیا۔ علمی کتابوں کی اشاعت محض طباعتی سرگرمی نہیں ہوتی، بلکہ فکر و شعور کے فروغ اور علمی مباحث کو نئی نسل تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس اعتبار سے مولانا غروی صاحب اور حوزۂ علمیہ امام خمینی کا یہ تعاون قابلِ قدر ہے۔
وحدتِ اسلامی کی قرآنی بنیاد
کتاب کا بنیادی فکری نقطۂ آغاز قرآن مجید کی وہ تعلیم ہے جو مسلمانوں کو باہمی اتحاد اور اجتماعی وابستگی کی دعوت دیتی ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾ترجمہ: ’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘(سورۂ آل عمران، آیت 103)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں اتحاد کی حیثیت بنیادی ہے۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنی مشترکہ دینی بنیادوں کو پہچانیں، باہمی تعلقات کو استوار رکھیں اور اختلافات کو انتشار کا سبب نہ بننے دیں۔
وحدت کا مطلب یہ نہیں کہ تمام مکاتبِ فکر اپنے علمی و اعتقادی اختلافات سے دست بردار ہو جائیں، یا تاریخ اور عقائد کے تمام مباحث کو یکساں قرار دے دیا جائے۔ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے دینی تشخص، عزت اور حقوق کا احترام کیا جائے اور امت کے مشترکہ مفادات کو ذاتی یا گروہی تعصبات پر ترجیح دی جائے۔
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات اور وحدت کا شعور
کتاب میں اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کو وحدتِ اسلامی کے فکری اور اخلاقی سرچشمے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ حدیثِ ثقلین، قرآن مجید اور اہلِ بیتؑ سے وابستگی کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ اہلِ بیتؑ کی سیرت محض عبادات اور انفرادی اخلاق کا مجموعہ نہیں، بلکہ اجتماعی زندگی، عدل، حکمت، صبر، رواداری اور انسانی احترام کی بھی عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی زندگی میں ایسے متعدد مواقع ملتے ہیں جہاں انہوں نے امت کے اجتماعی مفاد، اسلامی نظام کے استحکام اور مسلمانوں کے درمیان تصادم سے بچنے کو اہمیت دی۔ آپؑ نے اختلافات کے باوجود اپنے اصولی موقف کو برقرار رکھا اور حالات کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے صبر و حکمت کا راستہ اختیار کیا۔ یہ طرزِ عمل ہمیں بتاتا ہے کہ اصولوں پر ثابت قدم رہنا اور اجتماعی وحدت کی حفاظت کرنا ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ دونوں کے درمیان حکیمانہ توازن ضروری ہے۔
اسی طرح امام حسن مجتبیٰؑ کا صلح کا فیصلہ حالات کے تقاضوں اور مسلمانوں کے خون کو محفوظ رکھنے کی حکمت سے وابستہ تھا۔ دوسری طرف امام حسینؑ کا قیام ظلم، انحراف اور دینی اقدار کی پامالی کے خلاف ایک عظیم اصلاحی جدوجہد تھا۔ ان دونوں اماموںؑ کے طرزِ عمل میں بظاہر مختلف حکمتِ عملی دکھائی دیتی ہے، لیکن دونوں کا مقصد دین کی حفاظت، امت کی اصلاح اور حق و عدل کی سربلندی تھا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ حالات کے مطابق حکمتِ عملی بدل سکتی ہے، مگر اصولی مقاصد اور دینی ذمہ داریاں تبدیل نہیں ہوتیں۔
اسلامی تاریخ اور تفرقے کے اسباب
کتاب کا ایک اہم حصہ اسلامی تاریخ کے ان واقعات اور سیاسی حالات کا جائزہ لیتا ہے جنہوں نے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو شدت دینے میں کردار ادا کیا۔ سقیفہ کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی و فکری مباحث، اموی دور کی حکمرانی، واقعۂ کربلا، عباسی عہد کے حالات اور مختلف علمی و فقہی اختلافات اس تاریخی پس منظر کا حصہ ہیں۔
تاریخ کا مطالعہ محض ماضی کے واقعات دہرانے کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مقصد ان تجربات سے سبق حاصل کرنا بھی ہے۔ جب سیاسی مفادات، اقتدار کی کشمکش اور گروہی تعصبات دینی اصولوں پر غالب آتے ہیں تو اختلافات شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ رفتہ رفتہ علمی اختلافات عوامی سطح پر نفرت اور باہمی بداعتمادی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
واقعۂ کربلا اس سلسلے میں ایک بنیادی تاریخی اور اخلاقی حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ امام حسینؑ کی قربانی نے امت کو یہ پیغام دیا کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا اور دینی اقدار کو مصلحتوں کی بھینٹ چڑھا دینا درست نہیں۔ اس عظیم واقعے کا پیغام عدل، آزادی، انسانی وقار اور اصلاحِ امت سے وابستہ ہے۔ اس پیغام کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ تاریخ کا مطالعہ تعصب کے بجائے علمی دیانت اور سنجیدگی کے ساتھ کیا جائے۔
عصرِ حاضر میں وحدت کو درپیش چیلنجز
آج مسلم دنیا کو جن مسائل کا سامنا ہے، ان میں بیرونی مداخلت، سیاسی انتشار، فکری کمزوری، فرقہ وارانہ تعصبات، انتہا پسندی اور ذرائع ابلاغ کا منفی استعمال نمایاں ہیں۔ مختلف معاشروں میں مذہبی اختلافات کو ہوا دے کر مسلمانوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کی کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں۔
سوشل میڈیا نے اطلاعات کی ترسیل کو آسان بنایا ہے، لیکن اس کے ساتھ غیر مصدقہ خبروں، اشتعال انگیز بیانات اور نفرت انگیز مواد کی اشاعت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایسے ماحول میں قرآن مجید کی یہ ہدایت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو۔‘‘(سورۂ حجرات، آیت 6)
یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ کسی خبر، الزام یا بیان کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی حقیقت معلوم کرنا ضروری ہے۔ محض جذباتی وابستگی یا مسلکی تعصب کی بنیاد پر کسی فرد یا جماعت کے خلاف رائے قائم کرنا معاشرتی فساد کا سبب بن سکتا ہے۔
اس لیے علماء، دانش وروں، صحافیوں اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں پر خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اختلافی موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے علمی احتیاط، اخلاقی شائستگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
رہبرِ شہید اور وحدتِ اسلامی کا عملی تصور
کتاب میں رہبرِ شہید کے افکار اور وحدتِ اسلامی کے تصور کو محض نظری بحث کے طور پر نہیں، بلکہ ایک عملی اجتماعی ضرورت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس تناظر میں وحدت کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنے مشترکہ مسائل کو پہچانیں، ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور اسلامی معاشرے کی تعمیر میں مشترکہ کردار ادا کریں۔
وحدت کی عملی مثالوں میں ایران میں اہلِ سنت کی مذہبی، سماجی اور سیاسی شرکت کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اہلِ سنت کی آبادی والے صوبوں، خصوصاً سیستان و بلوچستان، کردستان، کرمانشاہ، گلستان اور خراسان کے مختلف علاقوں میں ان کی مذہبی اور سماجی زندگی کے لیے موجود سہولتیں اس حوالے سے قابلِ ذکر ہیں۔
اہلِ سنت کی مساجد، جمعہ کی نمازوں، دینی سرگرمیوں اور مدارس کی موجودگی مذہبی زندگی کے تسلسل اور اظہار کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح پارلیمان میں نمائندگی، مجلسِ خبرگانِ رہبری میں شرکت، سرکاری انتظامی اداروں اور دفاعی شعبوں میں خدمات کے مواقع اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ قومی زندگی میں اہلِ سنت کی شرکت کو اہمیت دی گئی ہے۔ ان کے تعلیمی اداروں اور مدارس کی معاونت اور سنی اکثریتی علاقوں کی ترقی کے لیے اقدامات بھی اسی عملی تصور کا حصہ ہیں۔
یہ مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ وحدت کا پیغام اسی وقت مؤثر بنتا ہے جب اسے معاشرتی اور ریاستی سطح پر حقوق، احترام، نمائندگی اور عملی تعاون کی صورت میں پیش کیا جائے۔ محض اتحاد کے نعرے کافی نہیں ہوتے؛ حقیقی وحدت کے لیے ضروری ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر کے افراد کو اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ اجتماعی زندگی میں باوقار شرکت کے مواقع حاصل ہوں۔
اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں کی ذمہ داری
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے وابستہ افراد کے لیے وحدتِ اسلامی ایک اہم اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔ امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے:«كُونُوا لَنَا زَيْنًا وَلَا تَكُونُوا عَلَيْنَا شَيْنًا»ترجمہ: ’’ہمارے لیے زینت بنو، ہمارے لیے باعثِ عیب نہ بنو۔‘‘
یہ مختصر مگر جامع ہدایت اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں کے کردار کی سمت متعین کرتی ہے۔ ان کا اخلاق، کردار، گفتگو، معاملات اور اجتماعی رویہ ایسا ہونا چاہیے جو اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی خوب صورتی کو نمایاں کرے۔ اختلافی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے بھی شائستگی، دلیل اور انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
یہ ذمہ داری صرف کسی ایک مکتبِ فکر کے ماننے والوں تک محدود نہیں۔ تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کریں، مقدسات کے بارے میں غیر محتاط گفتگو سے اجتناب کریں اور ایسے رویوں کو فروغ دیں جو باہمی اعتماد کو مضبوط بنائیں۔
علماء، نوجوانوں اور معاشرے کا کردار
وحدتِ اسلامی کے فروغ میں علماء کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ منبر و محراب کو نفرت کے بجائے اصلاح، آگاہی اور اخلاقی تربیت کا مرکز ہونا چاہیے۔ علماء کو چاہیے کہ وہ اختلافی موضوعات پر علمی انداز اختیار کریں، اپنے سامعین میں تحمل اور برداشت پیدا کریں اور امت کے مشترکہ مسائل پر بھی گفتگو کریں۔
نوجوان نسل کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ مذہبی معلومات کو مستند ذرائع سے حاصل کرے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر تحریر، تصویر یا ویڈیو کو حقیقت سمجھ لینا درست نہیں۔ مطالعہ، تحقیق، مکالمہ اور تنقیدی شعور نوجوانوں کو جذباتی انتشار سے محفوظ رکھتے ہیں۔
معاشرے کے عام افراد بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پڑوسیوں کے حقوق، ایک دوسرے کے دکھ درد میں شرکت، سماجی تعاون، تعلیمی سرگرمیوں میں اشتراک اور انسانی مسائل کے حل میں مشترکہ کوششیں وحدت کی عملی صورتیں ہیں۔ جب مختلف مکاتبِ فکر کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ انسانی اور سماجی تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں تو باہمی اعتماد کی فضا پیدا ہوتی ہے۔
وحدت کا مستقبل اور ہماری اجتماعی ذمہ داری
مسلم معاشرے کا مستقبل اس بات سے وابستہ ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو کس انداز سے سنبھالتا ہے۔ اختلافات کو ختم کرنا شاید ممکن نہ ہو، لیکن انہیں تہذیب، علم اور اخلاق کے دائرے میں رکھنا ضرور ممکن ہے۔ کسی بھی مسلک کی علمی شناخت کو مٹائے بغیر مشترکہ اسلامی مقاصد کے لیے کام کیا جا سکتا ہے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ دینی ادارے، تعلیمی مراکز، علمی شخصیات اور سماجی تنظیمیں باہمی رابطے کو فروغ دیں۔ مشترکہ علمی نشستیں، بین المسالک مکالمے، تعلیمی منصوبے، رفاہی سرگرمیاں اور نوجوانوں کی تربیت ایسے اقدامات ہیں جو وحدت کے تصور کو عملی زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ امت کی طاقت ایک دوسرے کو کمزور کرنے میں نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے میں ہے۔ بیرونی چیلنجز کا مقابلہ، مسلم معاشروں کی ترقی، علمی و تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ اور انسانی حقوق کا تحفظ اسی وقت بہتر طور پر ممکن ہے جب مسلمان اپنے مشترکہ مفادات کے لیے متحد ہوں۔
’’رہبرِ شہید اور وحدتِ اسلامی‘‘ ایک ایسے موضوع کی طرف توجہ مبذول کراتی ہے جس کی اہمیت ہر دور میں مسلم معاشرے کے لیے مسلم رہی ہے۔ کتاب قرآن مجید کی تعلیمات، اہلِ بیتؑ کی سیرت، اسلامی تاریخ کے تجربات اور عصرِ حاضر کے حالات کی روشنی میں وحدت کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لاتی ہے۔ اس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ وحدت محض ایک خوب صورت نعرہ نہیں، بلکہ ایک فکری شعور، اخلاقی رویہ اور عملی ذمہ داری ہے۔
کتاب کے ابتدائی صفحات میں مولانا سید ظہیر عباس صاحب اور مولانا عبیداللہ اعظمی صاحب کی تحریروں کی شمولیت اس موضوع کی بین المسالک اہمیت کو نمایاں کرتی ہے، جبکہ حوزۂ علمیہ امام خمینی اور اس کے مدیر مولانا سید محمد رضا غروی صاحب کی اشاعتی کاوش اس فکر کو قارئین تک پہنچانے کا ذریعہ بنی ہے۔
اس کتاب کے مطالعے سے یہ احساس مضبوط ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے علمی و اعتقادی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے لیے احترام، برداشت اور خیرخواہی کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ وحدت کا مطلب یکسانیت نہیں، بلکہ اختلاف کے باوجود مشترکہ مقصد کے لیے ساتھ چلنے کا نام ہے۔ یہ ایک ایسا اجتماعی شعور ہے جو امت کو انتشار سے نکال کر تعاون، استحکام اور تعمیر کی طرف لے جا سکتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وحدت کو صرف تقریروں اور تحریروں کا موضوع نہ بنائیں، بلکہ اپنے کردار، معاملات، اداروں اور اجتماعی رویوں میں اس کا اظہار کریں۔ کیونکہ امت کی حقیقی قوت اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کے افراد اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے حق، عدل، انسانیت اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے متحد ہو جائیں۔ یہی اس کتاب کا مرکزی پیغام اور ہمارے لیے اس کا سب سے اہم عملی سبق ہے۔










آپ کا تبصرہ