تحریر: مولانا ظہور مہدی مولائی
حوزہ نیوز ایجنسی | یوں تو مسلمانوں کی بصیرت کا امتحان بہت سے مقامات پر ہوا ہے لیکن ان کی بصیرت کا جیسا امتحان جنگ صفین کے موقع پر ہوا ہے وہ کم نظیر ہے۔
بلاشبہ بے بصیرتی وہ مضر، خطرناک اور مہلک شے ہے جو جیتے ہوئے عہد ساز معرکوں کو بھی کھلی ہار اور شکست میں تبدیل کر دیتی ہے، جس کا مشاہدہ جنگ احد اور اس سے زیادہ واضح طور پر جنگ صفین میں بآسانی کیا جا سکتا ہے۔
افسوس کہ جنگ صفین میں مولا علی علیہ السلام جیسے عظیم الشان امام و قائد کے عمیق و بصیرت افروز ہدایات و ارشادات اور عمار یاسر، مالک اشتر، سھل ابن حنیف انصاری، ابن تیہان اور ذو الشهادتين علیہم الرحمہ جیسے بصیر و فریس افراد کے تذکرات کے باوجود بے بصیرت لوگوں کی اکثریت اپنی جہالت و نادانی اور بے بصیرتی کی وجہ سے معاویہ و عمرو عاص جیسے عیاروں اور مکاروں کے فریب میں آگئی اور انھیں کی جہالت و حماقت کی بنا پر بری طرح ہارا ہوا معاویہ اس جنگ کا فاتح بن کر اپنے باطل و منحوس اور اسلام و ایمان سوز مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا، جبکہ مولا علی علیہ السلام جیسے عظیم المرتبت عقیل و بصیر اور شجاع ترین قائد، مجاہد اور امام کو اس جنگ میں شکست کا زہرہلاہل سے بھی زیادہ تلخ جام پینا پڑا۔
البتہ اتنا ضرور ہے کہ بے شمار جان لیوا تلخیوں سے بھرا ہوا یہ معرکہ صبح قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے عبرتوں اور نصیحتوں کی ایسی کھلی کتاب بن گیا کہ جس کے ذریعہ وہ حق کے حقیقی و واقعی اور باطل کے نہایت غلط انداز و خطرناک چہرہ کو آسانی سے پہچان سکتے ہیں اور اس صحیح پہچان اور شناخت کے سہارے جنگ صفین سے مشابہ تمام مواقع اور حالات میں حق کی دل و جان سے نصرت و مدد اور باطل سے اپنی دلی عداوت اور اس کی کھلی مخالفت کا فرض ادا کر سکتے ہیں۔
خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب کی طرف سے معاویہ ابن ابی سفیان اموی کو 18 ہجری میں شام کی گورنری کا منصب سونپا گیا اور وہ تا عمر اس منصب پر قابض رہا اور اپنے بعد اپنے بے دین و بد کردار بیٹے یزید ملعون کو اس منصب پر مسلط کر کے واصل جہنم ہوا۔
معاویہ نے اس منصب سے سوء استفادہ کرتے ہوئے بزور ظلم و ستم بہت دولت و ثروت جمع کی اور اپنے ارد گرد بہت سے دنیادار، دین فروش، شاطر، منافق مکار، عیار اور چاپلوس لوگوں کو اکٹھا کیا، جو سب کے سب اس کے غلیظ و باطل افکار و اعمال کی پر زور تائید اور دلفریب توجیہ کرتے اور ہر وقت اس کی جی حضوری میں لگے رہتے تھے۔
معاویہ شام پر حکومت کو اپنا ذاتی حق سمجھتا تھا اور یہ خیال کرتا تھا کہ اس سے یہ منصب کبھی واپس نہیں لیا جائے گا، لیکن جب سرکار امیر المومنین علیہ السلام نے مسلمانوں کے شدید اصرار پر حکومت و خلافت ظاہری قبول فرمائی تو اسے یہ محسوس ہوا کہ اب اس منصب سے اسے معزول کر دیا جائے گا، اس لئے خون عثمان کے انتقام کو بہانہ قرار دے کر وہ بمقام صفین، دین اسلام کے بے لوث اور انتھک مخلص و مجاہد مولا علی علیہ السلام سے جنگ لڑنے کے لئے ایک بھاری لاؤ لشکر کے ساتھ نکل پڑا، سید المجاہدین مولا علی علیہ السلام بھی خداوند عزیز و متعال سے کئے ہوئے عہد کی خاطر اسلامی امت کو اس کے شر و فساد سے نجات دینے کے لئے عراق سے اپنے لشکر کے ہمراہ صفین کی طرف روانہ ہو گئے۔(1)
مولا علی علیہ السلام کا بصیرت افروز اقدام : کی
صفین کی طرف روانہ ہونے سے پہلے حضرت مولائے کائنات علیہ السلام نے یہ بصیرت افروز کام کیا کہ مہاجرین و انصار کے نمایاں اور موثر افراد کو بلایا اور ان کی رائے جاننے کے لئے ان سے اس درپیش جنگ کے سلسلہ میں گفتگو فرمائی، چنانچہ آپ نے حمد و ثنائے الہی کے بعد ان سے خطاب کرتے ہوئے یوں فرمایا :
آپ مہاجرین و انصار کے عالم و دانشمند!! اہل رائے اور حق کے طرفدار ہیں، ہمارا ارادہ یہ ہے کہ ہم دشمن سے مقابلہ کرنے شام کی طرف جائیں، اس سلسلہ میں آپ لوگ اپنی رائے اور مشورہ کے ذریعہ ہماری مدد کریں۔
سہل ابن حنیف انصاری کا پر بصیرت جواب :
سرکار امیر المومنین علیہ السلام کی گفتگو سن کر حاضرین کے درمیان کچھ باتیں رد و بدل کے طور پر ہوئیں اور پھر ان سب کی نمائندگی میں" سہل ابن حنیف" نے کھڑے ہوکر یوں عرض کی:
یا امیر المومنین ہم محض آپ کے تابعدار ہیں، آپ جس سے صلح کریں گے، ہم اس سے صلح کریں گے اور آپ جس سے جنگ کریں گے، ہم اس سے جنگ کریں گے، ہماری رائے وہی ہے جو آپ کی رائے ہے اور ہمارا وجود آپ کے اختیار میں ہے، جب آپ ہمیں دعوت دیں گے تو ہم لبیک کہیں گے اور آپ کی اطاعت کریں گے۔(2)
عہد و پیمان کی تجدید و تکرار:
جب عراق کے شہر کوفہ سے صفین کی طرف روانہ ہو کر مولا علی علیہ السلام اپنے لشکر کے ساتھ صفین کے نزدیک ایک پہاڑ کے دامن میں ٹھہرے تو مغرب کا وقت نزدیک تھا، آپ نے وہاں اپنی نہایت حسین و دل نشین آواز میں اذان کہی اور جیسے ہی اذان تمام ہوئی تو ایک نورانی شکل و صورت کے سفید ریش بزرگ اس پہاڑ کے دامن سے خارج ہوئے اور اس طرح گویا ہوئے:
السلام علیک ورحمت اللہ و برکاتہ اے مومنوں کے امیر و رئیس، مرحبا اے خاتم الانبیاء کے جانشین، سعادت مندوں کے رہبر اور اوصیائے مرسلین کے سید و سربراہ!!
مولا نے جواب دیتے ہوئے فرمایا:
اللہ کا درود و سلام ہو آپ پر بھی، آپ کیسے ہیں؟
اس نورانی بزرگ نے عرض کی : ٹھیک ہوں اور میں روح القدس کا منتظر ہوں، پھر مزید یہ کہا:
میں راہ خدا میں آپ سے زیادہ سنگین امتحان دینے والے، اجر و ثواب کے اعتبار سے حسین ترین جزا پانے والے اور اللہ کے نزدیک بلندترین مقام و منزلت والے کسی شخص کو نہیں جانتا۔
اے میرے بھائی آپ تمام تلخیوں اور سختیوں کے مقابلہ میں اس حد تک صبر سے کام لینا کہ خداوند حبیب سے ملاقات کرلیں۔
اس کے بعد ان سفید ریش بزرگوار نے اہل شام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ :
اگر یہ روسیاہ جان لیتے کہ آپ سے جنگ کرکے کیسے عذاب اور کیسی بد عاقبتی میں گرفتار ہوں گے تو کبھی جنگ نہ کرتے!!
پھر انھوں نے اہل عراق یعنی مولا کے اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر کہا :
اگر آپ کے یہ نورانی و خوشبخت افراد جان لیتے کہ آپ کے فرامین کی اطاعت کرنے کا کس قدر اجر و ثواب حاصل کریں گے تو آرزو کرتے کہ آپ کی اطاعت کی راہ میں قینچی سے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں۔
آپ پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں، یہ کہکر وہ بزرگ اسی پہاڑ کے دامن میں پوشیدہ ہوگئے۔
یہ واقعہ دیکھ کر مولا کے خاص اصحاب اور خالص شیعوں(عمار، ابن تیہان، ابو ایوب انصاری، عبادہ ابن صامت، ہاشم مرقال اور خزیمہ انصاری وغیرہ) نے عرض کی: یا امیر المومنین یہ بزرگوار کون تھے؟
آپ نے فرمایا: یہ حضرت عیسی کے وصی شمعون تھے، جنھیں اللہ نے اس لئے بھیجا تھا تاکہ مجھے وہ دشمنان خدا سے جنگ کرنے کے سلسلہ میں صبر و استقامت کی تلقین کریں، یہ سن کر مولا کے ان ساتھیوں نے (اپنے عہد و پیمان کی تجدید کرتے ہوئے) کہا:
"فداک آباؤنا و امھاتنا واللہ لننصرنک کما نصرنا لرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ ولا یتخلف عنک من المھاجرین و الانصار الا شقی"
ہم سب کے ماں باپ آپ پر قربان!! قسم بخدا ہم سب آپ کی اسی طرح مدد و نصرت کریں گے، جس طرح ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی مدد و نصرت کی تھی اور مہاجرین و انصار میں سے کوئی آپ کے امر کی نافرمانی نہیں کرے گا مگر وہ کہ جو شقی و بد بخت ہوگا، مولا نے یہ سن کر ان سب کا شکریہ ادا کیا اور انھیں دعا دی۔ (3)
معاویہ کی مکاری و عیاری:
حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام نے صفین میں پہنچ کر جنگ شروع کرنے سے پہلے دشمنوں پر حجت تمام کرنے کے لئے انھیں اللہ عز وجل کی اطاعت کرنے اور راہ صلح و آشتی اپنانے کی دعوت دی، لیکن معاویہ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ خون عثمان کا انتقام لینے پر اصرار کرتا رہا، جبکہ اس پر واضح تھا کہ مولا علی علیہ السلام قتل عثمان میں شریک نہیں تھے۔
اس مکار و عیار نے جنگی مکارانہ حربہ استعمال کرتے ہوئے ایک کاغذ پر یہ لکھا :
"معاویہ کا ارادہ یہ ہے کہ صبح کے وقت فرات کے پانی کا بہاؤ تمھاری طرف موڑ دے تاکہ تم سب غرق ہوجاو"
اور اس کاغذ کو ایک تیر میں پیوست کر کے وہ تیر مولا علی علیہ السلام کے لشکر کی طرف رہا کر دیا، جیسے ہی اس مکر و فریب سے لبریز چیلنج کو کچھ بے بصیرت کوفیوں نے پڑھا تو وہ معاویہ کے جھانسِہ میں آکر فرات کے ساحل سے دور ہو گئے اور وہ اپنے لشکر کے ساتھ اس پر قابض ہوگیا اور اس نے مولا کے سپاہیوں پر پانی بند کر دیا۔
یہ صورتحال دیکھ کر مولا نے ایک خطبہ دیا اور اس طرح اپنے لشکر کو جوش غیرت و شجاعت دلایا :
قَدِ اسْتَطْعَمُوكُمُ الْقِتَالَ، فَأَقِرُّوا عَلَى مَذَلَّةٍ وَ تَأْخِيرِ مَحَلَّةٍ أَوْ رَوُّوا السُّيُوفَ مِنَ الدِّمَاءِ تَرْوَوْا مِنَ الْمَاءِ؛ فَالْمَوْتُ فِي حَيَاتِكُمْ مَقْهُورِينَ وَ الْحَيَاةُ فِي مَوْتِكُمْ قَاهِرِينَ. أَلَا وَ إِنَّ مُعَاوِيَةَ قَادَ لُمَةً مِنَ الْغُوَاةِ وَ عَمَّسَ عَلَيْهِمُ الْخَبَرَ حَتَّى جَعَلُوا نُحُورَهُمْ أَغْرَاضَ الْمَنِيَّة. (4)
تم سے انھوں نے جنگ کے دسترخوان پر حاضر ہونے کا مطالبہ کیا ہے(اور اب تمھارے سامنے دو ہی راستے ہیں) یا تو ذلت و رسوائی کا اقرار کرلو اور جس مقام پر ہو اس سے پیچھے ہٹ جاؤ یا اپنی تلواروں کو ان کے خون سے سیراب کردو اور خود پانی سے سیراب ہوجاو۔
(یاد رکھو کہ) مغلوب و ناکام ہوکر تمھارا زندہ رہنا بھی موت ہے اور کامیاب و کامران ہو کر تمھارا مرجانا بھی زندگی ہے۔
جان لو کہ معاویہ ایسے گروہ کو میدان جنگ میں کھینچ کر لایا ہے کہ حقیقت جس سے پوشیدہ ہے(اور وہ ایسے بے خبر افراد کو اس لئے لایا ہے ) تاکہ وہ اپنی گردنوں کو موت کا ہدف و نشانہ قرار دیں۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام کی عظیم الشان شرافت و شہامت :
واضح ر ہے کہ جنگ صفین نہر فرات کے ایک کنارِہ پر واقع ہوئی تھی، ہوا یہ کہ فرات کے گھاٹ پر قبضہ کر کے معاویہ نے حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے لشکر پر پانی بند کردیا، اور جب مولا علیہ السلام نے معاویہ علیہ الہاویہ کی یہ غیر انسانی حرکت دیکھی تو ایک قاصد اس کے پاس بھیج کر یہ پیغام دیا کہ ہمارے یہانتک آنے کا پہلا مقصد مذاکرہ اور گفتگوکرنا ہے تاکہ خداوند متعال مسلمانوں سے اس مشکل کو صلح کے ذریعہ برطرف فرما دے، آخر تو نے ایسی حرکت کیوں کی ہے؟
لیکن معاویہ نے مولا کی اس بات کا کوئی نوٹس نہیں لیا چونکہ وہ تو یہ سمجھ رہا تھا کہ میں نے بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے!!
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر دشمن کو اپنی کامیابی کے آثار نظر آتے ہیں یا تھوڑی سی کامیابی مل جاتی ہے، تو وہ مذاکرہ کے لئے آمادہ نہیں ہوتا لیکن جب اسے شکست و ناکامی کا خوف ہوتا ہے تو پھر خود بار بار مذاکرہ کی پیشکش کرتا ہے، حالانکہ اس کا مقصد امن و امان یا صلح و آشتی کے لئے ڈائیلاگ کرنا نہیں ہوتا بلکہ اپنے مخالف فریق کو مذاکرات میں الجھا کر پلاننگ اور تیاری کے لئے مزید فرصت حاصل کرنا ہوتا ہے۔
جب مولا علیہ السلام نے معاویہ کی یہ حالت دیکھی تو حملہ کا حکم صادر فرمایا اور آپ کے اصحاب نے اسی دن گھاٹ سے لشکر شام کو کھدیڑ کر اس کو اپنے قبضہ میں لے لیا اور اس کے بعد انھوں نے کہا: اب ہم بھی انھیں پانی نہیں دیں گے!! لیکن مولا امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: نہیں!! ہم ان کے ساتھ ایسا نہیں کریں گے، چونکہ پانی ایسی چیز ہے جسے اللہ عز وجل نے مسلم و کافر سب کے لئے قرار دیا ہے اور یہ عمل شرافت و شہامت اور فتوت و مردانگی کے خلاف ہے لہذا تم ان کے ساتھ ایسا نہ کرنا، جیسا انھوں نے تمھارے ساتھ کیا ہے!! چونکہ علی اس قسم کا غیر شریفانہ کام کر کے کامیابی حاصل کرنا نہیں چاہتا۔(5)
اس سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ سرکار امیر المومنین علیہ السلام اور معاویہ ملعون کے کردار میں اتنا ہی فرق ہے کہ جتنا ایک نہایت عظیم و علی اور انتہائی سخیف و دنی انسان کے درمیان فرق ہوتا ہے، لیکن تاریخ کی ستم ظریفی دیکھئے کہ اتنے واضح فرق کے باوجود جس طرح مولا علی علیہ السلام کو "امیرالمؤمنین " کہکر پکارتی ہے، اسی طرح معاویہ کو بھی"امیرالمؤمنین " کا لقب دینے سے نہیں چوکتی، شاید اسی لئے مولائے کائنات علیہ الصلوة و السلام نے شکوہ کرتے ہوئے یہ فرمایا تھا:
الدَّهْرُ انْزَلَنِی ثُمَّ انْزَلَنِی، ثم انْزَلَنِی حَتَّى یُقال علی و معاویة! ۔(6)
یعنی زمانہ نے میرے مقام و مرتبہ کو پست کیا، پھر پست کیا، پھر پست کیا (اور اتنا پست کیا) کہ علی اور معاویہ ایک ساتھ کہا جانے لگا۔
شکوہ دلسوزی و ہدایت :
اس میں ذرہ برابر شک نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرح مولا علی علیہ السلام بھی لوگوں کی اصلاح و ہدایت کے سلسلہ میں نہایت دلسوز و حساس تھے، اسی لئے فرات کو فتح اور لشکر شام پر اس کے پانی کو آزاد کرنے کے بعد آپ نے چند روز تک جنگ نہیں فرمائی اور منتظر رہے کہ شاید کوئی آپ کے اس الہی و اسلامی فضل و کرم کو دیکھ کرراہ ہدایت پہ آجائے، لیکن خدا برا کرے جہالت و بے بصیرتی کا کہ اہل کوفہ اس انتظار کو برداشت نہ کر سکے اور آنحضرت کی خدمت میں آکر اس طرح گلہ کرنے لگے:
یا امیرالمؤمنین!! ہم کوفہ میں اپنے اہل و عیال کو چھوڑکر یہاں آئے ہیں اور شام کی سرحدوں کے اطراف میں سکونت پذیر ہونے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے، پس ہمیں جنگ کرنے کا حکم دیں، چونکہ لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں، مولا نے فرمایا : آخر لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں؟
ایک کوفی نے کہا: کچھ لوگ یہ کہ رہے ہیں کہ آپ موت کے خوف سے جنگ شروع نہیں کر رہے ہیں اور کچھ یہ کہ رہے ہیں کہ آپ شامیوں سے جنگ کرنے کے حوالہ سے شک و تردید میں مبتلا ہو چکے ہیں!
یہ سن کر حضرت نے فرمایا :
حیرت کا مقام ہے کہ جب میں نوجوان اور جوان تھا تب موت سے خوفزدہ نہیں ہوا تو کیا اب بڑھاپے میں موت سے نزدیک ہو کر اس سے ڈروں گا؟
اور رہی اہل شام سے جنگ کرنے میں شک و تردید کی بات، تو سنو مجھے اگر شک و تذبذب ہوتا تو اہل جمل کے سلسلہ میں ہوتا مگر میں ان کے سلسلہ میں ہرگز شک و تردید کا شکار نہیں ہوا (تو بھلا اہل شام سے جنگ کرنے میں تذبذب کا شکار کیسے ہو سکتا ہوں) قسم بخدا میں نے اس کام کے تمام پہلوؤں پر اچھی طرح غور و فکر کیا ہے اور مکمل آگاہی و بصیرت کے ساتھ اس راستہ کا انتخاب کیا ہے، میں جانتا ہوں کہ اگر اس قوم سے جنگ نہیں کروں گا تو اللہ و رسول کےحکم کی نافرمانی کا مرتکب ہو جاؤں گا، لیکن اس کے ساتھ میری تھوڑی نرمی اور اسے مہلت دینے کی وجہ یہ ہے کہ شاید صحیح راستہ پہ آجائے اور ہدایت پاجائے، اگر پوری قوم نہ سہی تو کچھ لوگ ہی ہدایت اور راہ حق کی طرف آجائیں، چونکہ سرکار رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ حدیث میں ہرگز نہیں بھول سکتا جو آپ نے جنگ خیبر کے ہنگام یوں ارشاد فرمائی تھی: اگر تمھارے ذریعہ ایک شخص بھی ہدایت پا جائے تو یہ تمھارے لئے ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج کی روشنی پڑتی ہے۔(7)
جناب عمار ابن یاسر کی بصیرت افروز تقریر:
جناب عمار یاسر علیہ الرحمہ اللہ عز و جل کے صالح و مومن بندہ اور حضرت رسالتماب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مولا امیرالمؤمنین علیہ السلام کے سچے، مخلص اور مطیع و فرمانبردار صحابی و حواری تھے۔
وہ جنگ صفین میں دل و جان سے مولا علی علیہ السلام کے ساتھ تھے، ایک دن وہ لشکر کی صف سے نکلے اور انھوں نے اہل لشکر کے اعتقاد و ایمان کو مستحکم کرنے کے لئے اس طرح ایک بصیرت افروز تقریر فرمائی :
اللّهمّ إنّک تعلم أنّی لو أعلم أن رضاک فی أن أقذف بنفسی فی هذا البحر لفعلت. اللّهمّ إنّک تعلم أنّی لو أعلم أنّ رضاک أن أضع طبة سیفی فی بطنی ثمّ أنحنی علیها حتّی یخرج من ظهری لفعلت. اللّهمّ و إنی أعلم ممّا أعلمتنی أنّی لا أعمل الیوم عملا هو أرضی لک من جهاد هؤلاء القاسطین و لو أعلم الیوم عملا أرضی لک منه لفعلته۔(8)
اے اللہ تو جانتا ہے کہ اگر مجھے علم ہو جائے کہ تیری رضا اس میں ہے کہ میں اپنے کو دریا میں ڈال دوں تو میں اپنے کو اس میں ڈال دوں گا، اے اللہ تو جانتا ہے کہ اگر مجھے علم ہو جائے کہ تیری رضا اس میں ہے کہ میں اپنی تلوار کی نوک اپنے پیٹ پر رکھ دوں اور اسے اس طرح اپنے پیٹ کے اندر اتار دوں کہ وہ میری پشت سے نکل جائے، تو میں ایسا کر ڈالوں گا۔
اے اللہ!! میں تیرے عطا کردہ علم کی وجہ سے یہ جانتا ہوں کہ آج کوئی عمل ان قاسطین و فاسقین سے جہاد کرنے سے زیادہ تیری رضا و خوشنودی کا باعث نہیں ہے، اگر مجھے علم ہوتا کہ کوئی عمل آج اس عمل سے زیادہ تیری رضا و خوشنودی کا باعث ہے تو میں اسی کو انجام دیتا۔
اس معرفت و بصیرت سے بھرپور خطاب کے بعد آپ نے بلند آواز سے فرمایا :
پس جو اللہ کی رضا و خوشنودی چاہتا ہے اور اپنے اموال و اولا کی طرف پلٹنا نہیں چاہتا، وہ میرے ساتھ آجائے۔
لیلةالہریر کی روداد:
لیلة الہریر جنگ صفین کی راتوں میں سے ایک سخت اور شورو ہیجان سے لبریز رات کا نام ہے کہ جس میں مولا علی علیہ السلام اور معاویہ کے لشکر کے درمیان شدید مقابلہ ہوا اور ایک دوسرے کی طرف سے تابڑ توڑ حملےکئے گئے اور بہت سے لوگ قتل ہوئے، چونکہ اس جنگ میں جنگجوؤں اور زخمیوں کی چیخ و پکار رات سے لےکر صبح تک گونجتی رہی، اس لئے اسے لیلةالہریر کہا جاتا ہے۔
علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے تحریر کیا ہے کہ :
اس رات کو " لیلةالہریر " اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں جنگووں کے درمیان بہت شوروغل برپا تھا اور معاویہ جنگ کی سختی و شدت اور سپاہ عراق کی کامیابی کے خوف سے بہت بلبلا رہا تھا، چونکہ ہریر اصل میں شدید سردی کے موسم میں کتے کے رونے اور نالہ و فریاد کرنے کو کہتے ہیں۔(9)
منقری کے بیان کے مطابق اس رات دونوں لشکروں کے درمیان اتنی سخت جنگ ہوئی کہ جب نیزے ختم ہوگئے تو تلواروں اور پتھروں سے حملے کئے گئے، اس رات تلواروں کے چلنے کی خوفناک آوازوں کے علاوہ کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا اور وہ آوازیں لوگوں کے لئے بجلی کے کڑکنے اور پہاڑوں کے پھٹ کر گرنے کی آوازوں سے کہیں زیادہ ہولناک تھیں۔(10)
لیلةالہریر میں مولا علی علیہ السلام کی دعا :
11 صفر جمعرات کادن جنگ صفین کا سب سے سخت اور ہولناک دن تھا، اس دن محاذ جنگ پر لشکر کی کمان اور سپہ سالاری خود مولا علی علیہ السلام سنبھالے ہوئے تھے اور سختی سے جنگ فرما رہے تھے۔
آپ پورے جوش و ولولہ سے جنگ کرتے ہوئے اپنی فوج کو اس بات پر ابھار رہے تھے کہ قلب لشکر میں جا کر جنگ کرے، اس دن ایک لمحہ کے لئے بھی جنگ نہیں رکی، یہانتک کہ مولا اور آپ کے لشکر نے نماز بھی حالت جنگ میں ادا کی۔
اس جنگ میں مقتولین کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ہر طرف لاشوں کی وجہ سے پشتے لگے نظر آرہے تھے۔
اس دن مولا نے تن تنہا عرب کے 523 نامور دلیروں اور پہلوانوں کو قتل کیا، آپ جب بھی کسی دشمن کو قتل کرتے تو تکبیر کہتے تھے اور اس سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ آپ نے دشمن کو زمین پر دے مارا ہے۔
علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کے بقول اس دن کو "جمعرات کی جنگ کا دن" یا " یوم الہریر" کہا جاتا ہے۔(11) جب یہ دن ڈھلا تو سب کو گمان یہ تھا کہ اب جنگ رک جائے گی، لیکن سب کے گمان کے برخلاف مولا علی علیہ السلام نے مغرب و عشا کی نماز پڑھنے کے بعد ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور پھر اپنی فوج کو حملہ کرنے کا حکم دیا، یہ حکم صادر فرمانے کے بعد خود مولا علیہ السلام رو بقبلہ ہو کے اپنے ہاتھ بلند کرکے بارگاہ خداوندی میں اس طرح دعا و فریاد کرنے لگے:
یا اللہ، یا رحمن، یا رحیم، یا واحد، یا احد یاصمد، یا اللہ، یا الہ محمد۔۔۔انا نشکو الیک فقد نبینا صلی اللہ علیہ و آلہ و کثرة عدونا، و تشتة اھوائنا، ربنا افتح بیننا و قومنا بالحق و انت خیر الفاتحین(۔12)
اشعث ابن قیس کی بے بصیرتی اور منافقت :
اشعث ابن قیس ملعون بہت بڑا منافق و دغاباز تھا اور وہ جنگ صفین میں اپنی عربی حمیت کی وجہ سے شامل تھا نہ کہ دینی و ایمانی جذبہ کے تحت۔
صفین میں جب حضرت مولائے کائنات علیہ السلام کی فتح نزدیک تھی، تو اس نے مولا کے کندی فوجیوں کے درمیان تقریر کی اور اس جنگ میں قوم عرب کے نیست و نابود ہو جانے کا مرثیہ پڑھا اور انھیں مزید جنگ کرنے کے بجائے صلح کی طرف راغب کیا۔(13)
افسوس ہزار افسوس کہ اس کی یہی جہالت و بے بصیرتی اور منافقت و غداری مولا علی علیہ السلام اور آپ کے لشکر کی قریب الوقوع فتح کو ہار میں بدلنے کا ایک بڑا سبب قرار پائی، چونکہ اشعث ملعون کی مکارانہ تقریر کے بعد سرکار امیرالمومنین علیہ السلام کے اصرار و تاکید کرنے کے باوجود اہل کوفہ مزید جنگ کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔
قرآن کی نیزوں پر جعلی و پرفریب نمائش اور بصیرت کی اہم آزمائش:
معاویہ ملعون کو اس جنگ میں اپنی ہلاکت و نابودی واضح طور پر نظر آرہی تھی اور وہ اچھی طرح سمجھ چکا تھا کہ اس جنگ میں اسے کامیابی نصیب نہیں ہوگی، اس لئے اشعث ابن قیس ملعون کی غداری و منافقت اور عمرو ابن عاص مردود کی مکاری و عیاری کی مدد سے اس نے "حکمیت " ہی میں اپنی نجات جانی اور اپنی فوج کو نیزوں پر قرآن بلند کرنے کا حکم دیا اور لشکر نے نیزوں پر قرآن بلند کرکے یہ فریاد کی :
اے لوگو!! ہم اہل قبلہ اور اہل قرآن ہیں اور اس قرآن کو اپنے لئے حکم قرار دیتے ہیں۔
یہ کوئی نئی بات نہیں تھی بلکہ وہی بات تھی جسے سرکار امیر المومنین علیہ السلام جنگ شروع ہونے سے قبل اہل شام کے سامنے رکھ چکے تھے اور انھوں نے اسے ماننے سے صاف انکار کر دیا تھا! ۔
اسی لئے مولا علی علیہ السلام نے چیخ کر فرمایا : ان سے لڑو، یہ قرآن کے ورق و کاغذ کی آڑ میں اپنی جان بچانا چاہتے ہیں، دیکھنا اس کے بعد پھر یہ لوگ قرآن کے خلاف پہلے کی طرح اپنے ہی راستہ پر چلیں گے۔
مولا علیہ السلام نے حقیقت کو مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا:
قرآن کے اس خط و کاغذ کا اس کی حقیقت کے مقابلہ میں کوئی احترام نہیں ہے اور حقیقت قرآن " میں" ہوں۔
انھوں نے قرآن کی حقیقت کو مٹانے کے لئے اس کے خط و کاغذ کو بہانہ بنایا ہے، لیکن مولا علیہ السلام کی اس بصیرت لبریز فریاد کے باوجود آپ کا لشکر دوحصوں میں تقسیم ہو گیا، کچھ مخلص اصحاب یہ چاہتے تھے کہ مولا کے حکم کے مطابق جنگ بہر قیمت جاری رکھی جائے، جبکہ فوج کا بڑا حصہ جو بے بصیرت اور جاہل و نادان سپاہیوں پر مشتمل تھا وہ کسی قیمت پر جنگ جاری رکھنے پر راضی نہیں تھا۔
نادانوں کا وہی بڑا گروہ مولا علیہ السلام کی مذکورہ وضاحت سننے کے بعد ایک دوسرے سے کہنے لگا : علی یہ کیا کہ رہے ہیں! ۔
پس وہ گروہ یہ نعرہ لگانے لگا : ہم قرآن سے جنگ نہیں کریں گے، ہماری جنگ احیائے قرآن کے لئے تھی، اب وہ قرآن کے سامنے سرتسلیم خم کر رہے ہیں تو ہم ان سے جنگ کیوں لڑیں! ۔
مولا نے یہ سن کر جواب میں ارشاد فرمایا:
میں بھی یہی کہتا ہوں کہ قرآن کی خاطر جنگ کرو، لیکن انھیں قرآن سے کوئی سروکار نہیں ہے، انھوں نے تو فقط اپنی جان بچانے کے لئے قرآن کے خط و جلد کو حیلہ قرار دیا ہے، لیکن ان جاہل و نادان ساتھیوں نے آپ کی ایک نہ سنی، بلکہ آپ کو یہ وارننگ بھی دی کہ اگر آپ نے فورا جنگ نہ رکوائی تو ہم عثمان کی طرح آپ کو قتل کر دیں گے یا پھر آپ کو معاویہ کے سپرد کردیں گے۔ (14)
مولا علی علیہ السلام اور حکمیت کا نہایت تلخ جام :
مولا علی علیہ السلام کے لشکر میں اگرچہ ایسے مجاہد و گنجگو سپاہی بھی تھے جو جنگ جاری رکھنے کے بشدت حامی تھے لیکن جنگ جاری رکھنے کے سرسخت مخالف بے بصیرت اور جاہل و نادان افراد قوت و کثرت میں تھے، اس لئے مولا علی علیہ السلام کو نہ چاہتے ہوئے بھی حکمیت کا زہر سے کہیں زیادہ تلخ جام پینا پڑا۔
جب بات حکمیت تک پہنچ گئی تو معاویہ نے اپنے حکم کے طور پر عرب کے مشہور و معروف عیار و مکار ابن نابغہ عمروعاص کو چنا اور مولا نے عبداللہ ابن عباس کا نام اس مہم کے لئے پیش کیا، مگر منافقین کا سربراہ اشعث ابن قیس نہیں مانا اور اس نے ابوموسی اشعری کو حکم بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا ڈالا جب کہ ابو موسی ایک سادہ لوح، مغرض، بے بصیرت اور موٹے دماغ کا آدمی تھا، اسی لئے عمرو عاص نے جیسے ہی اس کی تھوڑی سی تعریف کی، وہ فورا اس کے جھانسہ میں آگیا اور اس خبیث نے بڑی آسانی سے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتارتے ہوئے اللہ و رسول کے برحق اور امت اسلامی کے متفق علیہ حاکم و خلیفہ مولا علی علیہ السلام کو خلافت و حکومت سے معزول کر دیا اور اس کے بعد نطفہ نا تحقیق عمرو عاص نے اپنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے ہوئے معاویہ کو خلیفہ منصوب کر دیا۔ اور اس طرح یہ جنگ معاویہ اور اس کے ساتھیوں کے نفع میں تمام ہوگئی۔۔۔(15) اور سرکار امیرالمومنین علیہ السلام اور آپکے سچے اور مخلص اصحاب خون کے گھونٹ پی کر رہ گئے! ۔
نتیجہ :
اس معرکة الآرا جنگ کے نتیجہ کے طور پر یہ حسب ذیل باتیں کہی جا سکتی ہیں :
1۔ صفین میں بے بصیرتی کی وجہ سے مولا علی علیہ السلام کی کھلی فتح، ہار میں تبدیل ہوگئی۔
2۔ اسی منحوس جرثومِہ پر اعتماد کرتے ہوئے معاویہ نے نیزوں پر قرآن بلند کرنے کی پرفریب سازش رچی اور انتہائی ذلت بار شکست سے نجات حاصل کی۔
3۔ خواص کی یہی بے بصیرتی حکمیت کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
4۔ یہی بے بصیرتی سبب قرار پائی کہ مفترض الطاعہ معصوم امام کی مرضی کے خلاف نا اہل کو حکم منتخب کیا گیا۔
5۔ نا اہل حکمین نے کھلی خیانت کرتے ہوئے برحق خلیفہ کو عزل اور ناحق و نا اھل فرد(معاویہ) کو نصب کرنے کا نہایت ظالمانہ فیصلہ سنایا۔
6۔اسی بھیانک جہالت و بے بصیرتی کی وجہ سے خوارج پیدا ہوئے اور جنگ نہروان کی نوبت آئی۔
7۔اسی جہالت و بے بصیرتی کے پیدا کردہ ایک خارجی عبدالرحمن ابن ملجم ملعون نے مسجد کوفہ کی مقدس محراب میں بحالت نماز و روزہ سرکار مولا امیر المؤمنین علیہ الصلوة والسلام کو زہر آلود ضربت لگاکر شہید کیا۔
حرف آخر:
جب بے شعوری و بے بصیرتی اتنی خطرناک اور نقصان دہ شے ہے تو ہر دور میں ہر ایک کا فریضہ ہے کہ اپنے اندر نور شعور و بصیرت پیدا کرنے کی مسلسل جد و جہد کرے اور اس سے منور ہونے کے بعد اپنے سماج میں یہ نور پھیلانے کی پوری پوری سعی و کوشش کرے۔
اگر خدا نخواستہ کوئی اپنی نا اھلی یا کسی اور وجہ سے یہ کام نہ کر سکے تو اس کا فرض ہے کہ سوسائٹی میں اپنے وجود کا اظہار نہ کرے اور باشعور و اھل بصیرت کی پیروی کو اپنے لئے لازم و واجب قرار دے تاکہ ہمارا معاشرہ بے بصیرتی کے خطرناک اور انتہائی مہلک عواقب و نتائج سے محفوظ رہ سکے۔
حوالے :
1۔ جزائری، سید نعمت اللہ، قصص الأنبیاء، ترجمه نور المبین فی قصص الأنبیاء و المرسلین، (ترجمه فاطمه مشایخ)، تہران : انتشارات فرهان، 1381 ش، ص 704۔
2۔ ابن مزاحم، نصر، وقعة الصفّین، قم : مکتبة آیت اللّه المرعشی، 1403 ق، ص 92۔
3۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت: مؤسسة الوفاء، 1403 ق، ج 6، ص 238۔
4۔ شریف، سید رضی، نهج البلاغه، خطبه 51۔
5۔ شہید مطہری، مرتضی، مجموعه آثار، تہران : نشر صدرا، بے تا، ج 16، ص 111۔
6۔ سید عبدالکریم ابن طاؤس، فرحة الغری فی تعیین قبر علی، قم : منشورات الرضی، بی تا، ص 7۔
7۔بحار الأنوار، ج 23، ص 744۔
8۔ وقعة الصفین، ص 320۔
9۔مجلسی، محمدباقر، مرآة العقول فی شرح أخبار آل الرسول، مصحح: رسولی محلاتی، هاشم، تہران : دار الکتب الإسلامیة، ۱۴۰۴ق، ج 15، ص 427۔
10۔ منقری : نصر بن مزاحم، وقعة الصفین، تحقیق: عبد السلام محمد هارون، القاهرة: المؤسسة العربیة الحدیثة، الطبعة الثانیة، ۱۳۸۲ق، افست قم : منشورات مکتبة المرعشی النجفی، ۱۴۰۴ق، ص 475۔
11۔ مرآة العقول، ج 15، ص 427۔
12۔ وقعة الصفین، ص 478۔
13۔حوالہ سابق، ص 477، 480۔
14۔حوالہ سابق۔
15۔ قصص الأنبیاء، ص 707۔










آپ کا تبصرہ