اتوار 8 نومبر 2026 - 08:35
منبر کی دو منٹ کی زحمت!

حوزہ/ہمارے بعض ذاکرین، خطباء کرام اور شعراء منبر سے خطاب کے دوران اکثر کہتے ہیں: ’’بس دو منٹ اور زحمت، پھر مجلس تمام!‘‘ لیکن افسوس کہ یہ دو منٹ کبھی کبھی بیس تیس منٹ تک پھیل جاتے ہیں۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| ہمارے بعض ذاکرین، خطباء کرام اور شعراء منبر سے خطاب کے دوران اکثر کہتے ہیں: ’’بس دو منٹ اور زحمت، پھر مجلس تمام!‘‘ لیکن افسوس کہ یہ دو منٹ کبھی کبھی بیس تیس منٹ تک پھیل جاتے ہیں۔

اس طرزِ عمل کو محض وقت کی بے احتیاطی کہہ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگرچہ ہر ایسی بات کو جھوٹ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ بعض اوقات مقرر گفتگو کے تسلسل میں وقت کا درست اندازہ نہیں کر پاتا، تاہم بار بار دو منٹ کہہ کر طویل گفتگو جاری رکھنا صداقت اور وعدے کی پاسداری کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ خصوصاً جب مقرر کو پہلے ہی اندازہ ہو کہ گفتگو دو منٹ میں مکمل نہیں ہوگی تو ایسی صورت میں یہ اندازِ بیان خلافِ واقعہ بات کہنے کے مترادف ہو سکتا ہے، جس سے حتی الامکان اجتناب کرنا چاہیے۔ منبر سے سچائی، امانت اور وعدے کی پاسداری کا درس دینے والوں کے لیے ضروری ہے کہ ان کی اپنی گفتگو بھی ان اعلیٰ اخلاقی اصولوں کی آئینہ دار ہو۔

یہ بات بظاہر معمولی ہے، مگر درحقیقت وقت کی پابندی، سامعین کے احترام اور قول و عمل کی یکسانیت سے تعلق رکھتی ہے۔ منبر صرف علم و تبلیغ کا مقام نہیں، بلکہ اخلاق و کردار کی عملی تربیت کا ذریعہ بھی ہے۔

اگر مقرر کو مزید گفتگو کرنی ہے تو اسے دو منٹ کہنے کے بجائے صاف طور پر بتانا چاہیے کہ اسے کچھ مزید وقت درکار ہے۔ سامعین سے مزید وقت مانگ کر ان کے وقت کا خیال نہ رکھنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔

یاد رکھیے! وقت کی اہمیت پر تقریر کرنے سے پہلے دوسروں کے وقت کی قدر کرنا ضروری ہے۔

منبر کی عظمت صرف بلند آواز میں تقریر کرنے میں نہیں، بلکہ مقرر کے نظم و ضبط، وعدے کی پاسداری اور اخلاقی کردار میں بھی نمایاں ہوتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha