۹ آذر ۱۴۰۰ |۲۴ ربیع‌الثانی ۱۴۴۳ | Nov 30, 2021
حسین امیر عبداللھیان

حوزہ/صہیونی حکومت کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے معاہدے کی تلخ حقیقت جو ہم دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے وہ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات امریکیوں کے جوتوں کے نیچے آچکا ہے اور جو کچھ بھی اب تک ہوا ہے وہ امریکیوں کے منصوبے کا ایک حصہ ہے، ان تلخ واقعات میں متحدہ عرب امارات آزادانہ فیصلہ نہیں لے سکا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،بین الاقوامی امور میں پارلیمانی اسپیکر کے معاون خصوصی نے کہا: " خطے میں اسرائیلی انٹیلیجنس سروس موساد اور اس سے وابستہ افراد کی طرف سے ایران اور علاقے میں کسی بھی خفیہ یا آشکارا اقدام کا جواب صہیونی ریاست کو ہی نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات کو دینا ہو گا۔
العالم کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو میں پارلیمنٹ اسپیکر کے خصوصی معاون حسین امیر عبداللھیان نے خطے میں رونما ہونے والے تازہ ترین واقعات خصوصا اسرائیل امارات معاہدے اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ صہیونی ریاست کے تعلقات پر گفتگو کی ہے۔
بین الاقوامی امور میں اسپیکر کے معاون خصوصی کا خیال ہے کہ صہیونی ریاست کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے معاہدے کی تلخ حقیقت، جسے ہمارا ملک دیکھنا نہیں چاہتا ہے، وہ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات امریکیوں کے ماتحت ہے اور جو کچھ ہوا ہے اس کا ایک حصہ ابھی سامنے آیا ہے. اور ان میں سے کچھ تلخ واقعات جو پیش آئے وہ متحدہ عرب امارات کا آزادانہ فیصلہ نہیں تھا اور ان امریکی اور صہیونی دباؤ کی وجہ سے تھا کہ امارات اس طرح کی ذلت کا شکار ہوا اور فلسطینی قوم کے خلاف اس غداری کا ارتکاب کیا۔
العالم: بنیادی طور پر خارجہ پالیسی کے معاملے میں متحدہ عرب امارات کو کتنا آزاد سمجھا جاسکتا ہے؟ کیونکہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ متحدہ عرب امارات خارجہ پالیسی میں امریکی خارجہ پالیسی کا تابع ہے۔

میں اپنی ملازمت کے تقاضوں کی وجہ سے اکثر متحدہ عرب امارات کے عہدیداروں سے گفتگو کرتا رہا ہوں، بدقسمتی سے، متحدہ عرب امارات 8 سال پہلے ایک غلط فہمی کا شکار ہوا اور وہ یہ کہ وہ سمجھتا تھا کہ وہ خلیج فارس کے چھے ملکوں میں سب سے بلندتر اور طاقتور ہے یہاں تک کہ وہ سعودیوں سے بھی خود کو برتر سمجھتا ہے۔

میں نے ایک مرتبہ ایک اعلی اماراتی عہدیدار سے پوچھا کہ آپ کو کس چیز نے یمن کے ساتھ جنگ میں جانے کی ترغیب دلائی، اور کیا یمن جو ایک مضبوط اور گہری تاریخ والا عرب ملک ہے اس کے ساتھ آپ کا یہ طرز عمل صحیح تھا؟ اس اماراتی عہدیدار نے مجھے جواب میں کہا کہ ہم یمن میں سعودی گھوڑوں کا استعمال کریں گے، لیکن ہمیں یقین ہے کہ آخر میں یمن کی جنگ میں متحدہ عرب امارات کی جیت ہو گی نہ سعودی عرب کی۔ تب میں نے کہا کہ یمن کی جنگ کے فاتح اس ملک کے مظلوم عوام ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ دبئی اور ابوظہبی کے شیشے کے محلوں نے ان کو غرور میں مبتلا کر دیا ہے۔ اور اسی غرور نے انہیں یمن کے خلاف جنگ میں داخل کیا اور اب اسی غرور کی وجہ سے وہ صہیونیوں کے ساتھ میں مل بیٹھے ہیں۔
صہیونی حکومت کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے معاہدے کی تلخ حقیقت جو ہم دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے وہ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات امریکیوں کے جوتوں کے نیچے آچکا ہے اور جو کچھ بھی اب تک ہوا ہے وہ امریکیوں کے منصوبے کا ایک حصہ ہے، ان تلخ واقعات میں متحدہ عرب امارات آزادانہ فیصلہ نہیں لے سکا، اور امریکی اور صہیونی دباؤ کی وجہ سے وہ اس طرح کی ذلت کا نشانہ بنے ہیں اور فلسطینی قوم کے خلاف اس خیانت کا ارتکاب کر بیٹھے  ہیں۔

العالم: متحدہ عرب امارات کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کی تعریف کیسے کی جاسکتی ہے؟ کیا محمد بن سلمان اور محمد بن زائد کے درمیان سخت کمپیٹیشن محسوس نہیں ہو رہا ہے؟
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پرانی نسل کے حکمران روایتی طور پر بزرگوں اور پڑوسیوں کا احترام کرتے تھے۔ حالیہ برسوں میں، متحدہ عرب امارات میں محمد بن زید اور سعودی عرب میں محمد بن سلمان کے عروج کے ساتھ ، انہوں نے ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے۔ بن زید نے ان برسوں کے دوران امریکیوں اور مغرب کے خلاف محمد بن سلمان کے ایک مثبت کردار کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے، لہذا بن سلمان سعودی عرب میں ولی عہد کی حیثیت سے اپنا منصب مستحکم کرنے میں بن زید کا مقروض ہے۔ اسی دوران، کچھ علاقائی معاملات میں، دونوں محمد ایک ساتھ کھڑے ہو گئے، لیکن سب سے اہم موڑ جہان یہ دونوں اکٹھے ہوئے ہیں وہ یمن کے خلاف جارحیت ہے۔ ۔اماراتی حکمران بھی جنوبی یمن میں اپنے مفاد اور استعماری اہداف کی فراہمی کے خواہاں ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
8 + 3 =