۵ خرداد ۱۴۰۳ |۱۷ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 25, 2024
حجت الاسلام والمسلمین سید حسین مؤمنی

حوزہ/ استاد حوزہ علمیہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اگر کوئی شخص امیر المؤمنین(ع)کی ولایت کا منکر ہے تو اس کے توحیدی افکار درست نہیں ہیں،آج سماج میں موجود تمام مشکلات،امام کی معرفت سے غفلت برتنے کا نتیجہ ہے لہذا ہمیں امام کی معرفت کے ذریعے خدا کی معرفت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حجۃ الاسلام و المسلمین سید حسین مؤمنی نے حرم کریمۂ اہل بیت حضرت فاطمۂ معصومہ(س)میں عشرۂ ولایت کی مناسبت سے خطاب کے دوران یہ بیان کرتے ہوئے کہ امام کی معرفت لازم و ضروری ہے،کہا کہ دین میں ولایت کی مانند کسی دوسری چیز کو اتنی اہمیت حاصل نہیں ہے۔

انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ اگر ہمیں نماز،روزہ اور حج ادا کرنے کے بارے میں حکم ہوا ہے تو ان تمام اعمال سے اہم ولایت کے بارے میں زیادہ تاکید ہوئی ہے،کہا کہ آج سماج میں موجود تمام مشکلات،امام کی معرفت سے غفلت برتنے کا نتیجہ ہے لہذا ہمیں امام کی معرفت کے ذریعے خدا کی معرفت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

استاد حوزہ علمیہ نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ معصومین علیہم السلام نے اپنے فرامین میں معرفت امام کی اہمیت پر زور دیا ہے،مزید کہا کہ تمام دینی احکام کے مابین ولایت جیسا کوئی امر موجود نہیں ہے کہ جس پر زیادہ تاکید کی گئی ہو،حقیقتاً ولایت دین کے خیمے کا اہم رکن ہے اور اگر یہ رکن نہ ہو تو یہ خیمہ قائم نہیں رہ سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان معرفتوں کا کچھ حصہ حضرات معصومین علیہم السلام کی جانب سے فراہم کردہ ہے اور کچھ اکتسابی ہے اور مؤمنین کو امام سے متعلق معرفت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

حجۃ الاسلام و المسلمین مؤمنی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ رسول خدا(ص) نے اس موضوع کا خطبۂ غدیر میں ہمیں تذکر دیا ہے،مزید کہا کہ آنحضرت(ص)نے حج کی ادائیگی کے بعد لوٹنے والے حجاج کرام کو خدا پر یقین اور یکتا پرستی کی وصیت کرنے کے بعد ولایت امیر المؤمنین(ع) کو بیان کردیا اور اس کام کا مطلب یہ ہے کہ امیر المؤمنین(ع) کی ولایت کو قبول کرنے کے لئے انسانی توحیدی اصول کامل ہونا چاہئے۔

انہوں نے بیان کیا کہ اگر کوئی شخص امیر المؤمنین(ع)کی ولایت کا منکر ہے تو اس کے توحیدی افکار درست نہیں ہیں،لہذا علی علیہ السلام کی ولایت کی قبولیت اور عدم قبولیت سیاسی بحث نہیں ہے بلکہ اعتقادی مسئلہ ہے۔

استاد حوزہ علمیہ نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ آئمہ علیہم السلام کی زیارتوں میں معنوی آثار اور برکتوں کے ساتھ معرفت کے آثار اور برکات بھی موجود ہیں،مزید کہا کہ معصومین علیہم السلام کی جانب سے جو زیارت نامے ہم تک پہنچے ہیں ان میں سے ایک زیارت جامعۂ کبیرہ ہے جس کے بارے میں علماء بہت ہی تاکید کرتے ہیں اور یہ زیارت نور سے بھر پور ہے۔

انہوں نے ولادت با سعادت حضرت امام ہادی علیہ السلام کی مناسبت سے تبریک و تہنیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امام ہادی علیہ السلام کے چاہنے والوں میں سے ایک آنحضرت(ع) کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا اور کہا کہ مجھے کچھ ایسے کلمات کی تعلیم دیں کہ میں جب بھی آپ آئمۂ کرام(ع) میں سے کسی ایک کی زیارت کرنا چاہوں تو انہی کلمات کے ذریعے زیارت کروں،امام علیہ السلام نے ان کو زیارت جامعۂ کبیرہ کی تعلیم دی۔علماء کرام نے اس زیارت کو فصاحت،بلاغت،جامعیت اور سند کے اعتبار سے فوق کلام مخلوق اور تحت کلام خالق سے تعبیر کیا ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین مؤمنی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ کچھ لوگ سیر و سلوک اور عرفانی مراحل طے کرنے کے لئے طرح طرح کے اعمال بجا لاتے ہیں،کہا کہ سید احمد رشتی حج کے دوران امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور امام علیہ السلام نے فرمایا :"نافلہ نافلہ نافلہ،عاشورا عاشورا عاشورا،جامعہ جامعہ جامعہ"اگر ہم سیر و سلوک اور عرفانی مراحل طے کرنے کے لئے ان تینوں اعمال کو روز مرہ معمولات کا حصہ بنائیں تو یقیناً بہتر نتائج حاصل ہوں گے۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ زیارت جامعۂ کبیرہ امام شناسی کا ایک مکمل درس ہے،مزید کہا کہ مکتب اہل بیت علیہم السلام یکتا پرستی،واجبات کی ادائیگی اور حرام کاموں سے روکنے کا ایک مکتب ہے یہ سب اس زیارت نامے میں بیان ہو چکا ہے ، ہمارے آئمہ علیہم السلام کبھی بھی لوگوں کو اپنی طرف نہیں بلاتے تھے بلکہ لوگوں کو خدائے یکتا کی جانب دعوت دیتے تھے۔

استاد حوزہ علمیہ نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ زیارت جامعۂ کبیرہ آئمہ علیہم السلام کو نعمتوں کے نزول کا واسطہ قرار دیتی ہے،مزید کہا کہ اگر ہمیں خدا تک پہنچنے کی خواہش ہے تو امام کا ہم سے راضی ہونا ضروری ہے اور اگر باران رحمت اور مشکلات کی برطرفی کے خواہاں ہیں تو ہمیں اہل بیت(ع)متوسل ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اہل بیت(ع)کی کامل اور جامع صفات اس زیارت نامے میں موجود ہیں اور اس زیارت کے آخر میں دو اہم اور کلیدی دعائیں بھی موجود ہیں جو کہ خدا سے التجا کرنے میں ہماری رہنمائی کر سکتی ہیں اور وہ اہل بیت(ع)کی معرفت اور شفاعت ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین سید حسین مؤمنی نے اس زیارت نامے میں اہل بیت(ع)کی معرفت اور ہمراہی کے آثار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر وہ شخص جو اہل بیت(ع)سے متمسک رہے نجات پائے گا،ہر وہ شخص جو اہل بیت(ع)کی پناہ میں آئے گا وہ امان پائے گا،ہر وہ شخص جو اہل بیت(ع)کے ساتھ ملحق ہو گا وہ اہل بہشت میں سے ہو گا اور ہر وہ شخص جو اہل بیت(ع)کی مخالفت کرے وہ جہنم میں داخل ہو جائے گا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .