۹ آذر ۱۴۰۰ |۲۴ ربیع‌الثانی ۱۴۴۳ | Nov 30, 2021
سالار جنگ میوزیم کے کانفرنس ہال میں ’’یاد حسینؑ اور ہماری ذمہ داریاں ‘‘ کے موضوع پر کانفرنس کا انعقاد

حوزہ/ مولانا سید کلب جواد نقوی نے ’’کربلا اور نوع انسانی ‘ ‘ کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہاکہ واقعہ ٔ کربلا نوع انسانی کے لیے ظلم اور ظالموں کے خلاف تحریک کا نام ہے ۔امام حسینؑ نے وقت کے ظالم اور جابر حاکم کے سامنے سرتسلیم خم نہ کرکے قیامت تک کے لیے مثال قائم کی ہے ۔آج اگر مظلوموں کو کسی واقعہ سے ظالموں کے خلاف تحریک ملتی ہے تو وہ واقعہ کربلا ہے ۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حیدرآباد / تنظیم عاشقان حسینؑ حیدرآبادکی جانب سے سالار جنگ میوزیم کے سیمینار ہال میں ’’یاد امام حسینؑ اور ہماری ذمہ داریاں ‘‘ کے موضوع پر قومی کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا ۔کانفرنس میں مختلف مذاہب اور مسالک کے علماء اور دانشوروں نے شرکت کی ۔مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری امام جمعہ مولانا سید کلب جواد نقوی اس کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے ۔سنٹرل وقف کونسل کے ممبر جناب حنیف علی نے پروگرام کی صدارت کی ۔پروگرام کےشروع میں اہل ہندود اور سکھ حضرات نے مولانا سید کلب جواد نقوی کا استقبال کیا ۔مولانا نے سکھ حضرات کے ساتھ میڈیا سے خطاب کیا اور امام حسینؑ کی عظمت اور نوع انسانی کے لیے ان کے خدمات کا ذکر کیا ۔

مولانا سید کلب جواد نقوی نے ’’کربلا اور نوع انسانی ‘ ‘ کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہاکہ واقعہ ٔ کربلا نوع انسانی کے لیے ظلم اور ظالموں کے خلاف تحریک کا نام ہے ۔امام حسینؑ نے وقت کے ظالم اور جابر حاکم کے سامنے سرتسلیم خم نہ کرکے قیامت تک کے لیے مثال قائم کی ہے ۔آج اگر مظلوموں کو کسی واقعہ سے ظالموں کے خلاف تحریک ملتی ہے تو وہ واقعہ کربلاہے ۔مولانانے کہاکہ آج اس کانفرنس میں مختلف مذاہب اور مسالک کے افراد اس لیے جمع ہیں کیونکہ امام حسینؑ کا پیغام کسی ایک فرقے اور مذہب کے لیے نہیں بلکہ تمام انسانیت کے لیے عام ہے ۔آج بھی اگر ظالموں اور وقت کے یزیدوں کے خلاف کامیاب استقامت کا مظاہرہ کرناہے ،تو ہمیں امام حسینؑ اور ان کے جاں نثار ساتھیوں کے کردار کو اپنانا ہوگا ۔

ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے تقریر کرتے ہوئے کہاکہ کربلا کی جنگ کوئی سیاسی جنگ نہیں تھی بلکہ حق و باطل کا معرکہ تھا ۔جو لوگ اسے ایک سیاسی جنگ قرار دیتے ہیں دراصل انہوں نے واقعہ کربلا کی روح کو نہیں سمجھا ۔اس جنگ میں ایک طرف فرزند رسولؐ حضرت اما م حسینؑ اور ان کے بہتر ساتھی تھے تو دوسری طرف یزید اور اس کے سپاہی ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے ۔

انہوں نےکہاکہ اسلامی تاریخ میں یہ ایک عظیم معرکہ ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوئے ۔انہوں نے کہاکہ امام حسینؑ کے بارے میں حضرت رسول خداؐ نے فرمایا تھا کہ ’’ حسین ؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں ۔اے لوگو! اگر حسینؑ پر کوئی مشکل وقت آجائے اور یہ تم سے مدد طلب کرے تو اس کا ساتھ دینا کیونکہ یہ جنت کے جوانوں کا سردار ہے ۔انہوں نے کہاکہ جب تک انسان روئے زمین پر باقی ہیں تب تک نواسۂ رسولؐ حضرت امام حسینؑ کا ذکر ہوتا رہے گا ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم واقعہ کربلا سے عبرت حاصل کریں ۔

پروفیسر عین الحسن عابدی وائس چانسلر مانو نے خطاب کرتےہوئے کہاکہ امام حسینؑ کی شہادت ہمیشہ زندہ رہے گی اور قیام قیامت تک اسی طرح امام حسینؑ کو یاد کیا جاتا رہے گا ۔پروگرام کے آخر میں کانفرنس کے صدر جناب حنیف علی نے بھی تقریر کی ۔کنوینر ڈاکٹر تبریز حسن تاج نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔

کانفرنس میں سنٹرل وقف کونسل کے رکن حنیف علی ،محمد شہاب الدین سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ،پروفیسر عین الحسن عابدی وائس چانسلر مولانا آزاد یونیورسٹی ،پروفیسر ڈاکٹر حسیب الدین صدر شعبہ انگریزی مانو،ہرویندر سنگھ ،ڈی نرسمہم ۔ سید محی الدین قادری اور دیگر حضرات بطور خاص شامل رہے ۔ڈاکٹر تبریز حسن تاج کانفرنس کے کنوینر تھے جنہوں نے بحسن و خوبی تمام فرائض انجام دیے ۔
 

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 5 =