۴ بهمن ۱۴۰۰ |۲۰ جمادی‌الثانی ۱۴۴۳ | Jan 24, 2022
مولانا علی حیدر فرشتہ

حوزہ/ مرجعیت کے مخالف شر پسند عناصر نے ’’عبادت خانہ حسینی ‘‘کے اندر علماء و مراجع کرام کی تصاویر کی بے حرمتی کا جو گھناؤنا غیر انسانی و غیر اخلاقی اور ناقابل برداشت جرم کیا ہے اور قوم میں ناچاقی و نااتفاقی پیدا کرنے کی جو مذموم کوشش کی ہے اس کی ہم مجمع علماء و خطباء حیدرآباد دکن سخت الفاظ میں پرزور مذمت کرتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا علی حیدر فرشتہ، صدر مجمع علماء و خطباء حیدرآباد دکن (تلنگانہ) انڈیا نے اپنے ایک مذمتی بیان میں کہا قرآن کا واضح اعلان ہے: ’’ اللہ کے بندوں میں خدا کا خوف و تقویٰ رکھنے والے تو بس علماء ہیں ‘‘۔(سورہ فاطر آیت نمبر ۲۸)

حال ہی میں ہمارے شہر حیدرآباد دکن (تلنگانہ) ہندوستان کے قدیم گھنی آبادی والے محلّہ دارالشفاء میں واقع ایک قدیم موقوفہ عبادت خانہ حسینی کے اندر علم و علماء کے دشمنوں،غیر مقلدوں نے جو نازیبا، شر انگیز، شیطانی حرکتیں کی ہیں ان سے مومنین کے دل بہت دکھی ہیں،اصولی شیعہ قوم میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔

یہ کیسے امامت کا عقیدہ رکھنے والے شیعہ ہیں جو امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیرت و تعلیمات کی صریحی خلاف ورزی کرتے ہیں؟ان کو یہ بھی علم نہیں کہ امام صادق ؑ غیر شیعہ علماء کابھی نہ صرف احترام کرتے تھے بلکہ دوستی کرتے تھے۔ان کی موت پر مرثیہ پڑھتے تھے۔لوگوں نے پوچھا کہ مولا آپ اور فلاں جو آپ کے مخالف مسلک و مذہب کا حامل ہے اس سے دوستی کیسی ؟ تو آپ نے فرمایا میں اسکو اس کے علم کے سبب دوست رکھتا ہوں۔

مرجعیت کے مخالف شر پسند عناصر نے  مذکورہ ’’عبادت خانہ حسینی ‘‘کے اندر علماء و مراجع کرام کی تصاویر کی بے حرمتی کا  جو گھناؤنا غیر انسانی و غیر اخلاقی اور ناقابل برداشت جرم کیا ہے اور قوم میں ناچاقی و نااتفاقی پیدا کرنے کی جو مذموم کوشش کی ہے اس کی ہم مجمع علماء و خطباء حیدرآباد دکن سخت الفاظ میں پرزور مذمت کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ عبات خانہ حسینی وقف کی پراپرٹی ہے جس کی باقاعدہ و باضابطہ قانونی طور پر رجسٹرڈ انتظامیہ کمیٹی ہے ۔انتظامیہ کمیٹی کی اجازت کے بغیر کوئی پروگرام نہیں ہو سکے گا۔اور کسی بھی حال میں عبادت خانہ کی بربادی ،ذکر خدا و رسولؐ و ائمہ طاھرین ؑکے ذکر و اذکار میں رخنہ اندازی، قوم کے اندر تفرقہ پردازی، شہر کے امن و امان کی صورتحال کو بگاڑنے کی کسی بھی سازش کو ہم برداشت نہیں کریں گے اور کبھی بھی انھیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 4 =