۹ آذر ۱۴۰۰ |۲۴ ربیع‌الثانی ۱۴۴۳ | Nov 30, 2021
حجۃ الاسلام مروی

حوزہ/ جو بھی  شخص لوگوں کی پریشانیوں اور دکھ درد سے غافل نہ ہو اور دوسروں کی پریشانیوں کو برطرف کرنے کی کوشش کرے وہ شخص پیغمبر گرامی اسلام (ص) کی تعلیمات اور کردار سے زیادہ قریب ہے۔  

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پیغمبر گرامی اسلام(ص) اور امام جعفر صادق(ع) کے یوم ولادت کی مناست سے  اتوار کو حرم مطہر رضوی کے رواق امام خمینیؒ میں خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں آستان قدس رضوی کے متولی حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ(ص) کے اخلاقی اوصاف و کردار و کمالات  پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم میں منصب نبوت اور تبلیغ رسالت کے ساتھ ساتھ ہدایت اور رہبری  کے تعلق سے بھی پیغمبر اکرم(ص ) کے کردار پر بھی تاکید کی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ تعلیم و تربیت اور تزکیۂِ نفس جیسی ذمہ داریاں بھی پیغمبر اسلام(ص) کے سپرد کی گئی ہیں۔ 

انہوں نے مثال میں  سورہ احزاب کی آیت نمبر 21 کا حوالہ دیا جس کا مضمون یہ ہے کہ ہر شخص کورسول اللہ (ص) کی پیروی اور اطاعت کی سفارش کی گئی ہے خواہ وہ دشمن کے مدّ مقابل استقامت اور صبر کا مرحلہ ہویا اچھے اخلاق و اوصاف اپنانے کا معاملہ ہو  اسے چاہئے کہ ہر حال میں رسول خدا (ص) کی اطاعت و پیروی کرے ۔ 

پیغمبر اسلام (ص) اور آئمہ اطہار(ع) کا اسوہ   قرار پانا   کسی خاص زمان و مکان سے مخصوص یا محدود  نہیں:

آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ پیغمبر عظیم الشان حضرت محمد مصطفیٰ(ص) کی شان ہدایت و رہنمائی  نہ فقط حضرت(ص) کی گفتار اور زبان میں مجسم تھی بلکہ آپ(ص) کی عملی سیرت میں بھی نمایاں تھی۔قرآن کریم کی آیات کے مطابق آپ(ص) اور آئمہ اطہار(ع) تمام بشریت کے لئے اسوہ اور نمونہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کریم میں پیغمبر اسلام (ص) کو انسانوں کے لئے اسوہ اور نمونہ کے طور پر متعارف کیا گیا ہے حضرت امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کو، لوگوں اور معاشرے کے لئےاسوہ و نمونہ کے طور پر متعارف کروایا جائے تاکہ آپ(ص) کی فرمانبرداری اور پیروی ہو۔ 

حجۃ الاسلام والمسلمین مروی نے کہا کہ پیغمبر(ص) کا اسوہ کسی خاص زمان ومکان سے مخصوص یا محدود نہیں ہے بلکہ ہر زمانے میں انسانی معاشرہ پیغمبر(ص) کی تعلیمات و کردار سے مستفید ہوسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج کی انسانی زندگی میں بھی پیغمبر گرامی اسلام(ص) اور آئمہ اطہار(ع) تمام انسانوں کے لئے بہترین اسوہ و  نمونہ ہیں۔ 

محبت و مہربانی کا اظہار اور ریا کاری سے اجتناب؛ نبوی معاشرے کے اوصاف ہیں۔

حجۃ الاسلام مروی نے پیغمبر گرامی اسلام(ص) کے اخلاقی و عملی اوصاف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰ(ص) تکبر، جھوٹ،فریب ،بغض و کینہ، حسد اور بدگمانی سے پاک معاشرہ چاہتے ہیں اور پاک و پاکیزہ، محبت و الفت سے لبریز اور دکھاوے و فریب کاری سے دور معاشرے کو پسند فرماتے ہیں۔ یہ تمام  اوصاف  نبوی معاشرے کے اوصاف ہیں، نبوی  معاشرہ وہ معاشرہ نہیں جس میں مادیات کی خاطرلوگ اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور رحم و مروّت کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ پیغمبر اسلام(ص) نے ایسے قبیلوں سے انسانوں کی تربیت کر کے انہیں کمال تک پہنچایا جہاں  بیٹیوں کی پیدائش کو  ننگ و عار سمجھا جاتا اور انہیں زندہ دفن کر دیا جاتا تھا ۔ اور  ایسے معاشرے میں انسانوں کا کمال تک پہنچنا رسول اسلام کے کردار اور عمل کا ہی نتیجہ تھا،

رسول اللہ(ص) ہمیشہ لوگوں سے شفقت و محبت سے پیش آتے تھے:

آستان قدس رضوی کے متولی نے پیغمبر اسلام(ص) کی دیگر نمایاں خصوصیات منجملہ احسان و دوستی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم میں پیغمبر گرامی اسلام(ص) کو مختلف اوصاف کے ساتھ پیش کیا گيا  جن میں سے ایک اہم اور نمایاں خصوصیت آپ(ص) کا اچھا اور کریمانہ اخلاق ہے نبی اکرم (ص) ہمیشہ لوگوں سے شفقت و محبت سے پیش آتے تھے اور ہرکسی کی پریشانی کو دیکھ کر آپ خود بھی غمزدہ ہوجاتے تھے آپ(ص) لوگوں کی پریشانیوں کو دور کرنے اور ان کی  ہدایت و رہنمائي  کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔  

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 7 =