۳۰ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۱ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 19, 2024
کلب سبطین نوری

حوزہ/ ڈاکٹر کلب سبطین نوری نے کہا کہ مولانا کلب صادق کی آخری خواہش یہ تھی کہ وہ لکھنؤ میں گرلز کالج قائم کرنا چاہتے تھے۔ اگر حکومت ڈاکٹر کلب صادق صاحب کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہتی ہے تو گرلز کالج قائم کرے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر، بزرگ شیعہ عالم دین ڈاکٹر کلب صادق 24 نومبر سنہ 2020 میں دنیائے فانی کو الوداع کہہ گئے۔ گرچہ ڈاکٹر کلب صادق صاحب مرحوم شیعہ عالم دین تھے لیکن ملک و بیرونی ممالک کے تمام مکاتب فکر انہیں ادب و احترام کی نظر سے دیکھے تھے۔

رواں برس 9 نومبر کو حکومت ہندوستان نے مولانا کلب صادق کو پدم بھوشن اعزاز سے نوازا ہے، حالانکہ اس سے قبل جب مولانا حیات تھے، اس وقت بھی حکومت ہند نے دو بار اس اعزاز کے لیے مولانا کو منتخب کیا تھا لیکن انہوں نے لینے سے انکار کردیا تھا۔ اس مرتبہ ان کے بیٹے مولانا کلب سبطین نوری نے بتایا کہ تمام لوگوں کے ساتھ مشورہ کے بعد یہ ایوارڈ لینے کا فیصلہ ہوا۔

مولانا مرحوم کلب صادق کے انتقال پر پوری دنیا کے علمی حلقے میں سوگ کی لہر تھی۔ مولانا قوم کے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے اس قدر پیش پیش رہتے تھے کہ ان کو دوسرا سر سید بھی کہا جاتا ہے۔

انہوں نے لکھنو میں اتحاد کالج کی بنیاد رکھی جو موجودہ دور میں یونیٹی کالج کے نام سے معروف ہے۔ آج ہزاروں کے تعداد میں طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ توحید المسلمین ٹرسٹ کا قیام کیا یونیٹی مشن اسکول، یونیٹی انڈسٹریل ٹرینگ سنٹر، مدینۃ العلوم علی گڑھ، امام زین العابدین اسپتال، حسینیہ غفران مآب کی تعمیر نو، مقبرہ میر انیس کی تعمیر نو اور مسجد خاک پاک کی تعمیر نو کرائی۔

اس کے علاوہ مولانا شیعہ سنی اتحاد کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔ ساتھ ہی ہندو مسلم اتحاد پر بھی کامیاب کوشش کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات مولانا کو اپنے ہی سماج کے لوگوں کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن مولانا اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے۔

مولانا کلب صادق کے بیٹے کلب سبطین نوری نے کہا کہ وہ اس اعزاز کے لیے ہم حکومت ہند کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

اخبارات کے ذریعے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اترپردیش حکومت بھی مولانا کلب صادق کے نام لکھنؤ میں ایک گیٹ تعمیر کرے گی اور ان کے نام سے کسی سڑک کو منسوب کرے گی تاہم اس جانب کیا پیش رفت ہوئی اس سلسلے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اتر پردیش حکومت مولانا کلب صادق کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہ رہی ہیں تو ان کی آخری خواہش پوری کردے، اس سے ان کی روح خوش ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ مولانا کلب صادق کی آخری خواہش یہ تھی کہ وہ لکھنؤ میں گرلز کالج کا قیام کر لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مزید راستہ ہموار کرنا چاہتے تھے۔ تاہم ان کی آخری خواہش ابھی نامکمل ہے۔ لہذا یوپی حکومت مولانا کی اس خواہش کی تکمیل کے لیے راستہ ہموار کر ان کو سچا خراج عقیدت پیش کرے۔

واضح رہے کہ مولانا کلب صادق سنہ 1939میں لکھنو کے علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مدرسہ میں حاصل کی۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔'

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .