۲۴ مرداد ۱۴۰۱ |۱۷ محرم ۱۴۴۴ | Aug 15, 2022
احکام شرعی

حوزہ؍وہ عورت جو شوہر کی تبعیت میں اپنے اصلی وطن کے علاوہ کسی دوسری جگہ زندگی بسر کر رہی ہو اور اپنے وطن سے اعراض نہ کیا ہو، چنانچہ اسے علم یا اطمینان نہ ہو کہ عمر کے آخر تک اپنے وطن نہیں لوٹے گی بلکہ اس بات کا احتمال دیتی ہو تو اگرچہ حادثاتی طور پر مثلاً شوہر سے جدائی یا اس کی موت کی وجہ سے پلٹ جائے تو وہاں پر اس کی نماز پوری ہوگی۔۔۔۔۔۔۔

حوزہ نیوز ایجنسی؍

وہ عورت جو شوہر کی تبعیت میں اپنے اصلی وطن کے علاوہ کسی دوسری جگہ زندگی بسر کر رہی ہو اور اپنے وطن سے اعراض نہ کیا ہو، چنانچہ اسے علم یا اطمینان نہ ہو کہ عمر کے آخر تک اپنے وطن نہیں لوٹے گی بلکہ اس بات کا احتمال دیتی ہو تو اگرچہ حادثاتی طور پر مثلاً شوہر سے جدائی یا اس کی موت کی وجہ سے پلٹ جائے تو وہاں پر اس کی نماز پوری ہوگی، تاہم اگر فیصلہ کر لے یا جانتی ہو کہ حتیٰ کہ شوہر کی موت یا اس سے جدائی کی صورت میں بھی وطن واپس نہیں لوٹے گی تو ایسی صورت میں اعراض ثابت ہوجاتا ہے اور وہ جگہ اس کا وطن شمار نہیں ہوگی۔

حوالہ: نماز اور روزے کے مسائل، مسئلہ 557

احکام شرعی: ترکِ وطن

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 3 =