۳ اسفند ۱۴۰۲ |۱۲ شعبان ۱۴۴۵ | Feb 22, 2024
جامعہ المصطفی

حوزہ / سربراہ جامعۃ المصطفی نے کہا: انسان دنیا کی لذتوں اور مادیات میں اس طرح غرق ہو گیا ہے کہ اس کا ہدف صرف کام کیلئے فرصتیں تلاش کرنا رہ گیا ہے لیکن جو چیز انسان میں انگیزہ پیدا کرتی ہے وہ ایمان ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، سربراہ جامعۃالمصطفی حجۃ الاسلام والمسلمین علی عباسی نے ایام ولادت امیرالمومنین علیہ السلام کی مناسبت سے جامعۃ المصطفی کے طلاب کے لباس روحانیت زیب تن کرنے کی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: یہ ایام مولی الموحدین امام علی علیہ السلام کی ولادت باسعادت اور انقلابِ اسلامی کی کامیابی کی 44ویں سالگرہ کے ایام ہیں۔

انہوں نے کہا: جس طرح پیغام الہی پورے عالم انسانیت کے لئے ہے اسی طرح انقلاب اسلامی بھی اقوام عالم سے متعلق ہے لیکن مادی دنیا اس انقلاب کو پسند نہیں کرتی اور اس کی دشمن ہے۔

سربراہ جامعۃ المصطفی نے علماء کی بعض ذمہ داریوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو جو بھی نعمت عطا کی جاتی ہے وہ اپنے ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی لاتی ہے۔

انہوں نے کہا: اب جبکہ ہم اپنے آپ کو دین کا سپاہی اور خدمت گزار سمجھتے ہیں تو ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی جانب بھی توجہ دینی چاہیے اور ہماری پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم علم و دانش حاصل کریں اور اس کے لیے بہت محنت اور جدوجہد کریں۔

انہوں نے کہا: ہماری دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنے علم پر عمل کریں اور اسی طرح تیسری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم لوگوں اور معاشرے تک پیغامِ الہی کو پہنچائیں۔

حجۃ الاسلام والمسلمین عباسی نے مزید کہا: اگر ہم اس راستے میں ثابت قدم رہے تو یقینا خدا بھی ہماری مدد فرمائے گا۔ آج آپ نے اس ذمہ داری کو قبول کیا ہے اور انشاءاللہ خدا اس راستے میں آپ کی مدد فرمائے گا اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی دعائے خیر بھی آپ کے شامل حال ہوگی۔

سربراہ جامعۃ المصطفی نے کہا: ایمان انسان کی پوری زندگی کو بدل دیتا ہے۔ اگر یہ نعمت کسی سے لے لی جائے تو اس کی زندگی بے معنی ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا: یہ نعمت عظیم نعمت ہے اور خدا نے ہمیں یہ نعمت عطا کر کے ہم پر احسان کیا ہے۔

حجت الاسلام عباسی نے کہا: انسان دنیا کی لذتوں اور مادیات میں اس طرح غرق ہو گیا ہے کہ اس کا ہدف صرف کام کیلئے فرصتیں تلاش کرنا رہ گیا ہے لیکن جو چیز انسان میں انگیزہ پیدا کرتی ہے وہ ایمان ہے۔

ایمان انسان کی کوششوں میں انگیزہ پیدا کرتا ہے

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .