۸ اسفند ۱۴۰۲ |۱۷ شعبان ۱۴۴۵ | Feb 27, 2024
زینب خان هندوستان

حوزہ/ ۱۵ سال قبل جامعۃ الزہرا (س) کی فارغ التحصیل طالبہ محترمہ زینب خان نے شہر جونپور میں جامعہ خدیجۃ الاکبریٰ (س) نامی مدرسے کی بنیاد رکھی، جس میں آج ۱۰۰ سے زائد طالبات علم دین حاصل کر رہی ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،آج سے ۱۵ سال قبل شیراز ہند شہر جون پور سے تعلق رکھنے والی جامعۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی فارغ التحصیل طالبہ محترمہ زینب خان نے شہر جونپور میں جامعہ خدیجۃ الاکبریٰ (س) نامی مدرسے کی بنیاد رکھی جس میں آج ۱۰۰ سے زائد طالبات علم دین حاصل کر رہی ہیں۔

محترمہ زینب خان جو کہ اس وقت ہندوستان میں سرگرم اور کامیاب مبلغین میں سے ایک ہیں، انہوں نے ہندوستانی مدارس کے مدیروں کے ساتھ اپنے دورہ ایران کے وقت حوزہ نیوز ایجنسی کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا اور گفتگو کی جسے محترم قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

حوزہ: آپ نے فارغ التحصیل ہونے کے بعد کس طرح تبلیغ کے میدان میں قدم رکھا؟

طالبات کو تعلیم، ثقافت اور تبلیغ کے مختلف شعبوں میں قدم رکھتے وقت خاص حالات اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جب میں ریاست یوپی کے شہر جونپور میں گئی تو اس شہر میں حجاب اس مقدار میں رعایت نہیں کیا جاتا تھا جتنا ایران میں ہے، میں نے ۵ طالبات کو لے کر ایک تعلیمی سلسلہ شروع کیا، جب طالبات کی تعداد 10 سے زیادہ ہوئی تو ہم لوگوں نے مل کر شہر میں تبلیغی سرگرمیاں شروع کر دیں، اس دوران ہمارا مذاق بھی اڑایا گیا لیکن ہم نے اس جانب توجہ نہیں دی، لیکن ہم نے اپنا قدم پیچھے نہیں ہٹایا اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، الحمد للہ، آج 13 سال بعد اس شہر میں مدرسے کے علاوہ شہر اور دیہات وغیرہ میں تبلیغی سرگرمیاں انجام دے رہی ہوں جس کا اثر یہ ہوا کہ آج ہم جون پور میں خواتین کو حقیقی معنوں میں با پردہ دیکھ رہے ہیں۔

حوزہ: وہاں کے لوگوں نے خواتین کے درمیان تبلیغ کو کس درجہ سراہا اور استقبال کیا؟

شہر جون پور کے مرکز میں واقع ایک امام باڑہ اور حسینیہ ہے جہاں ہم تبلیغی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں، وہاں ہم نے دعائے ندبہ کا آغاز کیا، ہندوستان کے لوگ احکام اور اخلاقی باتوں سے زیادہ مجالس عزا پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، دعائے کمیل اور دعائے ندبہ وغیرہ کا کوئی خاص رواج نہیں ہے ، کچھ لوگ آج بھی اعتراض کرتے ہیں اور ان دعاؤں کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دیتے، جب کہ ہمیں دعائے ندبہ بھی پڑھنا چاہئے اور مجالس عزا کا انعقاد بھی کرنا چاہئے۔

مجلس عزا کو خطاب کرتے وقت ہمارا یہ دستور ہے کہ چند منٹ احکام اور اخلاقی مسائل پر بات کرتی ہوں، تاکہ احکام و اخلاق وغیرہ لوگوں تک پہنچے، یہ ایسا قدم تھا جسے رفتہ رفتہ لوگوں کی طرف سے پذیرائی ملی اور کافی مقبول ہوا۔

لوگ تبلیغی سرگرمیوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن ہم مذہبی تعلیم کو ہر گھر میں منتقل کرنا چاہتے ہیں، اس تبلیغی میدان میں، ہم نے نوجوان طلبا سے استفادہ کیا اور انہیں اس تبلیغ کے لئے آمادہ کیا، جب کہ ہندوستان میں لوگ نوجوانوں کی باتوں کو بہت زیادہ اہمیت دیتے لیکن پھر بھی ہمیں ماحول بنانے میں وقت لگا اور آج ہم الحمد للہ اس میدان میں کامیاب ہیں۔

حوزہ: آپ کس طریقے سے تبلیغی امور انجام دیتی ہیں؟

ہمارے تبلیغی پروگراموں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم نے شہر جونپور کے وسط میں واقع ایک امام باڑہ میں "ایستگاہ انتظار " کے نام سے ایک پروگرام پروگرام شروع کیا ہے، جہاں ہم خواتین کو بتاتے ہیں کہ ہم جس امام کا انتظار کر رہے ہیں اس کا ظہور اسی وقت ہوگا جب ہم ظہور کا زمینہ فراہم کریں گے اور خود کو ظہور کے لئے تیار کریں گے، ہمیں یہ کرنا ہے کہ اگلے ایک ہفتے تک تمام برے کام کو چھوڑ دینا ہے اور صرف اچھے کام کرنا ہے، پھر ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ہم کتنے فیصد اچھے کام کرنے اور برے کام سے بچنے کے قابل ہیں۔اس تبلیغی پروگرام میں خواتین کی طرف سے خوب پذیرائی ملی، یہاں تک کہ دور دراز کے علاقوں کے لوگوں نے بھی اس طرح کی کلاسز کے لیے ہم سے درخواست کی، "ایستگاہ انتظار " ایک نیا تبلیغی طریقہ تھا، ہم نے اسے ایجاد کیا اور اپنایا اور ہر ہفتے گاؤں گاؤں جا کر اخلاقیات اور احکام کی کلاسیں لی، اب اس کا نتیجہ یہ ہے کہ گاؤں سے لوگ شہر میں "ایستگاہ انتظار کی کلاسوں می شرکت کرتے ہیں۔

ہماری کوشش ہے کہ ہر گھر تک رسائی حاصل کی جائے، ہم نے ہر علاقے کی خواتین کو لے کر ایک کمیٹی بنانے کی دعوت دی تاکہ خواتین امام زمانہ عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی زیادہ زیادہ معرفت حاصل کریں اور ظہور کے لئے آمادہ ہو سکیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .