۱۴ اسفند ۱۴۰۲ |۲۳ شعبان ۱۴۴۵ | Mar 4, 2024
امام زین العابدین علیہ السلام

ابوحمزہ ثمالی سے روایت ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی قسم میں اپنے بازو کا کچھ گوشت فدیہ کے طور پر دینا چاہتا ہوں تاکہ ہمارے شیعوں سے دو خصلتیں "چڑچڑاپن" اور " رازداری کا فقدان " ختم ہو جائیں۔

انتخاب و ترجمہ: مولانا سید علی ہاشم عابدی

1۔ ‘‘ لَايَقِلُّ عَمَلٌ مَعَ تَقْوى وَكَيْفَ يَقـِلُّ مايُتقَبَّلُ’’

(تحف العقول، صفحہ 318)

جو عمل تقویٰ کے ساتھ ہو وہ کم نہیں ہوتا اور کیسے وہ عمل کم ہو سکتا ہے جو قبول ہو جائے۔

2۔ ‘‘اِيـّاكَ وَالاِبْتـِهاجَ بالِذَّنْبِ، فاِنَّ الاِبْتِهاجَ بِهِ اَعْظَمُ مِنْ ركُوُبِهِ’’

(كشف الغمه، ج 2، ص 108)

جو گناہ انجام دیا ہے اس پر خوش نہ ہو کیونکہ گناہ پر خوشی کا اظہار کرنا اس گناہ سے بڑا گناہ ہے۔

3۔ ‘‘ ما اَكَلْتُ بِقِرابَتى بِرَسُولِ اللّهِ شَيْئا قَطّ’’ُ

(كشف الغمه، ج 2، ص 93)

میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جانب نسبت سے کچھ نہیں کھایا اور نہ ہی آپؐ کی عزت و آبرو کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا۔

4۔ ‘‘وَيْحَكَ اَفى حَرَمِ اللّهِ اَسْأَلُ غَيْرَاللّه ِ عَزَّوَجَلَّ؟!! اِنّى آنِفُ اَنْ اَسْأَلَ الدُّنْيا خالِقَها، فَكَيْفَ اَسْأَلُها مَخْلُوقا مِثْلى’’

(بحارالانوار، ج 46، ص 64)

امام زین العابدین علیہ السلام سے مکہ مکرمہ میں کہا گیا کہ اب جب کہ ولید بن عبدالملک بھی مکہ مکرمہ میں ہے تو اس سے امیرالمومنین علیہ السلام کے اوقاف اور صدقات کی تولیت کے سلسلہ میں گفتگو کریں تو امام ؑ نے فرمایا: تم پر افسوس ہے! کیا اللہ کے حرم میں غیر خدا سے سوال کروں ؟ میں جب دنیا کے خالق سے دنیا طلب کرنا پسند نہیں کرتا تو کیسے اپنے جیسی مخلوق سے اس کا مطالبہ کروں؟

5۔‘‘ اِنَّـما الاِسْتِـعْدادُ لْلِمَوْتِ تَجنُّبُ الْحرامِ وَبَذْلُ النَّدى فى الْخَيْرِ’’.

(بحارالانوار، ج 46، ص 66)

بے شک موت کی تیاری حرام چیزوں سے پرہیز اور کار خیر میں سبقت کرنے میں ہے۔

6۔ ‘‘اِيّـاكُمْ وَصَحْـبَةَ الْعاصـينَ وَمَعُونَهَ الظالِمينَ وَمجاوِرَة الْفاسقينَ اِحْذَروُا فِتْنَتَهُمْ وَتَباعِدُوا مِنْ ساحَتِهِمْ’’

(الروضة من الكافى، ص 16)

ہوشیار رہو! گناہگاروں کے ساتھ بیٹھنے ، ظالموں کی مدد کرنے اور بدکاروں کے پڑوس میں رہنے سے بچو، ان کے فتنہ سے بچو اور ان کے علاقے سے دور رہو۔

7۔ ‘‘اِعْـلَمُوا عِبـادَ اللّهِ اَنَّ اَهْـلَ الشِّرْكِ لايُنْصَبُ لَهُمْ اَلمَوازينَ وَلايُنْشَرُ لَهُم الدَّواوينَ وَاِنمّا يُحْشَرُونَ اِلى جَهَنـَّمَ زُمَرا وَاِنمّا نَصْبُ الْمَوازينَ وَنَشْرُ الدَواوينَ لاَهِـلِ الاِسْلامِ’’

(الروضه من الكافى، ص 75)

بندگان خدا جان لو! بے شک اہلِ شرک کے لئے (روز قیامت ) نہ تو میزان قائم کیا جائے گا اور نہ ہی ان کے لئے نامہ اعمال شائع کئے جائیں گے، وہ تو گروہ در گروہ جہنم میں ڈالیں جائیں گے، بلکہ اہل اسلام کے لئے میزان قائم ہو گا اور ان کے نامہ اعمال شائع کئے جائیں گے۔

8۔ ‘‘لَوْماتَ مَنْ بَيْنِ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَمَا اسْتَوْحَشْتُ بَعْدَ اَنْ يَكُونَ الْقُرآنُ مَعى’’

(الانوار البهيّه، الشيخ عباس القمى ص 94، منشورات الشريف الرضى قم. اصول كافى، ج 2، ص 602)

مشرق و مغرب کے درمیان اگر سب لوگ مر بھی جائیں اور میرے پاس قرآن کریم ہو تو میں وحشت محسوس نہیں کروں گا۔

9۔‘‘ اَكْرَهُ اَنْ تَسْبِقَ يَدِىَ اِلى ما سَبَقَتْ اِلَيْهِ عَيْنُها فَـاَكُونَ عاقَّـا لَهـا’’

(الانوار البهية، ص 100)

امام زین العابدین علیہ السلام سے کہا گیا کہ نیک لوگوں میں آپؑ سب سے نیک ہیں لیکن اس کے باوجود آپ اپنی ماں کے ساتھ ایک برتن میں کھانا کیوں نہیں کھاتے ، جب کہ وہ یہ چاہتی بھی ہیں ۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: مجھے خوف ہے کہیں میرا ہاتھ اس لقمہ کی جانب بڑھے جس پر پہلے سے انکی نظر ہو اور اس طرح میں ان کے حق کا احترام نہیں کروں گا۔

10۔‘‘ يـابُنّـى ايّاكَ وَظُلْمَ مَنْ لايَجِدُ عليكَ ناصِرا اِلاّ اللّه ’’

(اصول الكافى، ج 2، ص 331)

میرے فرزند! اس پر ظلم کرنے سے بچو جو تمہارے خلاف خدا کے سوا کوئی مددگار نہیں رکھتا۔

11۔ ‘‘فَـقْـدْ الاَحِبَّـةِ غُـرْبَـةٌ’’

(كشف الغمه، ج 2، ص 75 و 102)

دوستوں کو کھو دینا بھی غربت ہے۔

12۔ ‘‘وَكانَ اِذا اَتاهُ السائِلُ يَقُول: مَرْحَبا بِمَنْ يَحْمِلُ لى زادى اِلىَ الآخِرَة’’

(كشف الغمه، ج 2، ص 76)

جب کوئی فقیر امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں آتا تو آپؑ فرماتے۔ اس کو خوش آمدید جو میرے زاد راہ کو آخرت کی جانب لے جاتا ہے۔

13۔‘‘ قالَ اَبُوحَمزَة الثُّمالى: كانَ زينُ العابِدين يَحْمِلُ جِرابَ الخُبزِ عَلى ظَهْرِه باللَّيْلِ فَيَتَصَّدَقُ بِهِ وَيَقُول: اِنَّ صَدَقَةَ السِّرِ تُطْفِى ءُ غَضَبَ الرَبِّ’’

(كشف الغمه، ج 2، ص 77)

ابوحمزہ ثمالی ؒ کا بیان ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام رات کی تاریکی میں پشت پر روٹیوں کا تھیلا لے کر جاتے اور اسے بطور صدقہ فقراء میں تقسیم کرتے تھے۔ آپؑ فرماتے تھے۔ بے شک چھپا کر صدقہ دینے سے اللہ کے غضب سے انسان محفوظ رہتا ہے۔

14۔ ‘‘الرِّضا بِمَكْرُوهِ الْقَضاءِ اَرْفَعُ دَرَجـاتِ الْيَقينِ’’

(تحف العقول، ص 318)

خدا کے ان فیصلوں پر راضی ہونا جو طبیعت کو ناخوشگوار محسوس ہوں یقین کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔

15۔ ‘‘وَالذّىَ بَعَثَ مُحمَّدا بِالْحَقِّ بَشيرا ونَذيرا اِنّ الاَبـْرارَ مِنّـا اهـلَ الْبَيْتِ وَشْيعَتِهِمْ بِمَنْزَلَةِ مُوسى وشيعَتِهِ وَاِنّ عـَدُوَّنـا وَاَشْيـاعَهِمْ بَمْنِزِلَةِ فِرْعَوْنَ وَاَشْياعِهِ’’

(مجمع البيان، ج 7، ص 239)

اس خدا کی قسم ! جس نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ، بے شک ہم اہل بیت اور ہمارے نیک شیعہ (جناب) موسیٰ (علیہ السلام ) اور ان کے شیعہ جیسے ہیں اور ہمارے دشمن اور ان کے پیروکار فرعون اور اس کے پیروکاروں جیسے ہیں۔

16۔ ‘‘مَنْ قَنَعَ بِما قَسَّمَ اللّهُ لَهُ فَهُوَ مِنْ اَغْنَى النـاسِ’’

(كشف الغمه، ج 2، ص 102)

جو اللہ کی تقسیم پر راضی ہوگیا وہ لوگوں میں سب سے زیادہ بے نیاز انسان ہے۔

17۔‘‘ مَنْ اَعْظَمُ النّاسِ خَطَرا، قالَ: مَنْ لَمْ يَرَىَ الدّنيا خَطَرا لِنَفْسِهِ’’

(كشف الغمه، ج 2، ص 107)

امام زین العابدین علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے اہم انسان کون ہے؟ فرمایا: مقام و منزلت کے اعتبار سے عظیم ترین وہ انسان ہے جو دنیا کو اپنے لئے ہلاکت وبربادی کا ذریعہ سمجھے۔

18۔ ‘‘عَجِبْتُ لِمَنْ يَحْتَمى مِنَ الطَّعامِ لِمَضَرَّتِهِ وَلايَحْتَمى مِنَ الذَّنْبِ لَمِعَرَّتَهِ’’

(كشف الغمه، ج 2، ص 107)

مجھے اس شخص پر تعجب ہوتا ہے جو کھانے کے نقصان کے ڈر سے پرہیز کرتا ہے لیکن گناہوں کی ذلت کے ڈر سے گناہوں سے پرہیز نہیں کرتا۔

19۔‘‘ نَظَرُ الْمُؤمِنِ فى وَجْهِ اخيهِ الْمُؤمِنِ لِلْمـَوَدَّةِ وَالمَحـَبَّةِ لَهُ عِبـادَةٌ’’

(تحف العقول، علميه اسلاميه ص 332)

مومن کا اپنے مومن بھائی کے چہرے پر مودت و محبت سے نگاہ کرنا عبادت ہے۔

20۔‘‘ لاعَـمَـلَ اِلاّ بـالنـيَّـةِ’’

(رساله نيّت: آقا جمال خوانسارى، مصباح الشريعه، محدث ارموى، ص 586، اصول كافى، ج 3، ص 132)

بغیر نیت کے عمل کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔

21۔ ‘‘مَنْ كَسى مُؤَمِنا كَساهُ اللّهُ مِنَ الثِيابِ الْخُضْرِ، وَقالَ فى حَديثٍ آخَرَ: وَلايَزالُ فى ضِمانِ اللّهِ مادامَ عَلَيْه سِلْكٌ’’

(اصول كافى مترجم، ج 3، ص 293)

جو شخص کسی مومن کو لباس پہناتا ہے اللہ اسے جنت کا سبز لباس پہناتا ہے۔ اور ایک دوسری حدیث میں فرمایا: جب تک اس کپڑے کا ایک دھاگہ باقی رہے گا وہ خدا کی ضمانت میں ہے۔

22۔ ‘‘عَن اَبى حَمزَةِ الثُّمالى قالَ: قالَ عَلِيُّ بنُ الْحُسَينِ صَلَواتُ اللّهِ عَلَيْهِما. مَنْ عَمِلَ بِما افْتَرَضَ اللّهُ عَلَيْهِ فَهُـوَ مِـنْ خَيْـرِ النـاسِ’’

(اصول كافى، ج 3، ص 128)

ابو حمزہ ثمالی سے روایت ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص واجبات الٰہی کے مطابق عمل کرے وہ بہترین لوگوں میں سے ہے۔

23۔‘‘ اَلصَّبْرُ مِنَ الاْيمانِ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ وَ لا ايمـانَ لِمـَنْ لا صَبْرَ لَهُ ’’

(اصول كافى، ج 3، ص 128)

صبر کو ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہے اور اس کے پاس ایمان نہیں جس کے پاس صبر نہیں ہے۔

24۔‘‘ وَ كانَ عَليُّ بُن الْحُسَينِ صَلَواتُ اللّهِ عَلَيهِما يَقُولُ: اِنّى لَاُحِبُّ اَنْ اُداوِمَ عَلَى الْعَمَلَ وَاِنْ قَلَّ’’

(اصول كافى، ج 3، ص 130)

میں چاہتا ہوں کہ نیک کام کو جاری رکھوں چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہو۔

25۔ ‘‘عَنْ ابى حمزه عَن عَلّىِ بنِ الْحُسَينِ عليهم السلام قال: وَدَدْتُ وَاللّه ِ اَنّى افْتَدَيْتُ خَصْلَتينِ فى الشّيَعةِ لَنا بِبْعضِ لَحْمِ ساعِدى، النَزْقَ وَقِلَّةَ الْكِتْمانِ’’

(اصول كافى، ج 3، ص 314)

ابوحمزہ ثمالی سے روایت ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی قسم میں اپنے بازو کا کچھ گوشت فدیہ کے طور پر دینا چاہتا ہوں تاکہ ہمارے شیعوں سے دو خصلتیں "چڑچڑاپن" اور " رازداری کا فقدان " ختم ہو جائیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .