۲۷ فروردین ۱۴۰۳ |۶ شوال ۱۴۴۵ | Apr 15, 2024
حضرت علی اکبر

حوزہ/ عاشور کے یادگار لمحوں میں آغاز علی اکبر کی اذان،  عروج بوقت زوال حسین ابن علی کا سجدہ اور اس عاشور کی آخری شب کے لمحات میں  عقیلہ بنی ہاشم کا جلے ہوئے خیموں کی قنا توں پر نماز شب کا قیام وہ بھی عالم ضعف و نقاہت میں مسند غم پر ملکہ صبر کا زمین جبر پر جبین سجدہ شکر کی ادائیگی کاینات کے نمازیوں پر اک عطا ہے جسے رہتی دنیا تک فراموشی کے نہاں خانے میں سجا یا نہیں جا سکتا۔

تحریر: گلزار جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی | شعبان کا آخری دن تھا مگر فلک عظمت پر آغوش ام لیلیٰ میں من نور واحد کی کرن کی شباہت جلوہ افروز تھی جس نے بنی ثقیف کی شہزادی کے لیلی معنوی کو نور شباہت مصطفوی ص سے لبریز کردیا تھا گلستان عمران میں جو گلاب کھلا اسکی خوشبو نے حکیم کربلا کی مشام عطر زدہ کو فرحت و سرور سے سرشار کردیا۔ عقیلہ بنی ہاشم حضرت زینب علیا مقام نے ایک طفل صغیر کے صحیفہ وجود میں علی ع کی شجاعت اور محمد ص کی شباہت کو محسوس کیا خانہ زاد کبریا کے قبیلہ میں جو کلی مسکرائی اس نے خانہ علی و فاطمہ میں خوشیاں بکھیر دی جس وقت طفل نو مولود کو امام عالی مقام ،حکیم نینوا نے اپنے ہاتھوں پر لیا تو نانا کی یادوں کے جھروکوں نے چشم عصمت کو نم کردیا۔

کیا خوب منظر کشی کی ہے مرحوم دبیر سیتا پوری نے

اکبر ہیں فاطمہ کے دلارے کی گود میں
نانا کا بچپنا ہے نواسے کی گود میں

آنکھوں میں محمدیت کا جمال رخساروں پر علویت کا جلال لبوں پر نہج البلاغہ کا تبسم ، پلک و ابرو پر عباس غازی کی ہیبت ، پیشانی کی شکنوں میں شہزادے صلح ، سبز قبا ، حسن مجتبی ، کی شرافت اور مکمل چہرہ میں حضرت مصطفی کی شباہت ایک ذات علی اکبر ع نے انوار پنجتن کی خصوصیات کو اپنے دامن کردار میں سمو لیا تھا کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا۔

عمر بتول نام علی شکل مصطفی
اکبر ہیں اس جہان میں کیا کیا لیے ہوئے

الغرض امام حسین ع نے جس وقت علی اکبر ع کو آغوش مسرت میں سمیٹا زندگی کی اٹھارہ بہاریں اک لمحۂ میں محسوس کی شباہت کے پیراہن سے عین شباب میں شہادت کی منزلیں علم لدنی سے دیکھی غیب کے پردے سے غیبت تک رہنمائی کا اثر پڑھا اور نفس مطمئنہ نے اطمینان کی سانس لی اکبر کی جوانی کا لہو آنے والی جوان نسل کے لیے سرخی راہ عمل معین کریگا جواں علی اکبر کی محبت کی خوشبو جس کی جوانی میں سما جائیگی اسکی حیات شہادت کے جام شیریں کے لیے ہر گز دریغ نہیں کریگی آج میدان جہاد میں جو جوانوں کی کثیر تعداد نظر آرہی ہے اگر حضرت علی اکبر نے اپنے لہو سے نقش کف پا نہ بنایے ہوتے تو بازار شہادت میں یوں گہما گہمی نہ ہوتی نہ صرف ملت تشیع بلکہ امت مسلمہ کا ہر جوان اگر سیرت شہزادے شبیہ رسول سے روشناس ہو جایے تو اس دور کی ظالم دنیا میں چراغ عدل و انصاف روشن کر سکتا ہے دشت نینوا کی صبح عاشور کی وہ معنی خیز پر درد مترنم، دل کش، دل نشین آواز اذان آج بھی ملت کے ذوق سماعت سے ٹکرا جایے تو حر صفت نہ جانے کتنے لوگ ہوں گے جو یزیدیت کے خیمہ سے نکل کر حسینیت کے قدموں پر بیعت کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے جس علی اکبر ع کی چار تکبیریں چار حریت پسندوں کے ضمیر کو بیدار کرکے شہنشاہ حریت ابا الاحرار کی بارگاہ عالی وقار تک لائی ہے تاریخ عبادت کی یہ وہ اذان محکم تھی جس نے حی علی الفلاح اور حی علی خیرالعمل کے حقیقی مفہوم تک پہونچا دیا اور اس سقیفائی فکر کے رخسار پر بھرپور طمانچہ لگایا جس نے حی علی خیرالعمل کے نعرہ کو اس لیے ہٹایا تھا کہ لوگ جنگ کی طرف نہیں جا رہے ہیں علی اکبر کی اذان سے حر جری کا اسکے لخت جگر کا اسکے قوت بازو اور اسکے غلام کا اس جانب آنا بلکہ یوں کہوں کے شام کے کے اندھیروں سے نکل کر صبح کربلا کے اجالوں میں آنا دلیل ہیکہ مؤذن اگر علی اکبر جیسا ہو تو ایک آواز اذان سے دشمن کے خیمہ سے غلامی کے بازار سے آزادی کے میدان میں لا سکتا ہے جس قوم کو حی علی خیرالعمل سے دور کرکے جنگ پر لایا گیا تھا اسے حی علی خیرالعمل کی آواز سنا کر میدان جہاد میں لایا گیا اور امت نے کربلا میں جنگ اور جہاد کے فرق کو یقینا محسوس کر لیا ہوگا۔
یہ بھی اک لمحۂ فکریہ ہیکہ حضرت ابا الاحرار حکیم کربلا نے صبح عاشور کی اذان فجر کا مؤذن علی اکبر ع کو کیوں قرار دیا جبکہ قافلہ حسینی میں ایک مستقل مؤذن حجاج بن مسروق موجود تھا جو مدینہ سے اب تک اذان کہتا ہوا آیا تھا۔
یہ تبدیل حادثاتی تھی یا منصوبہ سازی کا حصہ، ہمشیر کی خواہش تھی یا شہ دلگیر کی آرزو، ام لیلی کی تمنا تھی یا کوئی اور علت تھی یقینا عصمت کی حکمتیں معصوم جانیں یا معرفت کے اعلی درجۂ پر فایز معصوم صفت افراد ہم جیسے خاکی اور خاطی کیا جانیں مگر روش فکر پر چہل قدمی سے ادراک کے جس نہاں خانے تک پہونچ سکتے ہیں اسکے اجالوں میں یہ بات سمجھ آتی ہیکہ مؤذن کی تبدیلی کے رازوں میں سے ایک راز یہ بھی ہو سکتا ہیکہ
اذاں کا سر نہاں
کربلا اذان, نماز، سجدہ اور عبادات کا محور ہے معاملات کے دبیز پردوں سے شریعت کی روشنی چھن چھن کر نکلتی ہے جو رشتوں کی استقامت اور شریعت کی بالا دستی کو درشاتی ہے چونکہ یہ دن تاریخ آدم و عالم کا ایک یادگار دن ہوگا لہذا اس کے ہر لمحہ سے حکمت کے چشمے پھوٹنا چاہیے جوانوں کو اس مؤذن کی اذان اور نماز فجر کی آذان ہمیش یاد رہے اور یہ صداء عبادت کربلا کے بن میں کھو نہ جایے بلکہ قیامت تک کہ آنے والی نسلوں میں ہم شکل پیغمبر کا یہ چراغ عمل روشنی پھیلاتا رہے خواب غفلت میں پڑے ہویے جوان کے کان میں یہ اذان وہ رس گھول رہی تھی کہ شمر شراب کے نشہ کے باوجود بھی بیدار ہو گیا ادھر فوج اشقیاء جو غفلت کی گہری نیند میں سو رہے تھے آواز ہم شکل پیغمبر سے اس طرح چونکہ کی کسی نے منھ پر پانی کا پورا ظرف انڈیل دیا ہو اور شاید یہ بھی اک حکمت تھی کہ جو سر کاٹنے آیے ہیں جو کلمہ گو ہیں انھیں بھی کلمہ کی اساس کا احساس ہو جایے عجیب قسم کے نام نہاد مسلمان تھے جس نبی کا کلمہ پڑھتے تھے اسی کی سیرت و صورت رفتار و گفتار شکل و صورت کو مٹائے جا رہے تھے اسکا مطلب یہ ہیکہ یہ لوگ عبادت رحمان نہیں بلکہ عبادت شیطان کر رہے تھے اور ان کے پیٹوں میں مال حرام‌ اتر چکا تھا اور یہ بھی فطرت کا اٹوٹ قانون ہیکہ لقمہ حرام جب حلق سے نیچے اتر جایے اور خون کی گردش کے ساتھ جسم کاینات میں سرایت کر جایے تو معصوم کی نصیحت اور معصوم صفت شخصیت کی آواز اذان نیند سے تو جگا سکتی ہے مگر خواب غفلت سے بیدار نہیں کر سکتی گویا اس آواز اذان کے دو رخ تھے دشمن کے خیمہ کے افراد کو نیند سے چونکا نا اور آنے والی نءی نسل کے خیمہ میں بیداری کا سارنگ بجانا فوج یزید کے مذہب و مسلک کو آشکارا کیا کہ جو پیغمبرانہ آواز پر کان نہ دھر سکے وہ مسلمان کیسا اور ملت تشیع کو بھی متوجہ کیا کہ جو ماتمی سنگتیں رات بھر ماتم کی عبادت تو کلیجہ سے لگایے مگر صبح عاشور کو پیغام علی اکبر کو فراموش کردے وہ حقیقت میں حسینی قوم نہیں ہو سکتی جو ہدف اور وسیلہ میں فرق نہ محسوس کر سکے اسے ملت تشیع کے علمی قبیلہ میں رہنے کا حق نہیں ہے بے شعوری سقیفائی نظام ہے اور شعور غدیری نظام ہے عمل کی شمع بھی عقیدہ کی اساس کو بیان کرسکتی ہے۔

عاشور کے یادگار لمحوں میں آغاز علی اکبر کی اذان، عروج بوقت زوال حسین ابن علی کا سجدہ اور اس عاشور کی آخری شب کے لمحات میں عقیلہ بنی ہاشم کا جلے ہوئے خیموں کی قنا توں پر نماز شب کا قیام وہ بھی عالم ضعف و نقاہت میں مسند غم پر ملکہ صبر کا زمین جبر پر جبین سجدہ شکر کی ادائیگی کاینات کے نمازیوں پر اک عطا ہے جسے رہتی دنیا تک فراموشی کے نہاں خانے میں سجا یا نہیں جا سکتا۔

یہ آواز اذان آواز استغاثہ کی ہمراز ہے ھل من کی صدا اور تکبیر لا الہٰ میں کوءی خاص فرق نہیں ہے چونکہ دونوں کا مقصد *حی علی الفلاح، حی علی خیرالعمل، ہی تھا اور دونوں کی انتہا پیغام ابدی و سرمدی و ازلی لا الہٰ الا اللہ تھا بس عقل و فکر، فہم و فراست بیدار ہو۔ اور دونوں کی صداؤں پر اک شیر خوار کا گہوارہ میں مچلنا دلیل ہیک۔ جب صلاح و فلاح اور خیر عمل کی جانب چلنا نہ آسکے تو کم از کم مچل جانا چاہیے کہ یہ بھی ضمیر کی عدالت میں سر خرو کرنے کےلے کافی ہے ھل من کی صدا طلب نصرت کے لیے نہیں تھی عشق الہی کے تڑپ کے لیے تھی اسی طرح اذان کی آواز کی بلندی فقط نماز کی جانب پکار نہیں تھی بلکہ عین شین قاف کی جانب اک سر گوشی تھی وحدانیت کی جلوہ نمائی کے راز سربستہ کا اعلان تھا حقیقت توحید سے توحید حقیقت تک کا سفر تھا کاش امت مسلمہ کے شعور نے اسے محسوس کیا ہوتا مگر شرابیوں کی شرارتوں کو دین سمجھنے والوں کا شعور سے کیا واسطہ پانچوں وقت اذان کی آواز پر تیزی سے دوڑ لگانے والوں کو اگر اذان صبح عاشور کا ایک ہی فقرہ سمجھ میں آ جائے تو سقیفہ کے اندھیروں سے نکل کر غدیر کے اجالوں میں آجائیں شام کے اندھیروں سے نکل کر حر کی طرح حریت کی روشنی میں آجائیں مگر لگتا ہے جیسے مسلمان صم بکم عمی کی آیت کا مصداق جلی بن گیا نہ جانے کب خواب خرگوش سے یہ امت بیدار ہوگی اور نوجوان نسل شکل نبی کی آواز کے ساز پر ہم آواز ، ہم راز ، ہم ساز ہوگی اور تاج کرامت بطور دستار عظمت جو قدرت نے ماتھے پر سجائی ہے اسکی آبرو رکھے گی۔

دعا ہے بارگاہ رب کریم میں کہ آج کے مولود کے صدقہ میں امت کو اذان کے شعور سے آگاہ کردے، تاکہ ہم شور کو اذان نہ کہیں شعور کو اذان کہیں جو ہمارے سماج کا سورکشا کوچ ہے۔

آپ سبھی حضرات کو ولادت باسعادت حضرت علی اکبر علیہ السلام بہت بہت مبارک ہو!

تبصرہ ارسال

You are replying to: .