۵ تیر ۱۴۰۳ |۱۸ ذیحجهٔ ۱۴۴۵ | Jun 25, 2024
ڈومکی

حوزہ/ ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنما نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور کہا کہ پاکستان کے کسی بھی شہری کو ماورائے آئین و قانون اُٹھانا لا قانونیت ہے، اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اس کے لئے قانون موجود ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے مرکزی سیکرٹری تنظیم سازی علامہ مقصود علی ڈومکی نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ پہنچ کر ماما قدیر بلوچ و دیگر سے یکجہتی کا اظہار کیا۔اس موقع پر ضلعی جنرل سیکرٹری ایم ڈبلیو ایم کوئٹہ سٹی حاجی غلام حسین اخلاقی مولانا نور حسین اندرزگو و دیگر ان کے ہمراہ تھے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ پاکستان کے آئین کی پابندی تمام شہریوں اور اداروں کے لئے ضروری ہے اور کوئی بھی شخص یا ادارہ آئین اور قانون سے بالاتر نہیں۔ پاکستان کے کسی بھی شہری کو ماورائے آئین و قانون اُٹھانا لا قانونیت ہے۔ اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اس کے لیے قانون موجود ہے۔ ایف آئی آر درج کر کے اسے کورٹ میں پیش کر دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ماورائے آئین و قانون اٹھانے کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر کے مسنگ پرسنز کو مجاز عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل کراچی میں مزار قائد کے سامنے کراچی کے شہری مسنگ پرسنز کے معاملے پر دھرنا دے چکے ہیں جبکہ اس وقت مسنگ پرسنز کا مسئلہ پورے ملک کا مسئلہ بن چکا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ مسنگ پرسنز کے دھرنے اسلام آباد پہنچ کر یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بلوچ مسنگ پرسنز تحریک کے سربراہ ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت بھی ہزاروں لوگ لا پتہ ہیں جن کے وارث عدالتوں اور ریاستی اداروں کے چکر کاٹ کر تھک چکے ہیں مگر کوئی ان کے پیاروں کو بازیاب کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ہماری تحریک پرامن ہے اور ہم پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے مسنگ پرسنز کی بازیابی چاہتے ہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .