پیر 31 مارچ 2025 - 10:35
امریکہ میں اسرائیل مخالف مظاہروں میں شرکت پر 300 طلبہ کے ویزے منسوخ

حوزہ/ امریکہ میں فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کرنے والے 300 غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے گئے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکومت کی جانب سے یہ اقدام اسرائیل مخالف مظاہروں کو دبانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا کہ "ہم ہر روز ایسے افراد کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان کے ویزے منسوخ کر دیتے ہیں۔ امید ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچے گا۔"

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ترکی سے تعلق رکھنے والے ایک پی ایچ ڈی کے طالب علم رومیز اوزتورک کو ان کے گھر کے قریب گرفتار کر لیا گیا۔ اوزتورک نے اپنے یونیورسٹی کے اخبار میں ایک مضمون شائع کیا تھا، جس میں غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دینے کی تجویز دی گئی تھی۔

دیگر نمایاں گرفتاریوں میں فلسطینی شہری محمود خلیل، جو امریکہ میں مستقل رہائش پذیر تھے، اور بدرخان سوری، جو ایک ہندوستانی نژاد محقق تھے، شامل ہیں۔ ان اقدامات کو تعلیمی اداروں میں آزادیٔ اظہار پر قدغن اور فلسطین کے حامیوں کو خاموش کرانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔امریکی حکومت نے فلسطین کے حق میں مظاہروں میں شرکت کرنے والے 300 غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے، جسے اسرائیل مخالف احتجاج کو دبانے کی ایک منظم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس حوالے سے کہا: "ہم روزانہ ایسے افراد کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان کے ویزے منسوخ کر دیتے ہیں۔ امید ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچے گا۔"

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ترکی سے تعلق رکھنے والے پی ایچ ڈی طالب علم رومیز اوزتورک کو ان کے گھر کے قریب گرفتار کر لیا گیا۔ اوزتورک نے اپنے یونیورسٹی اخبار میں ایک مضمون شائع کیا تھا، جس میں غزہ میں اسرائیلی مظالم کو نسل کشی قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

دیگر نمایاں گرفتار شدگان میں فلسطینی نژاد محمود خلیل، جو امریکہ میں مستقل رہائش پذیر تھے، اور ہندوستانی نژاد محقق بدرخان سوری شامل ہیں۔ ماہرین ان اقدامات کو تعلیمی اداروں میں آزادیٔ اظہار پر قدغن اور فلسطینی کاز کے حامیوں کو خاموش کرانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha