حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امروہہ/ حضرت علی ابن ابی طالب کی ولادت باسعادت کے موقع پر ایک عظیم الشان نہج البلاغہ سمپوزیم امامیہ ریسرچ سینٹر میں منعقد ہوا جس کا آغاز مولانا سید حیدر مہدی نے تلاوت کلام پاک سے کیا اور سید تاجدار امروہوی نے ہدیہ نعت پیش کیا ۔

سمپوزیم کی صدارت ڈاکٹر مولانا سید شہوار حسین نقوی نے فرمائی آپ نے خطبہ صدارت میں نہج البلاغہ کی عظمت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ نہج البلاغہ امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب کے خطبات ، مکتوبات کا نفیس مجموعہ ، فصاحت و بلاغت ، معانی وبیان ، استعارہ وکنایہ کا وہ خوبصورت مرقع ہے جس میں اسلامیات ، معاشیات اور سماجیات کی ایسی جلوہ گری ہے جس کا ہر پہلو نمایاں اور درخشاں ہے یہ ایسا علمی سرمایہ ہے جسے علامہ سید رضی علیہ الرحمہ نے چوتھی صدی ہجری کے اواخر میں مدون کیا تھا ۔

مولانا سید شاداب حیدر نے انتہائی معلوماتی تقریر کرتے ہوئے کہا نہج البلاغہ کی علمی و ادبی عظمت ہر دور میں مسلم رہے گی ۔ مولانا سید افروز مجتبیٰ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نہج البلاغہ کی تعلیمات سے صرف مسلمان ہی فیضیاب نہیں ہوتے بلکہ غیر مسلموں نے بھی اس سے خوب استفادہ کیا ہے ۔

مولانا سید حیدر مہدی نے کہا آج معاشرے میں نہج البلاغہ کا عام ہونا بہت ضروری ہے اور ہر گھر میں اس کا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے سینیر صحافی سراج نقوی نے اپنے تحقیقی مقالہ میں مغربی محققین کی نہج البلاغہ کے سلسلے میں خدمات کا تفصیل سے جائزہ پیش کیا ۔

اس موقع پر جناب مطاہر حسین نوشہ ، جمال عباس فہمی ، وسیم امروہوی ، شاندار امروہوی ، ہمایوں امروہوی ، ساحل امروہوی وغیرہ نے منظوم خراج عقیدت پیش کیا ۔ نظامت کے فرائض مشہور ناظم ڈاکٹر لاڈلے رہبر امروہوی نے انجام دیے اس موقع پر عربی ، فارسی اردو ہندی ، انگریزی زبانوں پر مشتمل نہج البلاغہ کے ترجموں کی نمایش بھی لگائی گئی جسے ارباب علم و دانش نے بہت پسند کیا









آپ کا تبصرہ