جمعہ 2 جنوری 2026 - 11:33
امروہہ میں نہج البلاغہ کی افادیت پر سمپوزیم، نوجوانوں کو مولا علیؑ کی علمی میراث سے جوڑنے پر زور

حوزہ/ مولا علیؑ کے خطبات و فرامین کے عظیم مجموعے نہج البلاغہ کی علمی، فکری اور اخلاقی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے امامیہ ریسرچ سینٹر امروہا میں سمپوزیم و کتابی نمائش منعقد ہوئی، جس میں علما و دانشوروں نے نئی نسل کو نہج البلاغہ کے مطالعے کی جانب متوجہ کرنے پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولا علی علیہ السلام کے خطبات، فرامین اور وعظ و نصیحت کے مجموعے نہج البلاغہ میں توحید و تخلیق کائنات سے لیکر اخلاقیات اور زندگی گزارنے کے سلیقے تک بتائے گئے ہیں۔مولا علی کے خطبات و فرامین کے اس مجموعے پر عیسائی دانشوروں نے بہت کام کیا ہے۔ابن ابا الحدید معتزلی جیسے اہل سنت علما نے عربی میں اسکی شرحیں لکھی ہیں۔ اس مجموعے کا دنیا کی ہر زبان میں ترجمہ موجود ہے اسکے باوجود بر صغیر ہند و پاک کے شیعوں کے گھروں میں یہ قیمتی علمی سرمایہ بے توجہی کی دھول میں اٹا ہوا ہے۔مولا علی سے محبت کے دعوے کرنے والے لوگ انکی علمی میراث سے بے بہرہ ہیں۔ نئی نسل کے نوجوانوں کو نہج البلاغہ کی افادیت اور اہمیت کی جانب متوجہ کرنے کے لئے نہج البلاغہ کے عنوان سے ایک سمپوزیم اور نمائش کا اہتمام امروہا میں کیا گیا۔

امروہا میں نہج البلاغہ کی افادیت پر سمپوزیم، نوجوانوں کو مولا علیؑ کی علمی میراث سے جوڑنے پر زور

محلہ حقانی میں امامیہ ریسرچ سینٹر میں منعقد اس سمپوزیم کی صدارت مولانا ڈاکٹر شہوار نقوی نے کی جبکہ مولانا افروز مجتبیٰ، مولاناحیدر مہدی اور مولانا شاداب حیدر نے بطور مقرر شرکت کی۔ مقررین نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ مجلسوں میں مولا علی کی شجاعت کے واقعات زور و شور کے ساتھ بیان کئے جاتے ہیں ۔ رسول اللہ کی اس حدیث کو بھی خوب بیان کیا جاتا ہیکہ مولا علی علم کے شہر کا دروازہ ہیں لیکن علما اور ذاکرین مولا علی کی علمی فضیلت اور انکے خطبات و فرامین کا برائے نام ذکر کرتے ہیں۔

معروف صحافی سراج نقوی، مولانا افروز مجتبیٰ، مولانا حیدر مہدی اور مولانا شاداب حیدر نے نہج البلاغہ پر غیر مسلم دانشروں اور غیر شیعہ علما کے ذریعے کئے گئے تاریخی کاموں کا ذکر کیا۔ ایک انگریز دانشور کا یہ قول بھی نقل کیا گیا جو اس نے تخلیق کائنات کے حوالے سے مولا علی کے خطبہ کو پڑھنے کے بعد کہا تھا کہ یا تو یہ کائنات علی کے ہاتھوں خلق ہوئی یا انکی نظروں کے سامنے اسے خلق کیا گیا۔مقررین نے کہا کہ اب وقت آگیا ہیکہ شیعہ نوجوانوں کو نہج البلاغہ کے مطالعہ کی جانب راغب کیا جائے۔

امروہا میں نہج البلاغہ کی افادیت پر سمپوزیم، نوجوانوں کو مولا علیؑ کی علمی میراث سے جوڑنے پر زور

مولانا شہوار نقوی نے بتایا کہ اسی ضرورت کے پیش نظر نہج البلاغہ کے موضوع پر یہ سمپوزیم منعقد کیا گیا۔ اور نہج البلاغہ سے متعلق مختلف مصنفین کی تحریر کردہ کتابوں کی نمائش کی گی ہے۔ مولانا شہوار نے نہج البلاغہ کی شرح لکھنے والے مصنفین کا اشاریہ ترتیب دیا ہے۔اس میں نہج البلاغہ کی شرح لکھنے والوں کی فہرست ہے اور انکے مختصر حالات زندگی بیان کئے گئے ہیں۔ سمپوزیم میں نہج البلاغہ سے متعلق کتابیں بھی نماش کے لے رکھی گئی تھیں۔

اس موقع پر مدعو شعرا نے مولا علی اور نہج البلاغہ کی شان میں کلام پیش کیا۔ جن شعرا نے کلام پیش کیا ان میں مطاہر حسین نوشہ، ڈاکٹر لاڈلے رہبر، جمال عباس فہمی، وسیم امروہوی،ارمان ساحل، تاجدار مجتبیٰ اور شاندار مجتبی شامل تھے۔پروگرام کی نظامت لاڈلے رہبر نے کی۔یہ پروگرام مولا علی کے یوم پیدائش کے سلسلے میں منعقد کیا گیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha