حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیتاللہ العظمیٰ جوادی آملی نے کتاب «کوثر اربعین» میں اربعین پیادہروی کے سب سے اہم اثر اور فلسفے کو تاریخ میں تحریک عاشورا کا تسلسل قرار دیا ہے اور تاکید کی ہے کہ درحقیقت اربعین واک کا دوام اور تسلسل مومنین کے دلوں کے حسینی محبت اور حرارت کے سبب ہے۔
انہوں نے کہا: اربعین واک کا سب سے اہم اثر یا فلسفہ، تاریخ میں تحریک عاشورا کا تسلسل ہے کیونکہ ارادہ اس تعلق سے ہی شروع ہوتا ہے کہ یہ واقعہ جاوداں رہے اور اس مقصد کا حصول سوائے مومنین کے دلوں کو حسین (علیہ السلام) کی محبت سے جوڑنے کے راستے سے ممکن نہ تھا:
"إنَّ لِقَتلِ الحُسَینِ حَرارَةً فِی قُلُوبِ المُؤمِنینَ لاتَبرُدُ اَبَداً"؛ / بےشک قتلِ حسین کی مومنین کے دلوں میں ایسی تپش اور حرارت ہے جو کبھی ٹھنڈی نہیں ہوتی۔

اسی وجہ سے، قدیم زمانے سے ائمہ اطہار علیہم السلام کے روضے بھی مظالم اور استبداد کے خلاف تحریکوں اور انقلابات کا مرکز رہے ہیں اور دوسری طرف بڑے حوزوی مراکز بھی ان مقدس مقامات پر قائم ہوئے ہیں۔
لوگوں اور نسلوں کی عمومی توجہ ان مقدس ہستیوں کے حرم ہائے مطہر کی طرف خاص طور پر حضرت ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کی تحریک کے اہداف اور فلسفے سے جتنی زیادہ آگاہی، ان کے اندر قیام کے جذبے، استکبارستیزی اور عدالتطلبی کو برقرار رکھنے اور مضبوط کرنے کا باعث بنتی ہے۔
زیارت اربعین میں اس فلسفہ تحریک اور اس کے مبارزہ و مقابلہ کا محوری عنصر آگاہی بخشی اور جہالت و گمراہی سے نجات کو بیان کیا گیا ہے:
"وَ بَذَلَ مُهْجَتَهُ فِیکَ لِیَسْتَنْقِذَ عِبَادَکَ مِنَ الْجَهَالَةِ وَ حَیْرَةِ الضَّلالَةِ" / اور اس نے تیری راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تاکہ تیرے بندوں کو جہالت اور گمراہی کی حیرت سے نجات دے۔
ماخذ: کتاب کوثر اربعین - آیتاللہ جوادی آملی - ص 177، 178









آپ کا تبصرہ