منگل 18 اگست 2026 - 21:12
ہم جنس پرستی کے گناہ کا خطرہ؛ فطرت سے غفلت سے لے کر نعمتوں کی تبدیلی تک

حوزہ / الٰہی فطرت کے راستے سے انحراف، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو ان کی مطلوبہ صورت سے خارج کر دیتا ہے اور ’’بارانِ رحمت‘‘ کو ’’عذاب کے پتھروں‘‘ میں تبدیل کر دیتا ہے؛ یہ ایسی تصویر ہے جو انسان کو گناہ کے نتائج پر غور، الٰہی فطرت کی طرف واپسی اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت و رحمت طلب کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی | انسان اپنی تخلیق کے آغاز میں ایک خالی ظرف کی مانند ہوتا ہے، تاہم زندگی کے دوران مختلف آداب و رسوم، افکار اور اقدار، خواہ حق ہوں یا باطل، اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سیاسی، اقتصادی اور سماجی نظام بھی اس کے نقطۂ نظر اور شخصیت کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انسان کے وجود میں ایک الٰہی فطرت اور حق کو پہچاننے اور حق کی پیروی کرنے کا اندرونی رجحان ودیعت فرمایا ہے تاکہ وہ ماحول کے مختلف اثرات کے درمیان حقیقت کی راہ کو پہچان سکے اور اس پر گامزن ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اس حقیقت کی طرف یوں اشارہ فرماتا ہے:

«فَأَقِمْ وَجْهَکَ لِلدِّینِ حَنِیفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا لَا تَبْدِیلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَٰلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ وَلَٰکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُونَ.» (روم/ ۳۰)

پس (اے رسول(ص)) آپ باطل سے کنارہ کش ہوکر اپنا رخ دین (حق) کی طرف رکھیں یعنی اس (دینِ) فطرت کی پیروی کریں جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہے یہی سیدھا دین ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

کبھی غفلت اور بے خبری انسان کے وجود پر اس قدر چھا جاتی ہے کہ وہ اپنی الٰہی فطرت کی حقیقت کو بھول جاتا ہے اور اپنے اختیار سے فطرت اور الٰہی ہدایت کے راستے سے دور ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ حق طلبی کی اندرونی آواز کو اپنے لیے چراغِ راہ بنانے کے بجائے نفسانی خواہشات اور ماحول کے عوامل سے متاثر ہو کر اپنی الٰہی فطرت اور راستے سے مختلف راہ اختیار کر لیتا ہے۔

اس بحث کی اہمیت اس بات میں ہے کہ الٰہی فطرت کو فراموش کرنا یا اس کے راستے کو تبدیل کرنا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں تبدیلی کا سبب بنتا ہے۔

قرآن کریم کی اس مثال پر توجہ کیجیے:

’’قومِ لوط‘‘ ایسے لوگ تھے جو لواط سمیت کبیرہ گناہوں کے ارتکاب کے باعث عذابِ الٰہی کا شکار ہوئے۔ ان کے پیغمبر حضرت لوط علیہ السلام تھے۔ تاریخی منابع کے مطابق قومِ لوط نے لواط سمیت کبیرہ گناہوں کو ترک نہ کیا تو بالآخر عذابِ الٰہی میں مبتلا ہوئی۔ قرآن کریم نے قومِ لوط کے عذاب کو زمین کے الٹ دیے جانے اور آسمان سے پتھروں کی بارش کی صورت میں بیان کیا ہے۔

«وَأَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَطَرًا فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِینَ.» (اعراف/ ۸۴)

اور ہم نے ان پر (پتھروں) کی بارش برسائی تو دیکھو مجرموں کا کیسا انجام ہوا؟

اور ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتا ہے:

’’ «فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّیلٍ مَنْضُودٍ.» (هود/ ۸۲)

پھر جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا۔ تو ہم نے اس سرزمین کو تہہ و بالا کر دیا اور اس پر سنگِ گِل یعنی پکی ہوئی مٹی کے پتھر مسلسل برسائے۔

لہٰذا اسلام کی اخلاقی اور دینی تعلیمات کی روشنی میں ان گناہوں میں سے ایک گناہ جو انسان کو الٰہی فطرت کے راستے سے دور کر سکتا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے، ’’ہم جنس پرستی‘‘ ہے۔

گناہ اور الٰہی راستے سے سرپیچی، نعمت کو اس کی مطلوبہ صورت سے خارج کر دیتی ہے اور ’’رحمت کی بارش‘‘ کو ’’عذاب کے پتھروں‘‘ میں تبدیل کر دیتی ہے؛ یہ تصور انسان کو گناہ کے روحانی نتائج پر غور، الٰہی فطرت کی طرف واپسی اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت و رحمت طلب کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

اسی لیے امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے ’’دعائے کمیل‘‘ میں بیان کردہ کلمات کی عظمت مزید واضح ہو جاتی ہے:

’’اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُغَیِّرُ النِّعَمَ۔‘‘

’’اے اللہ! میرے ان گناہوں کو بخش دے جو نعمتوں کو دگرگوں کر دیتے ہیں۔‘‘

کیونکہ مؤمن کو ہمیشہ چاہیے کہ مصیبت کے ازالے یعنی گناہ کے آثار و نتائج سے نجات اور مصیبت کے دفعیے یعنی گناہ میں مبتلا ہونے اور نعمتوں میں تبدیلی سے پیشگیری کے لیے بارگاہِ الٰہی میں عاجزی کے ساتھ مغفرت و رحمت طلب کرے اور اپنی اصلاح کی راہ پر قدم بڑھائے۔

ایک سوال کا جواب

اگر دینی تعلیمات کے مطابق ہم جنس پرستی کا گناہ عذابِ الٰہی اور نعمتوں میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے تو پھر موجودہ معاشروں خصوصاً مغربی معاشروں میں ہم جنس پرست افراد عذابِ الٰہی کا شکار کیوں نہیں ہوتے اور بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بھی بہرہ مند کیوں نظر آتے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں سب سے پہلے اس نکتے پر توجہ دینا ضروری ہے کہ مذکورہ عذاب کا وعدہ صرف اسلامی تعلیمات تک محدود نہیں ہے۔

انجیلِ رومیوں میں یوں بیان ہوا ہے:

’’پس خدا نے بھی انہیں شرمناک شہوتوں میں چھوڑ دیا۔ یہاں تک کہ ان کی عورتوں نے فطری تعلقات کو غیر فطری تعلقات سے بدل دیا۔ اسی طرح مردوں نے بھی عورتوں سے فطری تعلقات ترک کر دیے اور ایک دوسرے کے لیے شہوت میں جلنے لگے۔ مردوں نے مردوں کے ساتھ شرمناک اعمال انجام دیے اور اپنے گمراہ ہونے کے لائق سزا اپنے اندر پائی۔‘‘ (رومیوں ۱:۲۶-۲۷)

کتابِ مقدس ہم جنس پرستی کی گمراہی کے لیے سزا کا ذکر کرتی ہے۔ یہ سزا کیا ہے؟

انجیلِ لاویان میں اس سزا کا یوں ذکر کیا گیا ہے:

’’... اور مرد سے عورت کی مانند مباشرت نہ کرنا، کیونکہ یہ فحش کام ہے۔ ... ان میں سے کسی کے ذریعے اپنے آپ کو ناپاک نہ کرنا، کیونکہ ان تمام کاموں کے سبب وہ قومیں ناپاک ہو گئی ہیں جنہیں میں تمہارے سامنے سے نکال رہا ہوں۔ اور زمین ناپاک ہو گئی ہے اور میں اس کی بدکاری کی سزا اس سے لوں گا اور زمین اپنے باشندوں کو اگل دے گی۔ پس تم میرے فرائض اور احکام کو بجا لاؤ...۔‘‘ (لاویان ۱۸:۲۲، ۲۴، ۲۵، ۲۶)

زمین کا انتقام اور غضب دراصل وہی عذاب ہے جو الٰہی فطرت اور انسانی طبیعت سے بے اعتنائی کا نتیجہ ہے؛ وہی عذاب جس کی طرف قرآن کریم نے بھی اشارہ فرمایا ہے:

’’ «فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا... .» (هود/ ۸۲)

’’پھر جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا۔ تو ہم نے اس سرزمین کو تہہ و بالا کر دیا...۔‘‘

لہٰذا وعدہ کیا گیا عذاب صرف اسلامی تعلیمات تک محدود نہیں ہے۔

اس سوال کے جواب میں ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ عذابِ الٰہی میں تاخیر، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بہرہ مندی اور نعمتوں میں تبدیلی کا ظاہری طور پر نہ ہونا، کسی عمل یعنی گناہ کی تائید کی علامت نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ان لوگوں کے بارے میں جو اس کے احکام کو فراموش کر بیٹھے لیکن بظاہر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بہرہ مند ہیں، فرماتا ہے:

’’ «فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُکِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ حَتَّیٰ إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ.» (انعام/ ۴۴)

اور جب انہوں نے اس نصیحت کو بھلا دیا جو انہیں کی گئی تھی تو ہم نے (ابتلا و امتحان کے طور پر) ان کے لئے ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ وہ عطا کردہ چیزوں (نعمتوں) سے خوب خوش ہوگئے اور اترانے لگے تو ہم نے اچانک انہیں پکڑ لیا۔ تو وہ ایک دم مایوس ہوگئے۔

اسی لیے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

’’إِذَا رَأَیْتَ اَللَّهَ یُعْطِی عَلَی اَلْمَعَاصِی فَإِنَّ ذَلِکَ اِسْتِدْرَاجٌ مِنْهُ۔‘‘ (تفسیر نورالثقلین، ج ۱، ص ۷۱۸)

’’جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کے باوجود دنیا کی نعمتیں عطا کر رہا ہے تو یہ اس کی طرف سے استدراج (بتدریج ہلاکت میں رکھنا) ہے۔‘‘

لہٰذا دینی تعلیمات کے مطابق ’’سنتِ استدراج‘‘ اللہ تعالیٰ کی سنتوں اور قوانین میں سے ایک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خود کو الٰہی فطرت کے راستے سے دور کر لے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بہرہ مند ہو تو اسے جان لینا چاہیے کہ وہ ہلاکت کے راستے پر ہے۔ البتہ یہ عارضی آسودگی اور عذاب کا نہ آنا ہرگز گناہ گار شخص کے لیے رحمتِ الٰہی کی علامت نہیں ہے۔

اس بحث کی اہمیت اس قدر ہے کہ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام ہمیں اس حقیقت سے یوں متنبہ فرماتے ہیں:

’’یَا ابْنَ آدَمَ، إِذَا رَأَیْتَ رَبَّکَ سُبْحَانَهُ یُتَابِعُ عَلَیْکَ نِعَمَهُ وَ أَنْتَ تَعْصِیهِ، فَاحْذَرْهُ۔‘‘ (نہج البلاغہ، حکمت ۲۵)

’’اے فرزندِ آدم! جب تم دیکھو کہ تمہارا پروردگار مسلسل اپنی نعمتیں تم پر نازل کر رہا ہے جبکہ تم اس کی نافرمانی کر رہے ہو تو اس سے ڈرو، (کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی سخت سزا تمہاری منتظر ہو)۔‘‘

اگرچہ ہم جنس پرستی کے گناہ کے خطرات اور ان خطرات کی یاد دہانی کرانے والے شواہد کے بارے میں بہت سے مطالب موجود ہیں تاہم اختصار کے پیش نظر ہم اسی مقدار پر اکتفا کرتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha