اتوار 23 اگست 2026 - 22:30
سوشل میڈیا سے غفلت بچوں کی تربیت میڈیا کے سپرد کر دیتی ہے

ماہر تعلیم و تربیت:

سوشل میڈیا سے غفلت بچوں کی تربیت میڈیا کے سپرد کر دیتی ہے

جو شخص صالح اولاد چاہتا ہے اسے شادی اور اولاد سے پہلے خود اپنی تربیت کرنی چاہیے

حوزہ / ماہر تعلیم و تربیت نے ماں کے مثالی کردار اور والدین کی میڈیا خواندگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: اگر سوشل میڈیا سے غفلت برتی جائے تو میڈیا بچوں کے ذہن میں مذہبی رول ماڈل کی کمی کو پورا کر دے گا۔

حوزه نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر تعلیم و تربیت محترمہ فاضلہ دہقانی نے بچے کی دینی شخصیت کی تشکیل میں ماں کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: تربیت کی اصل ذمہ داری اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور والدین اس عمل کا حصہ ہیں، لہٰذا انسان کو اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرنی چاہیے اور جو چیز اس کی طاقت سے باہر ہو اسے اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا چاہیے۔

اس ماہر تعلیم و تربیت نے کہا: صالح اولاد کی تربیت کا آغاز خود والدین سے ہوتا ہے۔ جو شخص صالح اولاد چاہتا ہے اسے شادی اور اولاد کی پیدائش سے پہلے خود اپنی تربیت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا: انسان فطرتِ الٰہی پر پیدا ہوتا ہے اور ماں کا کردار دینی مفاہیم کو بچے پر مسلط کرنا نہیں بلکہ محبت اور احترام کے ذریعے اس فطرت کو بتدریج بیدار کرنا ہے تاکہ بچہ اس مقام تک پہنچے کہ وہ خود اپنا نگران اور واعظ بن جائے۔ بچے کو زبان اور نصیحت کے ذریعہ دین سننے سے پہلے اپنی ماں کے کردار اور طرزِ عمل میں دین کو دیکھنا چاہیے۔

محترمہ دہقانی نے مزید کہا: تربیت بیج بونے کی مانند ہے۔ ماں اپنی سچی محبت کے ذریعے بچے کے دل کی زمین کو ہموار کرتی ہے تاکہ فطرت کا بیج پھل پھول سکے۔ مثالی تربیت اس عمل کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ ہمارے پاس بہترین نمونے یعنی اہل بیت علیہم السلام موجود ہیں، جنہیں بچوں کی دنیا کے مطابق پرکشش انداز میں متعارف کرانا چاہیے۔

سوشل میڈیا سے غفلت بچوں کی تربیت میڈیا کے سپرد کر دیتی ہے

انہوں نے سوشل میڈیا کے دور میں دینی تربیت کے چیلنجز کے بارے میں کہا: آج میڈیا صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مربی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ فلمیں، کارٹون، گیمز اور سوشل میڈیا بچے کی سوچ، اقدار اور طرزِ عمل کے نمونوں کو تشکیل دے رہے ہیں۔ اگر کوئی خاندان اس میدان سے غفلت برتے تو ممکن ہے میڈیا عملی طور پر بچوں کی تربیت کا ایک حصہ والدین سے لے لے۔

اس ماہر تعلیم و تربیت نے مزید کہا: مسئلہ صرف میڈیا پر موجود مواد کا نہیں بلکہ ان رول ماڈلز کا بھی ہے جن سے بچے کو متعارف کرایا جاتا ہے۔ اگر ہم دینی رول ماڈلز کو درست اور پرکشش انداز میں متعارف نہ کرائیں تو میڈیا ان کی جگہ لے لے گا۔ لہٰذا صرف بچوں کی تربیت کے متعلق پریشان ہونا کافی نہیں بلکہ بچے کی تجزیاتی صلاحیت اور انتخاب کی قوت کو بھی مضبوط کرنا چاہیے تاکہ وہ خود میڈیا کے سامنا کرنے کی صورت میں درست اور غلط میں تمیز کرسکے۔

انہوں نے کہا: اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے والدین کو سب سے پہلے خود میڈیا خواندگی اور اسلامی تربیت کے معتبر ذرائع کی شناخت سے متعلق ضروری معلومات حاصل کرنی چاہییں۔ اگر ہم بچوں کی تربیت میں اپنی انسانی اور دینی ذمہ داری کو صحیح طور پر ادا کریں، گھر میں میڈیا کے استعمال کا ایک باقاعدہ نظام وضع کریں، بچے کے ساتھ گہرا عاطفی تعلق قائم کریں اور گھر میں اہل بیت علیہم السلام کی عملی اور قابلِ مشاہدہ سیرت کو نمونے کے طور پر پیش کریں تو ہمیں بہترین نتیجہ حاصل ہو گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha