حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کے شہر کوشامبی میں خانقاہ عارفیہ، سید سراواں میں 18ویں سالانہ میلاد کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں علماء، دانشوروں، صحافیوں، وکلا، سماجی شخصیات اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

جامعہ عارفیہ کے استاد جناب محمد زکی ازہری نے اپنے خطاب میں علم اور کردار کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انسان کی حقیقی عظمت محض معلومات میں نہیں بلکہ اس کے اخلاق و کردار میں ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مختلف واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسروں کو جو تعلیمات دیں، پہلے خود ان پر عمل کرکے عملی نمونہ پیش کیا۔ ایک مسلمان کے اخلاق اور گفتار سے دوسروں کو امن، امید اور اطمینان ملنا چاہیے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مؤسسہ تقریب مذاہبِ ہند کے چیئرمین حجۃ الاسلام و المسلمین سید صادق حسینی نے موجودہ عالمی حالات، انسانی جانوں کے ضیاع اور حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے جنگِ بدر کے قیدیوں کا حوالہ دیتے ہوئے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ علم و ہنر کو دوسروں تک منتقل کرنا معاشرے کو باصلاحیت بنانے، امن کے فروغ اور اجتماعی ترقی کا مؤثر ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا: ایران اور امریکہ کی جنگ جاری ہے، ایک طرف سپر پاور پوری دنیا سے بھیک مانگ رہا ہے کہ میری مدد کرو، ناٹو سے مدد مانگ رہا ہے اور عرب ممالک کے خزانوں پر نظر ٹکی ہوئی ہے، اور اپنا لشکر لے کر ہرمز اسٹریٹ کے پاس آگیا ہے، دنیا دیکھ رہی ہے کہ جیسا انجام فرعون کا ہوا تھا ویسے ہی امریکہ کا ہو رہا ہے اور اس کا بیڑا غرق ہو رہا ہے، یہ نتیجہ ہے سیرت النبی (ص) پر عمل کرنے کا۔ یہ نتیجہ ہے دعوت اتحاد، صبر و استقامت، بھائی چارے اور حسین ابن علی علیہ السلام اور کربلا ک شہیدوں کی راہ پر چلنے کا۔

سینئر ایڈووکیٹ کے۔ کے۔ رائے نے ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی روایت اور مذہبی ہم آہنگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کی اصل طاقت باہمی احترام اور مل جل کر رہنے میں ہے۔ انہوں نے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے اور انصاف کے قیام کو اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ قرار دیا۔

مرکزی خطاب میں اہلسنت عالم دین جناب عارف اقبال مصباحی، مدھوبنی بہار، نے قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں خدمتِ خلق اور تواضع کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے والدین، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، پڑوسیوں، مسافروں اور زیرِ دست افراد کے حقوق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی خدمت یہ ہے کہ ضرورت مند کو خود کفیل بنایا جائے۔ انہوں نے حلف الفضول کا حوالہ دیتے ہوئے مظلوم کی حمایت اور ظلم کے خلاف اجتماعی جدوجہد کو سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اہم عملی سبق قرار دیا۔

ایڈووکیٹ راج وندر سنگھ نے بھی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کو انسانی اور اخلاقی ذمہ داری قرار دیا اور غزہ میں انسانی جانوں کے ضیاع کے خلاف عملی طور پر آواز اٹھانے پر زور دیا۔
کانفرنس کا مکمل انتظام و انصرام شاہ صفی میموریل ٹرسٹ کی جانب سے کیا گیا، جس میں جامعہ عارفیہ کے مینیجر جناب ساجد سعیدی برہانی نے نمایاں انتظامی خدمات انجام دیں۔ جامعہ عارفیہ کے اساتذہ اور طلبہ نے بھی پرنسپل جناب عمران حبیبی کی سرپرستی میں پروگرام کے انتظامات اور مختلف خدمات میں بھرپور حصہ لیا۔

پروگرام میں خصوصی طور پر بریگیڈیئر سید احمد علی، حجۃ الاسلام و المسلمین سید صادق حسینی، سینئر ایڈوکیٹ کے۔ کے۔ رائے، ایڈوکیٹ راج وندر سنگھ، محمد رضوان قادری، سنیل ساہو، بلرام ساہو، منو سونی، سریش سنگھ، اَمرجیت سنگھ، دیوندر پانڈے، پرندر نارائن شکلا، لالا مہاراج، دلیپ کیسروانی، چنّو لال وشوکرما، ڈاکٹر سید احمد، ایڈوکیٹ محمد حسام الدین خان، مولوی عمران کراری، قاری اسلم گہورے، شیخ محبوب اللہ بقائی مہوبا، ڈاکٹر عرفان نجف علیمی اور ڈاکٹر سلطان پورہ مفتی سمیت دیگر مذہبی، سماجی، قانونی، سرکاری و صحافتی شخصیات شریک رہے۔









آپ کا تبصرہ