حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم آیت اللہ آقا مجتبیٰ تہرانىؒ نے ایک درس اخلاق میں کہا کہ اگر انسان موت کے بارے میں ذرا بھی غور کرے تو اسے احساس ہوگا کہ جن چیزوں سے وہ وابستہ ہے، ان میں سے بہت سی موت کے ساتھ ہی ختم ہو جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ جاہ و منصب محض اعتباری اور فرضی امور ہیں، جبکہ انسان حقیقی مال و دولت اور اپنی تمام ظاہری ملکیتیں بھی دنیا میں چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ آخر کون سا عاقل انسان کسی فرضی اور عارضی چیز کے لیے حقیقی اور قیمتی چیزوں کو قربان کرے گا؟
آیت اللہ مجتبیٰ تہرانىؒ نے مزید کہا کہ موت اور قیامت سے غفلت ہی انسان کو اس راستے پر لے جاتی ہے کہ وہ حقیقت کو خیالی چیزوں کے بدلے فروخت کر دیتا ہے۔ جو لوگ قیامت، حساب اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی پر یقین رکھتے ہیں، انہیں اس بارے میں کچھ دیر غور کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کو یہ ضمانت نہیں دی کہ وہ کتنی عمر پائے گا؛ زندگی اچانک ختم ہو سکتی ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ ’’وہ گرا اور مر گیا‘‘، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان پہلے مرتا ہے اور پھر گرتا ہے۔
مرحوم آیت اللہ آقا مجتبیٰ تہرانىؒ نے آخر میں کہا کہ انبیاء و اولیاء علیہم السلام اسی لیے آئے تھے کہ انسان کو غفلت سے بیدار کریں اور اسے خواہشاتِ نفس کا اس حد تک اسیر بننے سے بچائیں، کیونکہ اس کا انجام انتہائی خطرناک اور تباہ کن ہے۔









آپ کا تبصرہ