۱۷ اردیبهشت ۱۴۰۰ | May 7, 2021
آیت اللہ حافظ ریاض نجفی

حوزہ/ خطبہ جمعہ میں صدر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ انسان اللہ کے بے پناہ احسانات و نعمات پر غور کرے تو اطاعت کوئی مشکل کام نہیں۔ اپنے وجود اور کائنات میں غور کرنا چاہئے۔ کسان ایک دانہ زمین میں ڈالتا ہے، کس طرح شاخیں، کونپلیں، پھل لگتے ہیں۔ ایک قطرہ سے تین پردوں میں انسان کی تصویر کشی کون کرتا ہے؟ہر نعمت انسان کو اللہ کی یاد دلاتی ہے اور اُسی کی اطاعت کا تقاضاکرتی ہے تاکہ اس کا انجام بخیر ہو۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور/ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے،اسے دنیا میں حکمرانی کرنی ہے لیکن اسے بقاء نہیں بلکہ معیّن وقت پر چلے جانا ہے۔اس کی حالت یہ ہے کہ جب طاقت ملتی ہے تو ر ب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ہر طاقتور اور حکمران کا غرور و تکبّر بے بنیاد ہے ۔اللہ چاہے تو ایک سیکنڈ میں زندگی ہی ختم ہو جائے۔طاقت و اقتدار کے نشہ میں غریبوں پر ظلم و دیگر زیادتیاں اللہ کو بھلانے کا نتیجہ ہوتی ہیں۔کرونا بھی درحقیقت ایک تنبیہہ ہے کہ انسان اللہ کی طرف توجہ کرے۔پندرہ دن کی خلوت و تنہائی میں غور وفکر کرے۔اپنی اصلیت کے بارے سوچے۔امام علیؑ فرماتے ہیں آدمی کا آغاز نطفہ،انجام مردار ہونا ہے۔

جامع علی مسجد جامعتہ المنتظر میں خطبہ جمعہ میں حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ ایک گھونٹ پانی حلق میں اٹک جائے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔یہ انسان کی بے چارگی و بے بسی کا عالَم ہے کہ جس پانی پر زندگی کا دارو مدار ہے اُسی کے ایک گھونٹ سے مر سکتا ہے۔کچھ لوگ موت کو دیکھ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں لیکن اُس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔جب جان حلقوم تک پہنچ جاتی ہے تو وہ وقت بہت سخت ہوتا ہے۔اُس وقت آدمی سوچتا ہے کاش غلط کام نہ کرتا۔ فرعون نے بھی عذاب دیکھ کر اللہ پر ایمان لانے کا کہا تھا لیکن قبول نہ کیا گیا۔ا

ن کا کہنا تھا کہ انسان اللہ کے بے پناہ احسانات و نعمات پر غور کرے تو اطاعت کوئی مشکل کام نہیں۔ اپنے وجود اور کائنات میں غور کرنا چاہئے۔ کسان ایک دانہ زمین میں ڈالتا ہے، کس طرح شاخیں، کونپلیں، پھل لگتے ہیں۔ ایک قطرہ سے تین پردوں میں انسان کی تصویر کشی کون کرتا ہے؟ہر نعمت انسان کو اللہ کی یاد دلاتی ہے اور اُسی کی اطاعت کا تقاضاکرتی ہے تاکہ اس کا انجام بخیر ہو۔

حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ سورہ مبارکہ الواقعہ میں انجام کے لحاظ سے لوگوں کی تین اقسام بیان کی گئی ہیں۔ایک ” مقربینِ خُدا“ جو عبادت گزار، پارسا،قائم اللیل صائم النہار،متقی و پرہیزگار ہوتے ہیں ۔جنّت انہی کے لئے ہے۔ دوسرے ”اصحاب الیمین“ یعنی اچھے لوگ جو بُرائی کریں تو جلد توبہ کر لیتے ہیں۔ان کا حساب معمولی ہو گا۔تیسری قسم کے لوگوں کو ” اصحاب الشمال“ کہا گیا یعنی غلط کار جن کا انجام بہت بُرا ہو گا۔ان کے لئے سیاہ دھوئیں کے بادل، زہریلی ہوائیں،گرم کھولتا ہوا پانی ۔ وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں مال و دولت اور استطاعت کے باوجود کسی غریب ، مسکین کی مدد نہیں کرتے تھے۔شرک و دیگر بدکاریاں کرتے تھے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 2 =