جمعہ 4 ستمبر 2026 - 18:43
ایران کے خلاف استکباری محاذ کی 9 بڑی کمزوریاں ہیں: آیت اللہ اعرافی

حوزہ/ قم کے امام جمعہ نے کہا کہ استکبار کے مقابلے میں ایرانی قوم اور قیادت کی ثابت قدمی نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے؛ امریکہ اور استکباری نظام اپنی تاریخی ناانصافیوں، عالمی نفرت، اقتصادی پیچیدگیوں، سیاسی جمود اور غلط اندازوں کے باعث اندر سے کمزور اور شکست پذیر ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ علی رضا اعرافی نے قم المقدسہ میں نماز جمعہ کے خطبوں میں حالیہ مسلط کردہ جنگ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اور استکبار کے درمیان جاری یہ محاذ آرائی گزشتہ ایک صدی میں اپنی نوعیت کی منفرد جنگ ہے اور اس کے حقائق کو موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے بیان کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم اور قیادت کی استکبار کے مقابلے میں مزاحمت نے دنیا کو حیران کر دیا ہے، کیونکہ کسی کو توقع نہیں تھی کہ ایک قوم دنیا کی سب سے بڑی علمی، ٹیکنیکی، اقتصادی، سیاسی اور فوجی طاقت کے سامنے ڈٹ سکتی ہے۔ یہ قوت انتظار و مہدویت کے عقیدے، شہداء کی قربانیوں اور امام خمینی کی فکر سے حاصل ہوئی ہے اور اس قیمتی ورثے کی حفاظت ضروری ہے۔

آیت اللہ اعرافی نے امریکہ اور استکباری نظام کی 9 کمزوریوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:

1. ظلم پر قائم تہذیب: مغربی ترقی کی بنیاد میں ایشیا، افریقہ اور دیگر خطوں کے استعمار اور وسائل کی لوٹ مار شامل رہی ہے، اور ظلم پر قائم عمارت بالآخر کمزور ہوتی ہے۔

2. عالمی نفرت: دنیا میں استکبار کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے، اگرچہ بہت سے رہنماؤں میں اس کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت نہیں۔

3. پیچیدہ اقتصادی نظام: ترقی یافتہ ہونے کے باوجود ان کا اقتصادی نظام ایسی پیچیدگیوں کا شکار ہے جو اسے کمزور بناتی ہیں۔

4. بدعنوانی پر مبنی معیشت: تبعیض، لوٹ مار اور بدعنوانی پر قائم اقتصادی نظام بھی ان کی کمزوری کا سبب ہے۔

5. رفاہ پسندی اور صدمے برداشت کرنے کی کم صلاحیت: مصنوعی آسائشوں نے ان میں مزاحمت اور بڑے بحران برداشت کرنے کی صلاحیت کم کر دی ہے۔

6. ایران سے ناواقفیت: وہ ایران کی نئی جنگی حکمت عملی، غیر روایتی اور غیر متناسب جنگ کے طریقوں سے پوری طرح واقف نہیں۔

7. سیاسی جمود: امریکہ کا جمہوری نظام اندرونی سیاسی بندش کا شکار ہو چکا ہے اور بہت سی آوازوں کو مؤثر نمائندگی حاصل نہیں۔

8. دوہرے معیار: جہاں جمہوریت اور عوامی حکمرانی نہیں، ایسے ممالک امریکہ کے قریب ہیں، جبکہ جمہوری ممالک بھی اس کے لیے قابلِ قبول نہیں، جس سے عالمی نفرت بڑھتی ہے۔

9. غلط اندازے: امریکہ نے ایران، اس کی مسلح افواج، عوام اور حتیٰ کہ مخالفین کو بھی درست طور پر نہیں پہچانا اور ایسے فیصلے کیے جنہوں نے اسے جنگ میں الجھا دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی قوم، اسلامی انقلاب، محورِ مزاحمت اور امت مسلمہ استکبار کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑے رہیں گے۔

عزت، صبر اور بصیرت کامیابی کے اصول ہیں

آیت اللہ اعرافی نے پہلے خطبے میں کہا کہ عزت، صبر و مزاحمت اور بصیرت اسلامی معاشرے کے بنیادی اصول ہیں۔ انہوں نے سورۂ یوسف کی آیت «قُلْ هَٰذِهِ سَبِیلِی أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَىٰ بَصِیرَةٍ» کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی طرف دعوت صرف ظاہری معلومات پر نہیں بلکہ عقل، حکمت اور گہری بصیرت پر مبنی ہونی چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بصیرت کے دو بنیادی پہلو ہیں: اعتقادی بصیرت، یعنی خدا، آخرت اور حقائقِ ہستی کی معرفت؛ اور سماجی و سیاسی بصیرت، یعنی حق کے راستے، دشمن کی سازشوں، فتنوں اور باطل پروپیگنڈے کو پہچاننا۔

ان کے مطابق امام حسین علیہ السلام نے واقعۂ عاشورا کے دوران اس آیت کی تلاوت کرکے واضح کیا کہ معرفت خدا کے ساتھ حجت خدا، راہ مستقیم اور دشمن کی فریب کاریوں کی پہچان بھی ضروری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha