حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے جمعہ 11 ستمبر 2026 کی شام ہندوستان کے مذہبی رہنماؤں، دانشوروں اور تاجروں سے ملاقات کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اعتقادی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر امت کی طرف ایک رسول بھیجا اور انبیائے کرام کی بعثت کا مقصد معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرنا تھا۔ تمام انبیاء کی تعلیمات اور ادیان کی بنیاد درحقیقت ظلم، قلدری اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد اور حق و انصاف کے قیام پر ہے۔
انہوں نے قرآن کریم کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت میں تمام انسان ایک امت تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو بشارت دینے اور خبردار کرنے کے لیے مبعوث کیا اور ان کے ساتھ حق پر مبنی کتاب نازل کی تاکہ لوگوں کے درمیان اختلافات کا فیصلہ حق و انصاف کے مطابق کیا جائے۔ تاہم جب انسانوں میں خود پسندی، مفاد اور برتری کا جذبہ پیدا ہوا تو اختلافات اور ظلم کا آغاز ہوا۔
صدر ایران نے کہا کہ صراط مستقیم اور ہدایت کا راستہ یہی ہے کہ انسان حق پر عمل کرے، ظلم اور زیادتی سے بچے، کسی کا حق پامال نہ کرے اور لوگوں کی خدمت کو اپنا مقصد بنائے۔ تمام انبیاء کی دعوت کا بنیادی پیغام یہی رہا ہے۔
ڈاکٹر پزشکیان نے تاریخ میں ظالم اور جابر قوتوں کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری تاریخ گواہ ہے کہ قلدری، زور زبردستی اور ظلم کرنے والے بالآخر تباہ ہوئے۔ قیامت کے دن انسان سے اس بات کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ اس نے اپنے ہم نوع انسانوں کی خدمت کی یا نہیں۔ اگر کوئی شخص مظلوم کا ہاتھ نہ تھامے، غریب اور ستم رسیدہ انسان کی حمایت نہ کرے یا کسی پر ظلم کرے تو اسے اس کا جواب دینا ہوگا، خواہ وہ ایک عام فرد ہو، خاندان کا سربراہ ہو یا حکمران۔
انہوں نے سورۂ ماعون کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم میں دین کو جھٹلانے والے کی ایک علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ حتیٰ کہ ان لوگوں کے لیے بھی وعید بیان کی گئی ہے جو نماز پڑھتے ہیں لیکن اپنی نماز سے غافل ہیں اور ریاکاری کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عبادت کا مقصد صرف ظاہری اعمال نہیں بلکہ یتیم، غریب اور محروم انسانوں کی مدد اور ان کا ہاتھ تھامنا بھی ہے۔
صدر پزشکیان نے تقویٰ کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ متقی انسان اس سوار کی مانند ہے جو ایک رام گھوڑے پر سوار ہو، لگام اس کے ہاتھ میں ہو اور وہ اپنے مقصد کی طرف درست راستے پر آگے بڑھ رہا ہو۔ انسان کا غلطی اور انحراف سے بچتے ہوئے درست سمت میں حرکت کرنا ہی تقویٰ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر انسان، خواہ اس کا تعلق کسی بھی دین، مذہب، نسل، جنس یا قوم سے ہو، اگر وہ درست راستے پر چلتا اور ظلم و خطا سے اجتناب کرتا ہے تو وہ متقی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف شکلوں اور قوموں میں پیدا کیا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچانیں اور ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزاریں، جبکہ اللہ کے نزدیک برتری کا معیار تقویٰ اور درست کردار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف ادیان اور مکاتبِ فکر اسی حقیقت کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتے ہیں۔
ڈاکٹر پزشکیان نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ایران امریکہ اور صہیونی حکومت کے مقابلے میں اس لیے کھڑا ہے کہ ہم دھمکی اور زور زبردستی کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے۔ ہم مظلوموں کے حقوق پامال نہیں کریں گے اور ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دیں گے؛ یہ ہمارے عقیدے اور اصول کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ قومیں آزاد اور خودمختار ہوں۔ وہ اپنی پالیسیوں اور عزائم کو دوسروں پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور پوری کوشش کرتا ہے کہ ہم اپنے عوام کی خدمت نہ کر سکیں۔ انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے بعد سے ایران کے خلاف سازشوں اور جنگی اقدامات میں مسلسل اضافہ کیا گیا اور ملک کے اندر اختلاف اور تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ اپنے مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔
صدر ایران نے سوال اٹھایا کہ آخر کس نے یہ حق دیا ہے کہ کوئی حکومت پوری دنیا کے لیے فیصلے کرے اور اپنے مذموم عزائم کو دوسرے ممالک پر مسلط کرے؟ کیا ایک طاقتور حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پوری دنیا سے اپنی اطاعت کا مطالبہ کرے؟ انہوں نے کہا کہ ایران اسی طرزِ عمل کے خلاف کھڑا ہے اور جب تک زندہ ہے حق و انصاف کی تلاش جاری رکھے گا اور ظلم، ستم اور قلدری کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔
ڈاکٹر پزشکیان نے ہندوستانی صنعت کاروں اور تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام اور کاروباری طبقے باہمی اور صحت مند روابط کے ذریعے ایک دوسرے کی ترقی میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہمارا مقصد ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں انسانوں کو رفاہ حاصل ہو اور وہ ظلم، استحصال اور استعمار سے دور آزادانہ زندگی گزار سکیں۔
انہوں نے ایران اور ہندوستان کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان روابط باہمی یکجہتی، اتحاد اور انسجام کو فروغ دے سکتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے صمیمیت، انسانیت، محبت اور دوستی پر مبنی ایسا ماحول تشکیل دے سکتے ہیں جس میں سب مل کر ترقی کریں۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران اور ہندوستان دونوں ہزاروں سال پرانی تہذیب و ثقافت کے حامل ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کی تاریخ اور ثقافت سے سیکھنا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہندوستانی مذہبی رہنماؤں، دانشوروں اور تاجروں کے ساتھ یہ روابط دونوں ممالک کے درمیان قربت، باہمی وابستگی اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کا باعث بنیں گے۔









آپ کا تبصرہ