حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے شہر بوئین زہرا کے امام جمعہ حجت الاسلام والمسلمین اسد اللہ رضوانی نے اس شہر میں منعقدہ نشست ’’ مبلغاتِ امین‘‘کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا: مبلغین کا عوام بالخصوص اسٹوڈنٹس سے زیادہ رابطہ رہتا ہے، اس لیے آپ کو چاہیے کہ نوجوان نسل کے دینی شبہات کو سامنے لانے اور ان کی وضاحت و تشریح کے لیے بھرپور کوشش کریں۔
امام جمعہ بوئین زہرا نے کہا: جمہوریہ اسلامی ایران کے مقدس اسلامی نظام کے دشمن دین اور اسلام کے بارے میں مختلف شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس سلسلے میں آپ کی ذمہ داری نہایت اہم اور حساس ہے۔
انہوں نے قرآن کریم کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: قرآن کے حوالے سے پرکشش اور مؤثر مواد پیش کیا جائے اور اسے تعلیم و تربیت میں خصوصی توجہ دی جائے تاکہ تربیت پانے والی نسل معاشرے کی رہنمائی کرنے کے ساتھ اس میدان میں خود بھی ثابت قدم رہے۔
حجت الاسلام والمسلمین رضوانی نے مزید کہا: نوجوانوں کے ذہن میں شبہ آسانی سے پیدا ہو جاتا ہے لیکن اسے دور ہونے میں وقت لگتا ہے، اس لیے سوالات اور شبہات کا جواب اس انداز میں دیا جائے کہ نوجوانوں کے ذہن میں موجود شبہات مکمل طور پر دور اور حل ہو جائیں۔

امام جمعہ بوئین زہرا نے کہا: نوجوانوں کے دینی سوالات اور شبہات کا دقیق، تخصصی اور ان کی فکری سطح و ضروریات کے مطابق جواب دینا انہیں دینی مباحث، نماز کی ادائیگی اور مسجد میں حاضری کی طرف مزید راغب کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ ہمارا مخاطب علمی اور فکری اعتبار سے کس سطح پر ہے اور اس کی ضروریات کیا ہیں۔ اس کے بعد مخاطب کی ضرورت اور فہم کی سطح کے مطابق مواد تیار کرکے پیش کرنا چاہیے۔
امام جمعہ بوئین زہرا نے کہا: نوجوانوں کے شبہات کا جواب دینے کے لیے مدارس میں مبلغین و مبلغات کی موجودگی ضروری ہے۔ تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ نوجوان نسل دینی مباحث کو قبول کرتی ہے اور ان سرگرمیوں کا خیرمقدم بھی کرتی ہے۔









آپ کا تبصرہ