ہفتہ 19 ستمبر 2026 - 18:27
علماء کی ذمہ داری ہے کہ نوجوان نسل کی ایسی تربیت کریں کہ اپنے ملک و ملت کی خدمت کے لائق بن سکین: حجۃ الاسلام والمسلمین حکیم الٰہی

حوزہ/ گھوسی مئو کے مدرسہ حسینیہ میں اصلاحِ معاشرہ، دینی تربیت اور نوجوان نسل کی رہنمائی کے موضوع پر ایک روزہ تعلیمی و اصلاحی جلسہ منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں علماء، واعظین، خطباء، ذاکرین اور دانشوران نے شرکت کی۔ مقررین نے علماء کی ذمہ داری، علم کی اہمیت، نوجوانوں کی تربیت اور عزاداری کے تحفظ پر اظہارِ خیال کیا، جبکہ اختتام پر اصلاحِ معاشرہ سے متعلق 12 نکاتی تجاویز پیش کی گئیں، جنہیں شرکائے جلسہ نے منظور کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بڑا گاوں گھوسی مئو/ اصلاح معاشرہ کی ضرورت و اہمیت کے پیش نظر مفکر اسلام، مفسر قرآن، مدافع ولایت حضرت علامہ سید عقیل الغروی کی نگرانی و رہنمائی میں بتاریخ ۱۸؍ستمبر بروز جمعہ بوت ۳؍بجے سہ پہر تا ۹؍بجے شب مدرسہ حسینیہ گھوسی میں مجمع علما ئوواعظین پوروانچل اور مدرسہ حسینیہ گھوسی کے اشتراک و تعاون سے ایک روزہ تعلیمی و تربیتی و اصلاحی عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس میں مہمان ذی وقار، خطیب خصوصی حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نمائندہ ولی فقیہ برائے ہند نے اپنے خطاب کے دوران فرمایا کہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ نوجوان نسل کی ایسی تربیت کریں کہ وہ اپنے ملک و ملت کی بہترین خدمت کے لائق بن سکین ۔

مکمل تصاویر دیکھیں:

مدرسہ حسینیہ گھوسی میں مجمع علماء و واعظین پوروانچل کے زیر اہتمام ایک روزہ تعلیمی و تربیتی و اصلاحی عظیم الشان جلسہ کا انعقاد

انہوں نے شیعہ معاشرہ کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ معاشرہ کو اتنے بیش بہا سرمایے حاصل ہیں جن سے اکثر سماج محروم ہیں قران سرمایہ ہے، اہل بیت سرمایہ ہیں، فاطمہ زہرا سرمایہ ہیں، حضرت ابوالفضل العباس سرمایہ ہیں، حضرت زینب سرمایہ ہیں۔، سکینہ بنت الحسین سرمایہ ہیں، معصومہ قم سرمایہ ہیں، امام زمانہ سرمایہ ہیں ان سب کی ہم سب کو قدر کرنا اور ان کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔گھوسی مئو میں نمایندہ رہبر معظم برائے ہند حجۃ الاسلام والمسلمین حکیم الٰہی کا گھوسی پہونچنے پر پوروانچل کے علماء و مومنین نے زبردست شاندار والہانہ استقبال کیا ۔

علماء کی ذمہ داری ہے کہ نوجوان نسل کی ایسی تربیت کریں کہ اپنے ملک و ملت کی خدمت کے لائق بن سکین: حجۃ الاسلام والمسلمین حکیم الٰہی

جلسہ کو لندن سے آنلائن خطاب کرتے ہوئے معروف خطیب حجۃ الاسلام و المسلمین عقیل الغروی نے فرمایا کہ جب تک دنیا میں انسانی سماج کا وجود رہے گا اصلاح کی ضرورت بھی جاری رہے گی۔جب تک خیر و شر باقی رہیں گے اصلاح کی ضرورت بھی باقی رہے گی۔علامہ نے مولا علی علیہ السلام کا معروف قول پیش کیا کہ ’’اللہ نے جاہلوں سے سیکھنے کا عہد بعد میں لیا، پہلے علماء سے یہ عہد لیا کہ وہ جاہلوں کو علم سکھائیں‘‘لہذا جاہل تو شرارت کریں گے مگر علماء کا فرض ہے کہ صبر کے ساتھ ان کو علم سکھائیں۔ مولانا موصوف نے مزید فرمایا کہ عزاداری امام حسین علیہ السلام خود مشعر اسلام ہے ۔یعنی عزاداری بذات خود اسلام کی ایسی علامت اور نشانی ہے جو اسلام کے وجود و بقا اور حقیقی پیغام کو دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے۔ حجت الاسلام عقیل الغروی نے قریب نصف گھنٹہ تک خطاب فرمایا جو جلسہ گاہ میں نصب کی گئی ایل سی ڈی بڑی سائز کی اسکرین پر مکمل خطاب لائیو نشر کیا گیا۔جسے تمام حاضرین و سامعین نے بخوبی بغور دیکھا بھی اور سنا بھی۔

علماء کی ذمہ داری ہے کہ نوجوان نسل کی ایسی تربیت کریں کہ اپنے ملک و ملت کی خدمت کے لائق بن سکین: حجۃ الاسلام والمسلمین حکیم الٰہی

ان کے علاوہ متعدد علماء نے مختلف موضوعات پر خطاب کئے جن میں مولانا ناظم علی واعظ، دور حاضر میں علماء کی ذمہ داریاں۔ مولانا سید تقی حیدر نقوی دہلی، اصلاح معاشرہ۔مولانا عرفان عباس، معاشرہ میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فقدان۔ مولانا مظاہر حسین، تحریفات عزاداری اور ہماری ذمہ داریاں۔مولانا منہال رضا خیرآبادی، غیر ضروری رسم و رواج کا فوری حل۔مولانا حسن رضا، دور حاضر میں عزاداری اور عزادار۔مولانا رئیس حیدر واعظ، قوم کی ترقی بغیر علم کے ممکن نہیں۔مولانا محمد مہدی حسینی، تعلیم دور حاضر میں ہمارے معاشرہ کی اہم ضرورت۔مولانا نسیم الحسن، عزاداری ہماری وراثت اور اس کا تحفظ کے موضوع پرایمان افروزو پربصیرت شاندار تقریریں کیں۔

علماء کی ذمہ داری ہے کہ نوجوان نسل کی ایسی تربیت کریں کہ اپنے ملک و ملت کی خدمت کے لائق بن سکین: حجۃ الاسلام والمسلمین حکیم الٰہی

پروگرام کے کنوینر الحاج مولانا ابن حسن املوی واعظ سربراہ مجمع علماء وواعظین پوروانچل نے جلسہ میں ۱۲؍نکات پر مشتمل منظور شدہ تجاویز پیش کیں ۔پروگرام کے سرگرم کارکن مولانا کاظم حسین مظہری منیجر مدرسہ حسینیہ بڑا گاوں گھوسی نے ہدیہ امتنان و تشکر پیش کئے۔پروگرام کی صدارت مولانا ناظم علی واعظ خیر آبادی سربراہ جامعہ حیدریہ خیر آباد نے فرمائی ۔مولانا شفقت تقی قمی نے بحسن و خوبی نظامت کے فرائض انجام دئے۔

دونوں نشستوں کے آغاز میں مولانا فیض عسکری نے بہترین لحن و لہجہ میں قرآن مجید کی تلاوت کی۔ اور مدرسہ حسینیہ کے طلبہ و طالبات نے اجتماعی طور پر مذہبی ترانہ(تواشی) پیش کیا۔ مولانا محمد وسیم قمی نے منقبت خوانی کی۔

علماء کی ذمہ داری ہے کہ نوجوان نسل کی ایسی تربیت کریں کہ اپنے ملک و ملت کی خدمت کے لائق بن سکین: حجۃ الاسلام والمسلمین حکیم الٰہی

یہ پروگرام ۹؍بجے شب انتہائی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ۔اس موقع پر پوروانچل علاقے کے قریب ڈھائی سو سے زیادہ علماء و واعظین اور خطباء و ذاکرین و دانشوران نے جلسہ میں شرکت کی۔پروگرام کے انتظامی امور کے سلسلہ میں تمام علماء ودانشور اور مہمانوں کے استقبال، قیام وطعام، و ضیافت وغیرہ کی تمام تر خدمات مدرسہ حسینیہ گھوسی کے اساتذہ و طلبہ نے نہایت محنت، لگن اور عمدگی و تندہی سے انجام دئے۔

اس موقع پر مدرسہ حسینیہ گھوسی کی شاندار سہ منزلہ عمارت خوبصورت اور برقی آرائش و زیبائش سے بقعہ نور بنی ہوئی تھی۔آخر میں پروگرام کے کنوینر مولانا ابن حسن املوی واعظ نے بارہ نکاتی تجاویز پیش کیں جو شرکائے جلسہ نے اتفاق رائے سے پاس کی ہیں اور مولانا کاظم حسین مظہری نے جملہ علماء و دنشوران اور مومنین کا پر خلوص شکریہ ادا کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha